اڑھائی ماہ سے داسو ڈیم کی تعمیری سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں

اڑھائی ماہ سے داسو ڈیم کی تعمیری سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 کوہستان (رپورٹ : شمس الرحمن کوہستانیؔ ) داسوڈیم ،ڈھائی ماہ گزرگئے ڈیم پر سرگرمیاں معطل ، متعلقہ اداروں کوروزانہ لاکھوں کاخسارہ، متاثرین زیرآب کے مطالبات کوئی سنجیدگی سے لینے کو تیارنہیں ، چیئرمین واپڈا کی ہدایات جنرل منیجر نے خاطر میں نہ لاتے ہوئے باہمی معاہدے سے منحرف ہوگئے۔ دھوکہ دہی پر متاثرین ایک بار پھر مشتعل ہیں، مظاہروں کو طول دینے پر غورکررہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق کوہستان کے صدرمقام داسو سے پانچ کلومیٹر بالائی جانب تعمیر ہونے والامیگاپروجیکٹ داسوڈیم جس کی پیداواری صلاحیت 4320میگاواٹ ہے جو ریورانڈس پر بنے گا،تاخیر کا شکارہے ۔ بارہ جولائی 2016سے زیرآب آنے والے لاکھوں آبادی کے متاثرین نے اپنی منتخب کردہ متفقہ 80رکنی کمیٹی بناکر جدوجہد کاآغاز کیا اور آٹھ اگست کو برسین کے مقام پر بڑا جلسہ کرکے حکومت وقت اور واپڈا کو9نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔جس کی منظوری کیلئے 2اکتوبر2016کی ڈیڈلائن دی ہے۔متاثرین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کا خلاصہ کچھ یوں ہے ۔

۱۔ واپڈا اور انتظامیہ کی جانب سے خود ساختہ کٹگری Bجس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں جس میں مجوزہ ریٹ کٹگری Cسے کم رکھا گیا ہے جس کو کٹگری Cکے برابر تصور کرکے زمین کی صرف دو اقسام بنائی جائے جیسے ملحقہ میگاپروجیکٹ دیامر بھاشا ڈیم میں کیا گیاہے ۔

۲۔ Built-Upپراپرٹی کا ریٹ حالیہ صوبائی شیڈول کے مطابق دیا جائے جبکہ پھلدار پودرختان کا ریٹ دیامر بھاشا ڈیم کے ملحقہ علاقوں داریل اور تانگیر علاقوں کے برابر دیا جائے ۔

۳۔ بغیر ادائیگیوں کے زمینوں پر ناجائیز قبضہ ختم کیا جائے یا فوری طورپر ادائیگیاں یقینی بنائی جائے ۔

۴۔ تمام ڈسٹرکٹ کیڈر پوسٹوں پر بیرونی علاقوں خاص طورپر پنجاب سے بھرتی شدہ لوگوں کو واپس بھیج کر خالی آسامیوں پر مقامی متاثرین کو کو بھرتی کیا جائے اور نان سکل پوسٹوں پر کوہستان کا سو فیصد حق تسلیم کیا جائے ۔جبکہ رینٹ پر لی جانے والی ٹرانسپورٹ بھی مقامی سطح پر لی جائے اور ایریا ڈویلپمنٹ فنڈ میں ریزروائیر ایریا کو ترجیحی بنادوں پرفنڈدیا جائے۔

۵۔ غیر قانونی طورپر مسمار کئے گئے گھروں اور مکانات کے معاوضے دئے جائیں ۔

۶۔ خفیہ اور جدید مشینری کے ذریعے کی جانے والی سروے کو منسوخ تصور کی جائے اور دوبارہ سیکشن فور لگاکر از سر نو سروے کی جائے ۔کیونکہ سابق سیکشن فور کی میعاد ختم ہوچکی ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ۔

۷۔ورلڈ بنک کی جانب سے جارہ کردہ کتابچہ کے مطابق متاثرین کو حقوق دئے جائیں ۔

۸۔ متاثرین زیرآب داسو ڈیم کی تعمیر میں ہر قسم کا تعاون کریں گے بشرطیکہ اُن کے قرارداد کی روشنی میں اُن کے ساتھ باہمی تحریری معاہدہ کیا جائے جس میں ضلعی انتظامیہ ، واپڈا اورمتاثرین تینوں فریقوں کے دستخط ہوں ،تاکہ مستقبل میں فریقین کو مسائل کا سامنا کرنا نہ پڑے۔

۹۔ شاہراہ قراقرم کے اطراف دوکانوں ، ہوٹلوں اور مکانات نیز لنک روڈ ز اور پبلک مقامات پر موجود عمارات و دکانات کو کمرشل قراردیا جائے ۔

مذکورہ بالا 9نکاتی قرارداد کو ڈپٹی کمشنر کوہستان مشتاق احمد نے من وعن تسلیم کیا اور اسے جائیز قراردیتے ہوئے منٹس آف دی میٹنگ میں پوائنٹ ٹو پوائنٹ تسلیم کرکے حکام بالا کو نوٹ لکھا جبکہ واپڈا کی جانب سے رکاوٹ سامنے آگئی ۔

نئے چیئرمین واپڈا جنرل (ر)مزمل حسین شاہ نے اپنے عہدے کا حلف اُٹھانے کے بعد دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ڈیم کا دورہ کیا تو متاثرین زیرآب کمیٹی نے ایم پی ے عبدالستار کی سربراہی میں چیئرمین سے گزارش کی تو انہوں نے تمام اختیارات جنرل منیجر داسو ڈیم اے ۔ زیڈ درانی کو دئے اور کہا کہ متاثرین کے ساتھ بیٹھ کر تمام معاملات فور ی حل کئے جائیں ۔

جی ایم آفس داسو چیئرمین کے واپسی کے بعد ویران ہے اور جی ایم داسو کے بجائے لاہور میں بیٹھ رہے ہیں جس کی وجہ سے متاثرین اپنے مسائل اُن تک پہنچانے میں ناکام ہیں ۔جرگے نے بالآخر ڈی سی کوہستان سے مطالبہ کیا کہ وہ کردار ادا کریں جس پر انہوں نے کمیٹی ممبران اور ایم پی اے ستار خان سے جی ایم کی ٹیلی فون پر بات کرادی تو جی ایم درانی اپنے تمام تر باتوں سے منحرف ہوگئے اور کہا کہ وہ کسی بھی قسم کے تحریری معاہدوں کو تیار نہیں ۔ جس پر متاثرین مشتعل ہوگئے اور 2اکتوبر کے اجلاس کے بعد مظاہروں کو طول دینے پر غور کررہے ہیں جس میں فارنر کنٹریکٹر کے بائی پاسز کا کام بند کرنا بھی زیر غورہے ۔ واضح رہے کہ پچھلے ڈھائی ماہ سے واپڈا اور مقامی متاثرین کے مابین کشیدگی کے باعث داسو ڈیم پر تما م سرگرمیاں معطل ہیں اور واپڈا، کنٹریکٹراور کنسلٹنٹ کو روزانہ کی بنیادپر لاکھوں روپے خسارے کا سامنا ہے ۔ واپڈا عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اُن کے دفتر وں کا خرچہ روزانہ دس لاکھ سے زیادہ ہے ۔ جبکہ چائینہ کنسٹرکشن کمپنی کے CCECCکے ترجمان مسٹر ٹونی نے بتایا کہ اُن کے کمپنی کو آئے روز کام کی رکاوٹیں درپیش ہیں جس کے باعث اُن کو اب تک کروڑوں روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔