گندم کوٹہ مٰیں کمی کے خلاف تھک نیاٹ کے باسی سڑکوں پر نکل آئے

چلاس(بیورورپورٹ)گندم کوٹہ میں کٹوتی کے خلاف عمائندین تھک نیاٹ سڑکوں پر نکل آئے،مشتعل مظاہرین نے سی ایس او آفس کے باہر دھرنا دے کر محکمہ خوراک کے خلاف نعرے بازی کیا۔احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے عمائدین تھک نیاٹ نے کہا کہ 2006سے لیکر اب تک تھک کو 750اورنیاٹ کے عوام کو ماہوار 1080 بوری گندم ملتا ہے،موجودہ سی ایس او نے گندم کوٹے میں کٹوتی کرکے تھک کا کوٹہ 498جبکہ نیاٹ کا کوٹہ ماہوار 780بوری مختص کر دیا ہے،جو کہ ظلم کی بدترین مثال ہے اور عوام کو بھوکے مارنے کی سازش ہے۔مظاہرین کا کہنہ ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے گندم کوٹے میں کٹوتی کا بہانہ بنا کر تھک نیاٹ کا کوٹہ روکا ہوا ہے،لوگوں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت ہے،مگر پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔مظاہرین نے کہا کہ 1998کے مردم شماری کے مطابق تقسیم گندم کو ہم کسی صورت نہیں لیں گے،1998کے بعد اب تک علاقے کی آبادی دگنا بڑھ گئی اور اس وقت تھک نیاٹ کو 4000سے زائد گندم بوریوں کی ضرورت ہے،حکومت گندم کوٹے میں آضافہ کرنے کی بجائے کٹوتی کررہی ہے،جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے۔مظاہرین نے دھمکی دی ہے کہ اگر گندم کوٹے میں کٹوتی کی گئی تو تمام گندم ڈپوز کو تالے لگادیں گے،جس کی زمہ داری محکمہ خواراک پر عائد ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments