گلگت: کچھ اضلاع میں ابھی بھی ویکسینشن کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ پارلیمانی سیکریٹریی برائے صحت برکت جمیل

گلگت: کچھ اضلاع میں ابھی بھی ویکسینشن کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ پارلیمانی سیکریٹریی برائے صحت برکت جمیل

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(ارسلان علی) پارلیمانی سیکریٹریی برائے صحت برکت جمیل نے کہا ہے کہ ایک زمانے میں ویکسینشن کو غیر اسلامی اور حرام قرار دیا جاتا تھا مگر الحمداللہ آج گلگت بلتستان میں شعور آچکا ہے جس کی وجہ سے لوگ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے بچوں کے ویکسینشن کرواتے ہیں تاہم کچھ اضلاع میں ابھی بھی اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے منگل کے روز مقامی ہوٹل میں ماں اور بچے کے صحت کے حوالے سے منائے جانے والا ہفتے کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صحت اور تعلیم کے50سالہ محرومیوں کے خاتمے کیلئے حکومت انقلابی اقدامات اٹھارہی ہے اسی لئے محکمہ صحت کا بجٹ دوگنا کردیا گیا ہے ،سرکاری آفیسران تنقید کی پرواہ کئے بغیر میر ٹ کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔ سابقہ ادوار میں صحت ا ور تعلیم کے شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ،ابھی وزیر اعلیٰ شعبہ صحت کی ترقی میں دلچسپی لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک صحت مند ماں صحت مند بچے کو جنم دے سکتی ہے۔ کم عمری کی شادی کے نقصانات کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ ادوار میں شعبہ صحت اور محکمہ تعلیم پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے یہ دونوں شعبے ترقی سے محروم ہیں۔ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن ان دونوں شعبوں میں ترقی کے خواہاں ہے اس لئے انقلابی اقدامات اٹھارہے ہیں۔ ہیلتھ کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے، ڈاکٹروں کو پے پیکیج دیا ہے تاکہ دور درازعلاقوں میں عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات میسر ہوسکے۔ انہوں نے آفیسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تنقید کو پس پشت ڈال کر اور کسی سیاسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔ اچھا کام کرو گے تو حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہے غلط کام ہوگا تو معافی نہیں ہوگی ۔محکمہ صحت میں تمام بھرتیاں میرٹ پر ہوئی ہے اور الزمات بے بنیاد ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کم عمری کی شادی کے نقصانات کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔ڈی ایچ اوز اپنے اپنے اضلاع میں اس حوالے سے ورکشاپس کا انعقاد کریں کسی زمانے میں لوگ ویکسین کو گناہ سمجھتے تھے آج لوگوں میں شعور آگیا ہے۔

اس موقع پر ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر بسم اللہ خان نے ماں بچے کے حوالے سے تمام تفصیلات بتائیں ڈائریکٹر تعلیم فیض اللہ لون نے بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ تقریب کے آخر میں ڈاکٹر شکیل احمد پروگرام کوآرڈینٹر ای پی ایچ نے تمام مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔

محکمہ صحت نے6سے12فروری تک ماں اور بچے کی صحت کا ہفتہ منانے کا اعلان کردیا۔1385لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جاکر 9بیماریوں کے بارے میں شعور دے گی۔ 109ویکسینٹرز ان کی نگرانی کریں گے۔ پہلے دن سے2سال کے 4525بچوں کی ویکسینشن ہوگی۔ حاملہ خواتین کو تشنج کے ٹیکے لگائیں جائیں گے۔1308خواتین کو ٹی ٹی ٹیکے لگائیں جائیں گے۔76927بچوں کو کیڑے مار دوائی دی جائے گی۔

ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر بسم اللہ خان نے اس پروگرام کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت نے6سے12فروری تک ماں بچے کا ہفتہ منانے کا اعلان کردیا ہے اس ہفتے میں لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جاکر9مختلف بیماریوں کیخلاف حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔ اس ہفتے میں ڈیفالٹر بچوں کو ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کو کیڑے مار دوائی پلائی جائے گی۔ حاملہ خواتین کو تشنج سے بچاؤکے انجکشن لگائے جائیں گے انہوں نے کہا کہ حاملہ خواتین کو دوران حمل 2دفعہ ٹی ٹی کے انجکشن لگانا ضروری ہے تشنج کا بیمار مشکل سے ایک فیصد بچ جاتا ہے صحت کا ہفتہ منانے کا مقصد خواتین میں شعور اجاگر کرنا ہے تاکہ آنے والے بیماریوں سے نجات پانے کیلئے تمام حفاظتی اقدامات اٹھانا ضروری ہے ای پی پروگرام کے تحت9بیماریوں کیخلاف حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ صحت کے عملے کے ساتھ تعاون کریں تاکہ کوئی بچہ بغیر ویکسین کے نہ رہے سکیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔