طبقاتی تقسیم 

 طبقاتی تقسیم 

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

انسانی زندگی مسلسل ارتقا ئی عمل سے گزر رہی ہے دن بدن انسانی جدید سازوسامان سے آراستہ ہو رہی ہے۔سائنس کی ترقی ابھی مکمل نہیں ہوئی اس پر کام آج بھی بڑی تیزی سے جاری ہے دوسری جا نب سرد جنگ کے بعد اس کے اثرات پوری دنیا میں پھیل ہوئی ہے۔مغرب میں فلاحی ریاستوں نے بنیادی ضروریات اپنے شہریوں سے چھین لئے ہیں۔سرمایہ داری اور انسانی زندگی کے مابین شدید کشمکش آج بھی جاری ہیں۔دنیا کے بیشتر ممالک جمہوریت کے نام پر اپنے شہریوں کو تھوڑا کچھ سہولیات دے رہی ہے مگر پاکستان جیسے بدقسمت ترقی پزیر ملک کے شہری اج بھی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہیں۔

پاکستان کے چاروں صوبوں سمیت فاٹا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں لوگوں کے حالات قابل رحم ہیں۔سندھ کے تھر میں آج بھی بچے روٹی اور پانی سے بلبلاتے ہوئے جان دے رئے ہیں خیبرپختونخواہ حالت جنگ میں ہیں بلوچستان میں محرومی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہیں۔گلگت بلتستان کے عوام اٹھاسٹھ سالوں سے نوابادیاتی نظام کے سکنجے میں جھکڑے ہوئے ہیں لیکن اس تما م صور ت حال کے باوجود حکمرانوں اور بیوروکریسی کے کردار میں ذرا برابر بھی کوئی کمی نہیں ا رہی ہیں۔

اسلام آباد شہر میں سپریم کورٹ اف پاکستان،وزیر اعظم ہاوس،مختلف ممالک کے سفیروں کے قیام گاہ،سرکاری اور غیر سرکاری دیگر اشرافیہ طبقہ کے اس شہر میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اج بھی بنیادی انسانی حقوق سے یکسر محروم ہیں۔روٹی،کپڑا،مکان،تعلیم سمیت دیگر سہولیات سے محروم ان بستیوں کو کچھی آبادیوں کے نام سے لوگ یاد کرتے ہیں۔یوں تو وہاں انسان رہتے ہیں مگر سی ڈی اے اور دیگر ملکی ادارے ان کو پختون،پنجابی اور عیسائی کے طور پر جانتے ہیں۔

اسلام اباد جہاں کروڑوں کھربوں کے گھروں میں صرف دوفیصد اشرافیہ رہتے ہیں وہاں ان کچھی بستیوں کے رہائشی اج بھی کچے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان کو کچھے گھروں سے بھی نکالا جا رہی ہیں اور کہا یہ جارہا ہے کہ یہ افغان ہیں جب اس کا توڈ پیش کیا گیا تو سی ڈی اے نے بیان دغا کہ عیسائی آبادی کی وجہ سے مسلمان ابادی خطرہ میں پڑگئی ہے اور سیکورٹی خطرہ ہیں۔

کئی سال پہلے جب اسلام اباد کو بنانے لگے تو اس وقت یہ محنت کش طبقہ خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقوں ،ہزارہ،جنوبی پنجاب سے یہاں اباد ہوگئے ہیں اور اپنے پسینے سے اس شہرے اقتدار کو تعمیر کئے۔مختلف علاقوں میں یہ محنت کش آباد ہوگئے اور چالیس سالوں سے اس شہر کے این سی پی شہری بن کے زندگی گزار رہے ہیں۔یہ اقغانی ہے نہ ہندستانی،پاکستان کے قومی شناختی کارڑ ان کے پاس ہیں مگر اپنے گھر سے چند دور اسلام اباد کے پوش علاقوں کے رہنے والے پاکستانیوں جیسے سہولیات ان کو میسر نہیں۔اس کے باوجود آج بھی ان لوگوں کی بہت بڑی تعداد اشرافیہ کے گھروں سے لیکر اسلام آباد کے صفائی پر معمور ہیں۔اگر ایک ہفتہ کیلئے یہ کام کرنا بند کرئے تو اسلام اباد کوڑا کرکٹ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔کچھی آبادیوں میں رہنے والے ان محنت کشوں کو سی ڈی اے قبضہ مافیا،وزیر داخلہ دہشت گرد اور بعض میڈیا گروپ افغانی قرار دنے پر تلے ہوئے ہیں۔

گزشتہ سال سی ڈی اے نے بازوربازو ائی الیون کے آبادی مسمار کئے۔عوامی ورکرز پارٹی کی جانب سے کیس دائر کرنے پر باقی ابادیوں کو نہیں گرا سکے اور وہ کیس آج بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

قارئین کرام گزشتہ دنوں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے طلباوطالبات کے ایک فورم (اسلام آباد سٹریٹ سٹور) نے کچی ابادی -10اور E-11 میں کیمپ لگائے تھے۔نسٹ کے شاگردوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کچی ابادی کے ان مکینوں میں کپڑے اور لنگر تقسیم کئے۔بچوں کیلئے سیٹشنری کے سامان تقسیم کیا گیا۔ اس دوران طالبات نے چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ماتھے پر مختلف نقشے بنا کر ان کو خوش کرنے کی کوشش کئے۔اس کیمپ کے اخر میں نسٹ کے ان رضاکاروں نے بچوں میں اعتماد پیدا کرنے کیلئے ان کے ساتھ کھیل بھی کھیلے۔

اس کیمپ کے انچارچ حا جیلہ تھی ۔کیمپ کے سیکنڈ انچارچ کامل احسان سے جب میری بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ نسٹ کے طلبا وطالبات اسلام اباد میں غریبوں کے بارے میں سوچ بچار کر رہے ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت مختلف پروجیکٹ غریبوں کے ساتھ ہمدردی کے لئے چلا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ کیمپ بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔کامل کا کہنا تھا کہ انہوں نے D-12 اورE-11 کے رہائشیوں کے ساتھ خوشیاں بانٹنے کیلئے اج یہاں پر جمع ہوگئے ہیں ۔گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی طالبہ حسینہ امیر کا کہنا تھا کہ اسلام اباد کے کچی ابادیوں میں رہنے والے افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اس تقسیم کو ختم ہونا چاہے اور ان کے بچوں کو بھی پڑنے لکھنے کے سہولیات ملنی چاہیں جب تک غریب طبقے کو نظرانداز کیا جائے گا تو معاشرے میں امن ،خوشحالی اور بھائی چارگی کو فروغ نہیں مل سکتی ہیں۔

ایک طرف حکمران ،سرکاری و غیر سرکاری ادارے ہیں جن کو شاہد یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ اس شہر میں لوگ آج بھی روٹی،کپڑا ،مکان اور تعلیم سمیت دیگر بنیادی سہولیات کیلئے ترس رہے ہیں ۔شاید ان کے طر ز حکمرانی میں عوام کے ٹیکس سے بیرونی و اندرونی دوروں کا مزہ لینا ہے ۔غریب کے بجٹ سے جیب بھرنا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر کمیشن وصول کرکے اپنے اولادوں کیلئے جائیداد بنانا ہے۔سامراجی طاقتوں کے ایجنٹ پاکستانی خاندانی سیاستدانوں نے شاید یہ قسم کھا رکھی ہے کہ اس ملک میں لوٹ کھسوٹ کرکے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرے اور سامراجی قوتوں کے آلہ کار بن کر اس دیس کے محنت کشوں کے زندگی اجیران کردے۔

بالعموم اس نفسانفسی کے دور میں انفرادی خواہشات کے طابع معاشرے میں اور بالخصوص نسٹ جیسی تعلیمی ادارے کے طلبہ و طالبات کے مثبت اور برابری کے سوچ پاکستان کے لئے اور یہاں کے محنت کش طبقہ کیلئے امید کی کرن ہیں۔انسانیت سے محبت کرنے اور بنی نوع انسان کے درمیان غیر انسانی تقسیم کو تسلیم نہ کرنا اس مادیت پسندی کے دور میں بہت مشکل کام ہے۔تاج برطانیہ نے ہندوستان کو تقسیم کیا اور پاکستان کو جاگیرداروں کے حوالہ کرکے چلا گیا۔سیاسی اداروں بالخصوص طلبہ سیاست کو اس ملک میں پنپنے نہیں دیا گیا ۔تعلیمی ادروں میں ضیاالحق کے زمانے میں اسلحہ کلچر متعارف کرائی گئی۔تعلیمی نصاب میں انسانی ہمدردی کے جگہ میں فرقہ وارانہ مواد اور تشدد کو اجاگر کیاگیا۔ خاض سوچ کے ذریعے ریاست کو انتہاپسندوں کیلئے نرسری کا درجہ دیا گیا۔اس ملک میں بہتری کیلئے سوچنے پر تادم تحریر پابندی عائد ہیں جبکہ اپ چائیے تو مخالف نسل،فرقہ اور سوچ رکھنے والوں کے خلاف سرے بازار نفرت کا اظہار کرسکتے ہوں بشرط کہ اس نفرت کے ساتھ اپ ریاست کے نااہلی پر سوال نہ اٹھاؤ۔مخالف کو نچلے درجے کے شہری،کافر اور وطن دشمن کہنے کے ساتھ اگر اپ فوجی و سول افسرشاہی کے ہر اقدام کی غیر مشروط پر حمایت کرئے تو اپ کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ضرب عضب،نیشنل ایکشن پلان،پاکستان پروٹیکشن بل ،اے ٹی اے و دیگر قوانین سے مکمل محفوظ رہیں گے۔

اخر کار اس ملک کے شہریوں کو سوچھنا چائیے کہ نجات کا راستہ کونسا ہے۔نسٹ کے ان طلبہ و طالبات نے جس اصلاحی کام کا اغاز کیا ہے وہ قابل ستائش عمل ہے مگر کیا ہم طلباوطالبات،صحافی حضرات،دانش وروں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والوں کے ان کاموں سے یہ خونی نظام بدلے گا؟کیا ہم کچی آبادیوں سے لیکر تھر کے انسانوں کا مدد کر پائیں گے؟کیا اس عمل سے وزیر ستان میں کوئی تبدیلی ائے گی؟کیا بلوچستان کے محرومیوں کو ختم ہونے میں مدد ملے گی؟کیا گلگت بلتستان اور کشمیر کے انسانوں کو بنیادی انسانی حقوق اور اس نوآبادیاتی نظام سے چھٹکارا مل سکے گی؟ یقیناً اس تمام سوالوں کے حل طلب جواب اس طرح کے اصلاحی کاموں سے ملنا مشکل ہے۔اس سرزمین میں غیر انسانی اس سماج کو تبدیل کرنے کیلئے ہمیں اس ملک کے 98 فیصد عوام کو لیکر جدوجہد کرنا پڑے گی۔جس میں طلبہ،کسان،مزدور،ہاری،مظلوم اقوام و فرقوں کے ساتھ مختلف اکائیوں کی نمائندگی ہوں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔