تیرے پاس میرا دل ہے

تیرے پاس میرا دل ہے

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محمد جاوید حیات

دل دینے اور لینے کا یہ سودا آسان نہیں ہے ۔نہ دل دینا آسان ہے نہ دل لینا آسان ہے ۔۔ البتہ دل لینا دل دینے سے زیادہ مشکل ہے ۔دنیا میں دل والے انگلیوں پہ گنے جاتے ہیں ۔ان کی دستانیں بھی عجیب ہیں ۔دل لینے والے میں وہ اوصاف ،وہ رعب داب ،وہ شان و شوکت ہونے کی ضرورت ہو تی ہے ۔کہ اسے دیکھ کر دل دینے والے کا دل تڑپ جائے ۔روح لرز اٹھے ہوش ٹھکانے نہ رہے۔سکون غارت ہو ۔تو خواب بن جائے ۔جس کو دل دیا جاتا ہے تو یہ بڑے دل گردے کا کام ہے ۔دل لینے والا اس کی قدرو قیمت سمجھے ، اس کا احترام کرے ۔اس کو اپنے لیئے تحفہ سمجھے ۔۔میں حسب معمول نماز عصر کے بعد بازار ہو نکلا ۔با زار کے مین چوک پر بھیڑتھی ۔ایک سیاسی لیڈر جذبات میں بہے جارہا تھا ۔عوام کو ظالم ،جاہل،اندھا،نمک حرام تک کہہ رہا تھا ۔اور حکومت کا کرتا دھرتا ایک ایک کرکے گن رہا تھا ۔مگرروڈ،مہنگائی،بجلی،پائپ لائین، کرایوں میں اضافہ،پولیس کی غفلت،موٹر سائیکلوں کی چوری،سفارش اقربا پروری،خرد برد کا ذکر نہیں کر رہا تھا ۔ذکر کرنے پر سیخ پا ہو رہا تھا۔ کہہ رہا تھا ۔۔۔بازار میں سبزی ہے ۔۔خرد و نوش کے سامان ہیں ۔۔۔آمد و رفت کے ذرائع ہیں ۔نوکریاں ہیں ۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔اتنے میں ایک سفید ریش مزدور اپنی پوٹلی اٹھائے بھیڑ میں سے کسک کسک کر کے لیڈر کی ناک کے نیچے تک آگیا اور ذرا اونچی آواز میں کہا ۔۔بیٹا تم میرے بیٹے کی عمر کے ہو ۔ لازم ہے کہ میں تیرے باپ کی عمر کا ہوں ۔۔میں ان پڑھ مزدور ہوں ۔سمجھ بوجھ سے عاری ،تعلیم سے عاری ،سیاست کی خو بو سے بے خبر ،الفاظ کے گورکھ دھندوں سے نابلد ،فطرت کی رنگینیو ں سے نااشنا انسان ہوں۔۔مگر بیٹا عمر کے تجربے کی بنیاد پر دل دینے لینے ،ضمیر کی آواز،پسند نا پسند ،اچھے برے ، مناسب غیر مناسب ،سچ جھوٹ،ظلم انصاف کی باریکیوں کو محسوس کرتا ہوں ۔۔میں سب کچھ سمجھتا ہوں بیٹا کہ سڑکیں کیوں نہیں بنتی ہیں ۔وجہ بھی بتا سکتا ہوں ۔مگر یہ نقار خانہ ہے ۔میں طوطا ہوں ۔۔میں محسوس کرتا ہوں کہ تو مصنوعی جذباتی ہو رہے ہو ۔وہ حقیقت گول کر جاتے ہو جو اصل حقیقت ہے ۔۔کہتے ہو کہ بازار میں سبزی ہے مگر سبزی کی ’’قیمت زیادہ ‘‘کیوں ہے کہنے پر جواب گول کر جاتے ہو ۔بیٹا جب تم اپنا تعارف کراؤ گے تو لازم ہے کہ اپنے آپ کو لیڈر کہو گے ۔اپنی پارٹی کو حکمران کہو گے ۔۔یہ بھی لازم ہے کہ تجھے لیڈر بنانے والے یہ سب غریب غرابا ء تمہیں ’’دل‘‘دے چکے ہیں ۔تو نے ضمیر مانگا ان سادہ لوحوں نے ’’دل‘‘دے دیا ۔ان کے دلوں اور ایک اور بڑے آدمی کے دل میں کوئی فرق نہیں ہے ۔دل دل ہی ہوتا ہے بیٹا اصلی نقلی کوئی نہیں ہوتا ۔۔مگر تم تو احسان جتاتے ہو ۔۔۔۔تم نے تو ہمارے دل خدمت کرنے کے عوض لے لیا تھا ۔۔یہ کوئی مذاق نہیں ہے ۔تمہارے پاس ہمارے دل ہیں ۔۔بڑا نکما ہوتا ہے وہ جو دل لے کے اس کی حفاظت نہ کرے ۔بیٹا یہ دل والے آپ سے پوچتے ہیں ۔کہ یہ سڑکیں خراب کیوں ہیں ۔ان کو ایسا بنانے والا آخر کون ہے ؟آج بائی پاس بنتی ہے دوسرے دن ترکول اترتی ہے ۔۔کیا تمہارے پاس آنکھیں نہیں ۔تم زمین پر قدم نہیں رکھتے ہو ۔۔بجلی کی وولٹیج صفر ہے ۔۔تمہاری اکھیوں میں بینائی ہے کیا ؟دفتروں میں کرپشن ہو تی ہے مگر تمہیں خبر نہیں ہوتا ۔۔دن دھاڑے لوگوں کی گاڑیاں غائب ہوتی ہیں ۔۔معمولی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا ۔غریب کا چولہا نہیں جلتا ۔حیران و پریشان ہے انگشت بدندان ہے ۔۔ان کی مچلتی آنکھیں تمہاری طرف ہیں ۔تو ’’دل‘‘لینے گلی گلی آئے تھے۔۔وہ تیرے وعدے اور یہ تیرے دعوے۔۔۔تو سوال گول کیوں کر جاتے ہو ۔۔تم جذبہ خدمت سے سرشار کیوں نہیں ہو ۔۔تم درد سے خالی کیوں ہو ۔۔اقتدار آزمائش ہے ۔کڑکتی دھوپ کی طرح ۔۔جس کی تپش میں لوگ جل جل جاتے ہیں ۔۔اصل میںیہ پیسہ دل والوں کا ہے ۔۔یہ دولت ان کی ہے ۔یہ حق ان کا ہے تم کس پہ احسان جتاتے ہو ۔۔سیاست دلوں کا کھیل ہے ۔۔سیاست دان دلوں میں تازہ ہوا بن کے اُترتا ہے ۔تب اس کو اس کا مقام ملتا ہے ۔فخر موجوداتﷺ مخلوقات کے دلوں میں اُتر چکے تھے قرآن نے ان کو اُمت کے لئے روؤف رحیم کہا ۔۔خلافاء گلی گلی بے چین پھیرا کرتے تھے ۔اور چیخ چیخ کر فرماتے کہ تمہارا حق ہم پر ہے۔۔۔گوشویرا ، موزیتنگ،لوتھر اور کتنے دلوں کا کھیل جاننے والے ہیں جن کو تم پسند کرتے ہو ۔۔تم انگریزی پڑھے ہوئے ہو ۔۔بیٹا مجنون دل لینے نکلا تو گلی گلی خاکسار پھرتا رہا ۔۔فرہاد تیشہ لے کے نکلا اور کہتے ہیں پہاڑ کاٹ کے دودھ کی نہر نکال لایا ۔۔۔خبردار تیرے پاس میرا دل ہے ۔۔میں نے ایک پرچی پر نہیں بلکہ اپنے دل پہ مہر لگا کے اس بکس میں ڈالا تھا ۔یاد رکھو دلوں کا یہ کھیل دلوں کا میل ہوتا ہے۔۔ورنہ یہ باریک تار ٹوٹ جاتا ہے ۔ایک آہ نکلتی ہے ایک دھواں اُٹھتا ہے ۔۔تب ایوان ایک لمحے میں زمین بوس ہوتے ہیں ۔اقتدار کی دھجیاں اُڑتی ہیں ۔تم اپنا محاسبہ کرناسیکھو بیٹا ۔۔ورنہ تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا ۔۔۔یہ جملہ کہتے ہوئے بوڑھے نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی تو سیاسی لیڈر اس کے دل کی امانت کے بوجھ تلے کچل گیا اوراس کا قد چھوٹے بونے کی طرح گھٹ گیا ۔۔۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔