بلوچستان پھر لہو لہو

ماتم کناں:۔ محبت علی قیصر ؔ

خون کے آنسو رلایا پھر بلوچستان کو
کھا رہے ہیں دیس کے دشمن ہائے پاکستان کو

کتنی مائیں آج پھر دیتی دہائیں آگئیں
ملک میں پھر ہائے دہشت کی ہوائیں چھاگئیں

کون ہے مجرم وطن کا کون پکڑے گا اسے
کون ہوگا اس وطن میں لا کے جکڑے گا اسے

کتنے لاشے ہم اٹھائیں اے خدا بس ختم کر
اس وطن اور قوم پر میرے خدایا رحم کر

نام لیتے ہیں خدا کا کام شیطانوں کا ہے
بات پھر جاکر وہی ہے قیمتی جانوں کا ہے

اک مذمت کرنے سے دشمن ختم ہوگا نہیں
وہ توکرتا ہے ذلالت ہاں وہ شرم ہوگا نہیں

یا خدایا رحم کر اب پیارے پاکستان پر
پھر نظر ڈالی ہے دشمن نے بلوچستان پر

ائے خدایا کیوں بلوچستان میں ہے خوں رواں
ہر کوئی ہے آج قیصر ؔ پھر یہاں ماتم کناں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments