عالمی یوم نوجوانان کے حوالے سے گلگت میں کانفرنس کا انعقاد، یوتھ پالیسی بنانے پر مقررین کا زور

عالمی یوم نوجوانان کے حوالے سے گلگت میں کانفرنس کا انعقاد، یوتھ پالیسی بنانے پر مقررین کا زور

29 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( ریاض علی ) نوجوان کسی بھی معاشرے کی ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں نوجوان ہی ہے جو ملک و معاشرے کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں بشرطیکہ ان کو ملک و معاشرے کی ادروں میں اہمیت دی جائے اور پالیسی سازی میں شامل کریں ۔ اگر نوجوانوں کو کسی بھی سطح پر اہمیت نہ دیں تو وہ معاشرے اور ملک میں بگاڈ پیدا کرسکتے ہیں۔ رہنما ء فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان گلگت بلتستان کی جانب سے عالمی یوم نوجوانان کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان اسلام آباد ریجن کے نائب صدر ہدایت شاہ نے کہا کہ حکومتی سطح پر یوتھ کے مسائل کو حل کرنے کے لئے پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے، اگر یوتھ کو اہمیت نہ دی گئی تو معاشرے کی بگاڈ پیدا ہوسکتی ہے۔ یوتھ کے اوپر توجہ دئے بغیر معاشر ے اور ملک کی توقی ممکن نہیں ہے۔اس وقت یوتھ کے اوپر سرکاری سطح پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے اگر یوتھ کو اسی طرح مکمل آزدی دی گئی تو ایسے مسائل پیدا ہونگے کہ کل کو ان پر کنٹرول کرنا ناممکن ہوگا۔ نوجوانوں کی وجہ سے ہی معاشر میں آئے روز مواشرتی برائیاں اور دیگر مسایل پید ا ہورہے ہیں۔ اسی لئے حکومتی سطح پر باقاعدہ طور پر یوتھ کے حوالے سے جامع پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان اپنی بساط کے مطابق نوجوانوں کی فکری اور تعمیری حوالے سے رہنمائی کررہا ہے اور کسی حد تک اس مقصد میں اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں،اس وقت ھکومتی سطح پر نوجوانوں کی تربیت، رہنمائی کے حولاے سے قانون سازی ہو اور باقعدہ طور پر ادارے قائم ہونے چاہئے۔

Pics AFAP 2

ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیر گلگت بلتستان محمد یوسف نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی سطح پر نوجوانوں کے مسائل حل کرنے کیلئے کام کیا جارہا ہے۔ نوجوانوں کے مسائل کے حل کے لئے صرف حکومت پر نظر رکھنا صحیح نہیں ہے۔ مسائل کے حل کے لئے ہر فرد کو کردار ادا کرنا چاہئے کو اس معاشرے کا حصہ ہے۔ حکومتی سطح پر باقاعدہ طور پر نوجوانوں کی بہتر رہنمائی اور فکری تربیت کے لئے اقدامات اٹھارہے ہیں ایسے میں غیر سرکاری ادارے اور عوام بھی حکومت کے ساتھ تعاون کرے تو بہت جلد معاشر میں تبدیلی آسکتی ہے۔سنئیر صحافی منظر شگری اور سنئیر صحافی امتیاز علی تاج نے اس موقع پر کہا کہ نوجوانوں کی صحیح معنوں میں تربیت نہ ہونے کی وجہ سے معاشرتی برائیوں میں ارتکاب ہورہے ہیں۔ حکومتی سطح پر نوجوانوں کے لئے ابھی تک کوئی پالیسی مرتب نہیں کیا گیا ہے ۔ معاشرے کے اندر نوجوان بے یارو مدد گار ہے جس کی وجہ سے خودکشی اور دیگر جرائم میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے۔ اگر نوجوانوں کی اس طرح فری ہینڈ دی جائے تو معاشرے کی بہت تباہی ہوگی۔ اس وقت اگر نوجوانوں کو اپنے آپ پر چھوڈ دیا تو آنے والے نسل تباہ وبرباد ہوگا اور اس پر کنٹرول کرنا کسی کی بس میں نہیں ہوگا۔ اسی لئے حکومتی اور معاشرتی سطح پر نوجوانوں کی فکر ی، روحانی اور وقت کے تقاضوں کے مطابق تربیت کرنے ضرورت ہے، فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان گلگت بلتستان کے پروگرام منیجر ریحانہ بتول ، ہیومن رائٹس کمیشن گلگت بلتستان کے کوآرڈنیٹر اسرار الدین اسرار، پرفیسر اشتیاق احمد یاد، ڈاکٹر جان عالم، ڈاکٹر فیضہ انصاری، پرفیسر حسن آراء ، یوتھ آفیسر محمد حسین اور سید توقیر عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوانوں کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ہے۔ معاشرے کی ترقی کیلئے نوجوانوں کے کردار سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے۔ آج دنیا میں جہاں بھی ترقی واقع ہوئی ہء اس کے پیچھے نوجوانوں کا ہاتھ ضرور ہے۔نوجوان نسل پر توجہ دینے کہ ضرورت ہے اگر نوجوانوں کو اس دور میں اہمیت نہ دی گئی تو بڑی تباہی ہوگی، نوجوانوں کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر نوجوانوں کو معاشرے اور ملک کے اندر اہمیت نہ دی گئی تو معاشرتی برائیان جنم لے سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں صرف تعلیم پر توجہ نہیں دینی چاہئے بلکہ فکری تربیت بھی ساتھ کرنا چاہئے۔ پروگرام کے آخر میں مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دیکھانے والے طلبہ و طالبات کو شیلڈ و سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔