دنیا کی منفرد تہذیب وثقافت کے حامل کالاش قبیلے کی زبان کلاشہ کو معدومیت کے خطرے سے باہر نکال لیا گیا ہے ،ظہیرالدین عاجز

دنیا کی منفرد تہذیب وثقافت کے حامل کالاش قبیلے کی زبان کلاشہ کو معدومیت کے خطرے سے باہر نکال لیا گیا ہے ،ظہیرالدین عاجز

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( نذیرحسین شاہ نذیر) دنیا کی منفرد تہذیب وثقافت کے حامل کالاش قبیلے کی زبان کلاشہ کو معدومیت کے خطرے سے باہر نکال لیا گیا ہے جس پر کالاش اقلیت نے امریکی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے جوکہ یو ایس ایڈ کے ایک پراجیکٹ کے ذریعے یہ کام انجام دیا اور تاریخ میں پہلی بار اس کو تحریر ی شکل دے دی جوکہ ابھی تک حروف تہجی سے نااشنا تھی۔یوایس ایڈ کی مالی معاونت سے گزشتہ ایک سال سے جاری پراجیکٹ “کالاش زبان و ثقافت کا تحفظ”کی تکمیل پر پراجیکٹ کے مقامی پارٹنر ایون اینڈ ویلیز ڈیویلپمنٹ پروگرام (اے وی ڈی پی ) کے زیر اہتمام تقریب میں کالاش عمائدیں اور خواتین نے کہاکہ کالاش زبان اور ثقافت اب تک ایک نسل سے دوسری نسل تک سینہ بہ سینہ روایات سے منتقل ہوتی رہی تھی لیکن جدید زمانے میں کالاش کے نوجوان نسل کا بڑی تعداد میں وادی سے باہر رہنے ، جدید تعلیم حاصل کرنے ، جدید ٹیکنالوجی کے اپنانے اور کالاش بزرگوں کی وفات کی وجہ سے اس زبان کی معدومیت کا خطرہ بڑھ گئی تھی۔

اس موقع پر تینوں کالاش وادیوں بمبوریت، بریر اور رمبور کے نمائندوں شاہی گل، حضرت گل، میربادشاہ، عرب گل، شیر محمد کالاش، شیر وزیر کالاش، لک رحمت نے کہاکہ کالاش زبان کو تحریر ی صورت مل جانا کالاش کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پرانے نسل کے کالاش بزرگ کالاش کی لوک روایات ، لوک کہانیو ں اور روایات کو اپنے ساتھ لے کر ایک ایک ہوکر دفن ہورہے تھے اور کالاش کا ثقافتی ورثہ ان کے ساتھ ہی دفن ہورہا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اکثر کالاش گیت ان کے مذہب کی بنیاد بنتے تھے اور تحریر ی صورت نہ ہونے پر ان کا مذہب بھی خطرے میں پڑگئی تھی۔ کالاش عمائیدین نے حکومت پاکستان کے مطالبہ کیا کہ نادرا کے ڈیٹا بیس اور پاسپورٹ میں کالاش مذہب کے اندراج کو یقینی بناکر کالاش قوم کو الگ شناخت دے دیا جائے۔ تقریب کے مہمان خصوصی اور چترال پریس کلب کے صدر ظہیرا لدین نے کہاکہ زبان اور ثقافت کا آپس میں گہرا رشتہ اور تعلق ہوتا ہے اور اس وجہ سے کالاش زبان کا تحفظ دراصل کالاش کلچر کے تحفظ کی طرف ایک قدم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کالاش زبان کو پہلی مرتبہ تحریری شکل میں لانے اور اس کے لئے حروف تہجی تیار کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ اصل کام کا آغاز اب ہوا چاہتا ہے اور تعلیم یافتہ کالاش لوگوں پر یہ فرض عائد ہوتی ہے کہ وہ کالاش زبان و ادب کی بنیاد رکھیں اور اسے ترقی دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ اپنی صدارتی خطاب میں ضلع کونسل کے اقلیتی رکن عمران کبیر نے کہاکہ کالاش قبیلہ کے لئے قلم اور سیاہی کوئی نئی بات نہیں جوکہ چٹرمس تہوار کے لئے خود ہی مقررہ دن کو قلم تراشتے اور اپنی ہاتھوں سے سیاہی بناکر دیوار وں پر نقش ونگار بناتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس کے باوجود کالاش لوگ لکھنے سے ناواقف ہیں جس کی وجہ سے ان کی زبان اور ثقافت معدومیت کے خطرے سے دوچار تھی جسے محفوظ بنانے کے لئے اے۔وی۔ ڈی ۔ پی اور یو ایس ایڈ کی کاوشیں قابل قدر ہیں جوکہ کالاش تاریخ میں ہمیشہ کے لئے یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اس پراجیکٹ کے نتیجے میں کالاش زبان کے علاوہ کالاش کے لوک گیتوں، لوک کہانیوں اور کہاوتوں کو بھی محفوظ کرلئے گئے ہیں۔ اس سے قبل اے وی ڈی پی کے سابق سربراہان محکم الدین محکم اور رحمت الٰہی نے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کی کارکردگی اور کالاش تہذیب وثقافت کے لئے اس کے خدمات پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہاکہ اے وی ڈی پی نہ صرف کالاش وادیوں اور ایون گاؤں میں دیہی ترقی کے کاموں اور غربت میں کمی لانے کے منصوبوں میں مصروف رہی ہے بلکہ دنیا میں مشہور ومعروف کالاش کلچر کے تحفظ اور ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اس موقع پر اے کے آر ایس پی کے منیجر فرید احمد بھی موجود تھے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔