ضلع کوہستان کے علاقے داسو میں واقع مرکزِ صحت بغیر سٹاف اور ادویات کے “چل رہا ہے”

کوہستان ( شمس الرحمن کوہستانیؔ )کوہستان میں صحت کے انصاف کی قلعی کھل کر عوام کے سامنے آگئی ہے ، لاکھوں آبادی کیلئے واحد دیہی مرکز صحت داسو بغیر سٹاف اور ادویات کے چلنے لگا۔معمولی انجری کے مریضوں کیلئے مرہم پٹی تک موجود نہیں ، عوام کسی مسیحا کے منتظر،مریض اور سٹاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔ 18پیرامیڈیکس کی آسامیاں عرصہ دراز سے خالی، کوئی لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں ۔ تفصیلات کے مطابق کوہستان کی سب سے بڑی آبادی والی دو تحصیلوں داسو اور کندیا کی عوام صحت کی سہولیات سے بدستور محروم ہیں ۔اس جدید دور میں بھی زخمیوں کو جڑی بوٹیوں کا سہارا لینے پڑ رہاہے ۔ اکلوتے آر ۔ایچ ۔ سی داسو میں مریضوں کو دینے کیلئے دوا نہیں ۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا دعویٰ صحت کا انصاف کی قلعی بری طرح کھل گئی ہے ، ہسپتال میں پانی اور مشینری ندارد ہے ۔ عرصہ دراز سے مذکورہ ہسپتال میں اٹھارہ پیرامیڈکس کی آسامیاں خالی ہیں جن پر بھرتیاں نہیں کی جارہیں ، جن میں نو فیمیل اور نو میل پیرمیڈکس کی آسامیاں شامل ہیں ۔ گزشتہ روز آر ایچ سی داسو کے باہر مقامی پیرامیڈکس نے میڈیا کو بتایا کہ اُن کی آفیشل ڈیوٹی آٹھ گھنٹے ہے جب کہ اُن سے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی لیجاتی ہے ۔ ہسپتال میں سہولیات کا فقدان ہے نہ جدید مشینری ہے اور نہ باتھ رومز میں استعمال کیلئے پانی کا بندوبست موجود ہے ۔روزانہ ہسپتال آنے والے مریض شدید اذیت کا شکارہیں ۔ مقامی لوگوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ داسو کے ہسپتال کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

کیٹاگری میں : صحت