مجھے  ایجنٹوں نے دھوکے سےشادی کےبہانے فروخت کردیا، انصاف فراہم کیا جائے، چترال سے تعلق رکھنے والی خاتون کی میڈیا سے گفتگو

مجھے ایجنٹوں نے دھوکے سےشادی کےبہانے فروخت کردیا، انصاف فراہم کیا جائے، چترال سے تعلق رکھنے والی خاتون کی میڈیا سے گفتگو

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (ویب ڈیسک) ضلع چترال سے تعلق رکھنے والے ویب سائٹ چترال ایکسپریس نیوز کے مطابق تور کہو کے علاقہ کھوت سے تعلق رکھنے والی خورشیدہ بی بی دختر شیر دولم خان اپنے اخباری میں کہا ہے کہ 2 مارچ 2016  کو پشاور صدر سے حمید خان ساکنہ ایون، سید گل ساکنہ اوچوشٹ ، قاری نعمت اور قاری صبور نامی ایجنٹوں نے اُسے شادی کا جھانسہ دے کر اغوا کیا اور پھر آزاد کشمیر میں چوہدری انور نامی شخص کے ہاتھوں مبلغ 6 لاکھ روپے میں بیچ دیا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہاُنہیں بغیر نکاح کے 4 مہینے تک چوہدری انور نے قید میں رکھا۔ شب و روز قلعے میں بند کرکے مجھ پر ظلم و زیادتی ہو تی رہی، بڑی کوششوں کے بعد انجمن دعوت عزیمت چترال کے ساتھ رابطہ ممکن ہوا۔انجمن کی کوششوں سے مجھے چترال پہنچایا گیا

ان کا مزید کہنا ہے کہ عدالت میں میں نے بتاریخ یکم اگست 2016 ء کو ان اغوا کاروں سمیت چوہدری انور کے خلاف کیس دائر کیا لیکن ابھی تک چوہدری انور سمیت چار وں اغوا کارعدالتی سمن کے باوجود عدالت میں حاضر نہیں ہو رہے ہیں اور دندناتے پھر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ مجھے انکی طرف سے دھمکیاں بھی موصول ہو رہی ہیں۔

انہوں نے اشکبارانکھوں کے ساتھ اپیل کیا ہے کہ اُسے انصاف فراہم کیا جا ئے اور ان ایجنٹوں کو قانون کی گرفت میں لا کے کڑی سے کڑی سزا دی جا ئے تا کہ مجھ جیسے مظلوم بیٹیاں ایسے سفاک اور ظالم لوگوں کی گرفت سے محفوظ رہ سکیں۔انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں، ڈپٹی کمشنر چترال، ڈسٹرکٹ پولیس افیسر چترال، اور ناظم اعلیٰ چترال سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کیس میں خصوصی دلچسپی لیکر میرے اوپر ہونے والی ظلم و زیادتی کا ازالہ کریں۔اور اس واردات میں ملوث عناصر کو قانون کی گرفت میں لا کے قرار واقع سزا دی جا ئے۔اور مجھے تحفظ فراہم کیا جا ئے۔

یہ اپنی نو عیت کا پہلا واقعہ نہیں ہر سال پاکستان کے کئی شہروں سے لوگ شادی کی غرض سے چترال آکر چترالی بیٹوں کو بیاہ کرکے لے جا تے ہیں اور ان کے ساتھ ظلم اور زیادتیاں ہو تی رہتی ہیں ۔جسکی وجہ سے چترال کی کئی بیٹیاں زندگی کی بازی بھی ہار جا تی ہیں ایسے واقعات چترال میں بار بار رونما ہو تے رہتے ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ان ایجنٹوں کو کھلی چھٹی ملنے کی وجہ سے ایسے گھناؤنے واقعات ہمارے معاشرے میں عام ہو تے جا رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئیں اور دعوت عزیمت چترال کے ساتھ ملکر معاشر ے کو ان ایجنڈوں سے پاک کیا جا ئے۔ تا کہ ہوا کی بیٹیوں کی عظمت دری کا سلسلہ یہی رک جا ئے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔