ہنگامی دوروں کی دھول بیٹھ گئی، سکولوں کی حالت نہ بدلی

ہنگامی دوروں کی دھول بیٹھ گئی، سکولوں کی حالت نہ بدلی

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(نامہ نگار)وزیر تعلیم گلگت بلتستان اور ڈائریکٹرتعلیم بلتستا ن کا سکول کا دورہ اور اعلان محض ہوائی ثابت ہوا۔محکمہ تعلیمات عامہ کی عدم دلچسپی اور مبینہ غفلت گرلز پرائمری سکول شگر مرکنجہ مسائلستان بن گیا ۔ سکول میں طالبات کیلئے نہ فرنیچر ہے نہ بجلی اور نہ ہی پانی،بچیاں فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایس ایم سی پرائمری سکول مرکنجہ وزیر محمد علی،سابق ممبر یونین کونسل مرکنجہ محمد اسماعیل،عنایت حسین اور حاجی مصطفی جو نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم کی مبینہ غفلت اور عدم دلچسپی کی وجہ سے پرائمری سکول مرکنجہ مسائل کا گڑھ بن چکا ہے۔فرنیچر اور کلاس کی قلت کی وجہ سے سردیاں ہو یا گرمی بچیاں فرش پر باہر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔جبکہ سکول میں بجلی اور پانی کا کوئی بندوبست نہیں۔سکول کی بچیوں کیلئے دو واش روم ممبر صوبائی اسمبلی کی ذاتی کوششوں سے غیر سرکاری ادارے کی جانب سے تعمیر کیا جا چکا ہے جبکہ ایک کلاس روم کا ادھوری رہ گیا ہے۔ ان لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ محکمہ تعلیم کے حکام کی ملی بھگت سے ایک ٹھیکیدار نے اس کلاس روم کی تعمیر کیلئے مختص فنڈ ہڑپ کرچکا ہے۔جبکہ اس کا سکول کی تعمیر سکا دور سے بھی کوئی لینا دینا نہیں۔صوبائی وزیر تعلیم حاجی ابراہیم ثنائی اور ڈائریکٹر ایجوکیشن ڈاکٹر مجید ن گذشتہ ماہ اسی سکول کا دورہ کیا تھا جہاں انہیں سکول کی حالت زار اور مسائل سے آگاہ کردیا گیا تھا۔ جس پر دونوں حضرات نے سکول کی مسائل فوری حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن ایک ماہ گزرجانے کے بعد بھی مسائل جوں کی توں ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کے حکام بالا سے سکول کی حالت زار کا نوٹس لینے اور مسائل فوری حل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔