گرلز ہائی سکول چلاس میں47 بچیاں زیر تعلیم، ہائیر سیکنڈری کلاسز کا اجراء کر دیا گیا ہے، ڈپٹی ڈائریکٹر

گرلز ہائی سکول چلاس میں47 بچیاں زیر تعلیم، ہائیر سیکنڈری کلاسز کا اجراء کر دیا گیا ہے، ڈپٹی ڈائریکٹر

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان)دیامر میں خواتین کی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے ہائیر سیکنڈری کلاسز کا اجراء کر دیا گیا ہے۔گرلز ہائی سکول چلاس میں اس وقت سینتالیس بچیاں زیر تعلیم ہیں۔انکی تعلیمی تمام ضروریات اور سہولیات فراہمی کے لئے بھر پور اقدامات کر رہے ہیں۔دیامر کے عوام کا تعلیم سے لگاؤ خوش آئند ہے۔سیکرٹری تعلیم ثناء اللہ دیامرنے دیامر سے تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کے لئے تعلیمی نظام میں انقلابی اصلاحات کئے ہیں۔جس سے جہالت کا خاتمہ ہوگا اور دیامر تعلیمی لحاظ سے دیگر شہروں سے آگے آئے گا۔

ان خیالات کا اظہار ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن امیر خان نے دیامر پریس کلب کے وفد سے گفتگو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ گھروں میں بیٹھ کر حرام تنخواہیں کھانے اور مستقبل کو تاریک بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔جس سے اساتذہ کی ننانوے فیصد حاضری یقینی بنائی ہے۔ حاضری چیکنگ کے لئے مسلسل چھاپہ مار کاروائیوں اور غیر حاضر اساتذہ کی تنخواہیں بند کر کے ان کو ڈیوٹی کو ڈیوٹی کا پابند بنا لیا گیا ہے۔اب گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں کھانے والوں کے برے دن شروع ہوچکے ہیں۔انہوں نے سابقہ ادوار میں کافی مزے کئے اب کسی صورت مستقبل کے ساتھ زیادتی کی کوئی کوشش کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔غیر حاضر اساتذہ کی تنخواہیں مکمل طور پر بند کر کے انہیں شوکاز نوٹس جاری کئے ہیں۔جس کے بعد انہیں فارغ کر دیا جائے گا۔تمام سکولوں کا روزانہ کی بنیاد پر دورہ کیا جا رہا ہے اور ان کی ضروریات کو پوری کر رہے ہیں۔تمام بنیادی سہولیات فراہمی سے اب تعلیمی معیار کافی بہتر ہوا ہے۔سکولوں کو وائٹ بورڈز وغیرہ برابری اور ضرورت کے مطابق فراہمی یقینی بنائی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔