چترال کے علاقے سینگورمیں واقع پر اسرار غار محققین کے منتظر

چترال(گل حماد فاروقی) چترال سے گرم چشمہ جاتے ہوئے بائیں جانب سینگور اورسین گاؤں کے سنگھم میں ایک پر اسرار پہاڑی کھڑی ہے جس میں قدرتی طور پر بڑے بڑے غار موجود ہیں یوں لگتا ہے کہ ماضی میں یہ پہاڑ کسی بادشاہ کا محل تھا جس میں درجہ بہ درجہ کھدائی کرکے آبادی کی گئی ہے۔ اس محل نما پہاڑی میں محتلف جگہوں میں کھدائی ہوئی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے کی ماضی میں یہ کسی بادشاہ کا محل رہا ہو جس میں سامان رکھنے کیلئے زمین کو کندہ کرکے اس میں سوراح جیسے طاق بنائے گئے ہیں۔ یہ پہاڑی سڑک سے بالکل متصل اونچائی پر واقع ہے اور اس کے ارد گرد برف پوش پہاڑوں نے اس کی خوبصورتی میں اضافہ کیا ہے۔

اسی علاقے سے متصل گان کورینی کے علاقہ میں بھی پانچ ہزار پرانے اجتماعی قبرستان کا انکشاف ہوا تھا۔ اس وقت ہزار ہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان نے بتایا تھا کہ یہ قدیم آریائی قبرستان ہے جہاں آریا کے لوگ رہتے تھے ا ن قبروں میں تین قسم کے قبریں موجود تھے ایک سادہ قبر، دوسرا ایسا قبر جس میں مردہ جلاکر یا کسی برتن میں ابال کر اس کا بچا کچا مواد مٹی سے بنے ہوئے ایک مرتبان میں رکھا گیا تھا اور تیسرا اجتماعی قبر تھا جس میں ایک ہی قبر میں پانچ سے سات لاشیں دفنائے گئے تھے۔

آثار قدیمہ کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم شاہ نے بھی کچھ عرصہ قبل اس جگہہ کا دورہ کیا تھا۔ جن کا کہنا ہے کہ یہ ہزاروں سال پرانی تہذیب کے نمونے لگتے ہیں۔ ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر عبد الصمد وقتاً فوقتاً یہاں کا دورہ کرتا رہتا ہے ان کا کہنا ہے کہ چترال میں کئی ایسے مقامات ہیں جہاں پانچ ہزار سا ل سے بھی پرانے تہذیب کے اثرات موجود ہیں۔

گرم چشمہ روڈ پر اس پر اسرار پہاڑی پر تحقیق ابھی باقی ہے اور یہ پر کشش عجیب الخلقت پہاڑ سیاحوں کا بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جب بھی کوئی سیاح اسی سڑک پر اوپر واقع ایک ہوٹل کو جاتا ہے تو چند لمحوں کیلئے ضرور کھڑے ہوکر تصویر اتارتے ہیں یا اس کا نظارہ کرتے ہیں۔

محکمہ آثار قدیمہ کو چاہئے کہ اس پر اسرار پہاڑی کی تحقیق کیلئے بھی ماہرین کا ٹیم بھیجے تاکہ اس کی تاریحی پس منظر بھی آشکارہ ہوسکے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments