یونیورسٹی آف چترال

یونیورسٹی آف چترال

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

خداخداکرکے طویل انتظا رکے بعد پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے مالی سال 2016-17ء کے بجٹ میں چترال میں ایک علیحدہ اور خودمختار یونیورسٹی کے قیام کو سالانہ ترقیاتی فنڈ یعنی اے ڈی پی میں شامل کیا ہے امید ہے کہ عنقریب یونیورسٹی کے لئے عمارت کی تعمیر پر کا م کا باقاعدہ آغاز ہو گا ۔ یا درہے ساڑھے چودہ ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ضلع چترال شرح خواندگی کے لحاظ سے صوبہ بھر میں نمایاں مقام کے حامل ہے ۔ اس سے قبل سابق دورحکومت میں چترال میں عبدالوالی خان یونیورسٹی مردان کاسب کیمپس چترال پولی ٹیکنکل کالج کی عمارت پر قبضہ جما کر اور شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کا کیمپس کرائے کی عمارت میں قائم کیا گیا تھاجو اب تک وہیں پر ہی موجود ہے شہید بے نظیر بھٹویونیورسٹی اپر دیر کا ایک کیمپس بونی میں بھی کرائے کے مکان میں قائم ہے ۔آفسو س کا مقام یہ ہے کہ نہ توعوامی نمائندگان زبوں حالی کا شکار ان اداروں کی جانب توجہ دینے کے لئے تیار ہے اور نہ ہی نام نہاد سول سوسائیٹی کا دہیاں اس جانب گامزن ۔ طالب علموں کا یہ حال ہے کہ ہزاروں روپے دے کران اداروں میں داخلہ تو لے رہے ہیں لیکن ان اداروں کی حالت اور تعلیمی معیار پر لب کشائی کے لئے وہ بھی تیار نہیں یونیورسٹیوں کے قیام کابنیادی مقصدعلاقے کے مسائل اورضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیق کا فروع ہوتا ہے ۔یونیورسٹی گریجویٹ مسائل ، وسائل اور مواقع کے پیش نظر منصوبہ بندی کرتے ہوئے علاقے کی تعمیر وترقی اور معاشی مواقع پیداکرنے میں کردار اداکرسکتے ہیں تاکہ غربت وافلاس کاخاتمہ ہوسکے ۔ لیکن ہمارے معاشرے میں تعلیم ایک فیشن بن گیا ہے چترال کے ہزاروں طالب علم صوبے اور ملکی لیول کے یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہے لیکن ان میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جو چترال کی ضرورت اور یہاں کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی استعداد رکھتاہو۔یہی حال چترال میں قائم یونیورسٹیوں کے کیمپسوں کا بھی ہے ان کیمپسوں کو قائم کرنے سے پہلے یہاں کے تھینک ٹینک اور ماہرین سماج سے رابطہ کرنے کی بجائے سیاست دانوں سے مشورہ لیاگیا یہی وجہ ہے کہ پانچ سال گزرنے کے بعد تعلیم کے نام پر خواندہ افراد کی کھیپ تو تیار ہوگئی لیکن مواقع کی عدم دستیابی کی وجہ سے یونیورسٹی ڈگری ہولڈربے روزگار ہے ۔ اب پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پارٹی چیرمین کی خصوصی ہدایت پر چترال میں علیحدہ اور خودمختار یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا پی ٹی آئی کی صوبائی اور ضلعی قیادت نے اس یونیورسٹی کی ساخت سے متعلق کوئی لائحہ عمل تیار کیا ہے کہ ادارے میں کون سے شعبے قائم کئے جائیں گے اس کے علاوہ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ یونیورسٹی کاقیام کہاں ہوگا؟

چترال مواقع کی سرزمین ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ مناسب منصوبہ بندی کی جائے ۔ پروفیسر اسرارالدین کا شمار بین الاقوامی شہرت کے حامل چترالی دانشوروں اور محقیقین میں ہوتاہے آپ چترال اور ہندوکش کی تاریخ وثقافت اور دفاعی اہمیت پر متعدد کتابین اور تحقیقی مقالے لکھے ہیں حال ہی میں ان کا نیا کتاب ’’تاریخ چترا ل کے بکھرے اوراق ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جس میں رقم طراز ہے ’’دراصل چترالیات کا موضوع ایک وسیع موضوع ہے اس پر سیر حاصل تحقیق کے لئے ایک مکمل تحقیقی ادارہ ہونا ضروری ہے اس ضرورت کے پیش نظر انجمن ترقی کہوار کی تحریک پر 1995ء میں تیسری بین الاقوامی ہندوکش ثقافتی کانفرنس کے شرکاء نے یہ قرارداد پیش کی تھی کہ’ چترال اسٹڈیز‘کاقیام عمل میں لایاجائے جس میں چترال کے مختلف تاریخی،ثقافتی ،جغرافیاتی ، ماحولیاتی ، لسانی اور دیگر موضوعات پر تحقیق کی جاسکے ۔ اس وقت کے پیپلزپارٹی کی حکومت نے اس تجویز سے اصولی اتفاق بھی کیاتھا اور اس کے لئے ابتدائی طورپر بیس لاکھ روپے کی منظوری دی تھی لیکن بعد میں بعض وجوہات کی بناپر اس منصوبہ پر پیش رفت نہ ہوسکی اب کم ازکم اگر چترال میں قائم شدہ بعض یونیورسٹیوں کے کیمپسوں میں چترالیات کا شعبہ کھول کے اس اہم کام کا آغا کیاجائے تو یہاں کی ایک دیرینہ ضرورت پوری ہوسکے گی۔

چترال امکانات اور مواقع کی سرزمین ہے پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے حوالے سے اس کا محل وقوع اس کی شاندار مستقبل کا ضامن ہے‘‘(تاریخ چترال کے بکھرے اوراق ،ص 254-55)۔

پروفیسر صاحب نے چترال کے شاندار ماضی سے متعلق جو پیشگوئی اور منصوبہ بندی کی جانب توجہ دلایا ہے اور چترال میں موجود مختلف یونیورسٹی کیمپسوں میں ’’شعبہ چترالیات ‘‘ کے قیام کا مطالبہ کیاہے۔ اگر پاکستان تحریک انصاف چترال کی پسماندگی کے خاتمے کے لئے واقعی سنجیدہ ہے تو چترال میں قائم ہونے والے یونیورسٹی میں ایسے شعبے قائم کیاجائے کہ وہ یہاں کی ضروریا ت کو پوراکرسکے ۔ مثلاََ چترال معدنی وآبی وسائل کے لحاظ سے مالامال ہے ارندو میں دامیل کے مقام پر بہتر ین معیارکا لوہا موجود ہے ، چترال کے مختلف مقامات پر یورنیم کے ذخائرکی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے ، یہاں کے مختلف علاقوں میں موجود سنگ مر مر بین الاقوامی معیار کے حامل ہیں اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں انتہائی قیمتی دھات اور قیمتی پتھروں کے ذخائر بھی موجود ہے ۔ چترا ل میں موجودجنگلات تباہی کے دھانے پرکھڑے ہیں ان جنگلات کوبچانے اور نئے جنگلات لگانے کے لئے جدید سائنسی اصولوں کو مدِ نظررکھتے ہوئے لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔آبی وسائل سے مالامال ضلع چترال میں ایک اندازے کے مطابق پندرہ ہزار میگاواٹ بجلی پیداکرنے گنجائش ہے ۔چترال اس لئے بھی مواقع کی سرزمین ہے کیونکہ یہ خطہ اپنی قدیم ترین ثقافتی ورثے اور امن پسندی کی وجہ سے نمایاں ہے نیز یہاں کے فطری مناظر بیرونی دنیا کی توجہ حاصل کرسکتے ہیں،یہاں صرف سیاحت کو فروع دے کر کثیر زرمبادلہ حاصل کیاجاسکتا ہے ۔

چترال اپنی جغرافیہ ،تاریخ اور ادب وآثارقدیمہ کے ذخائر کی وجہ سے بھی نمایاں مقام کے حامل ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان شعبوں کی ترویج کا منصوبہ بنایاجائے وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ چترال میں قائم ہونے والے یونیورسٹی میں چترالیات کے لئے باقاعدہ شعبہ قائم کیاجائے جہاں چترال کی ثقافت، ادب وشاعری، جغرافیہ العرض چترال سے متعلق مختلف موضوعات پر تحقیق ہو۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی میں ایک نرسنگ سکول کا قیام بھی عمل میں لایاجائے اوروہاں سے فارع طلبہ وطالبات کو یورپی ممالک کی جانب راغب کیاجائے کیونکہ ان ممالک میں نرسنگ کی مانگ بہت زیادہ ہے یورپی ممالک میں موجود نرسنگ کی مارکیٹ سے فائدہ اٹھا کروہ اپنے ،اپنے خاندان اور علاقے کی معاشی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔علاقے کی قدرتی وآبی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لئے شعبہ قائم کرنے کی ضرورت ہے جبکہ سیاحت وہوٹلنگ، جنگلات، جغرافیہ، ادب ، صحافت، تاریخ، ارضیات، موسمیات، انجینئرنگ، آرکیالوجی جیسے مضامین کی شروعات بھی ناگزیرہے کیونکہ چترال میں ان شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہے ۔

خیبرپختونخواہ حکومت کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ یونیورسٹی کے لئے بھاری رقم خرچ کرکے زمین خریدنے کی بجائے سب ڈویژن مستوج کے تین تحصیلوں کے سنگم میں واقع محفوظ ترین بیابان یعنی قاقلشٹ میں بے غیر کسی خرچ کے زمین حاصل کرکے وہاں یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایاجائے تاکہ زمین خریدنے کی رقم کو بچا کر یونیورسٹی پر خرچ کیاجاسکے ۔ لوئر چترال میں پہلے ہی سے دویونیورسٹی کیمپس موجود ہے اب اگر حالیہ یونیورسٹی کے قیام میں بھی سب ڈویژن مستوج کو نظر انداز کردیاگیا تو نہ صرف یہاں کے عوام آئیندہ کے لئے پاکستان تحریک انصاف کو علاقے سے دیس نکالیں گے بلکہ علاقے کے نوجوان ادارے کا بائیکاٹ بھی کریں گے کیونکہ چترال میں موجود دونوں کیمپسوں میں بہت بڑی تعداد سب ڈویژن مستوج کے طالب علموں کی ہے نیز کالجوں میں بھی سب ڈویژن مستوج کے طالب علموں کی اکثریت ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کی ضلعی قیادت خصوصاََ ضلعی صدرمحترم عبدالطیف اورضلعی کنوئیر رحمت غازی صاحب اس یونیورسٹی کو سب ڈویژن مستوج میں لانے کے لئے اپنا بھر پور کردار اداکریں ۔ یہ یونیورسٹی سب ڈویژن مستوج سے پاکستان تحریک انصاف کی زندگی اور مو ت کا مسئلہ بن چکا ہے ۔ا یم پی اے مستوج سردارحسین صاحب پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس حوالے سے اسمبلی فلور میں بات کریں ایم پی اے مستوج کا وزیر اعلیٰ کے ساتھ قریبی تعلق ہے اپنے تعلق کو استعمال کرتے ہوئے یونیورسٹی کو قاقلشٹ میں قائم کرنے کے لئے بھر پور کردار اداکریں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔