دیامر میں دیرینہ دشمنیوں کے بنیادی اسباب(۳)

دیامر میں دیرینہ دشمنیوں کے بنیادی اسباب(۳)

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر۔اسلم چلاسی

بحث مبا حثہ توں تکرارسے ہوتے ہوئے بات گالم گلوچ سے نکل کر لڑائی جھگڑہ، پتھراؤکے بعد لاٹھی کلہاڑی خنجر تیر و تلوار تک آپہنچتی ہے۔ یہاں تک معا ملہ پہنچنے میں بہت سے عوامل کا رفرما ہوتے ہیں۔ ستر فیصد دشمنیاں تو تین چیزیں ،زن،،زر،، اور زمین،،کی وجہ سے پیدا ہو ئی ہیں، دس فیصد دشمنیوں میں راستہ روکنے، پانی بند کرنے جیسے معا ملات کار فر ما ہیں۔ دس فیصد دشمنیوں کی بنیاد میں بچوں کی لڑائی، چو ری چکاری، فصلوں کو خراب کرنے جیسے معا ملات کا عمل دخل ہے۔ آٹھ فیصد قرض کی رقم سے انکا ر کرنا، سود کی ادائیگی پر مجبور کرنا، حق ملکیت سے انکار کرنا، چرا گاہوں پر گھاس چرائی کو روکنا، مال مویشیوں کو لگام کی مد میں زبردستی اپنے قبضہ میں لینا جیسے معا ملات سے پیدا ہوئی ہیں۔ صرف دو فیصد دشمنیوں میں بظا ہر کوئی وجہ نہیں ہے۔ کسی کی مال و دولت اہلیت قابل بہادری رتبہ کی وجہ سے جیلسی میں قتل کردیے گئے اور اس سے دیرینہ دشمنی کا سلسلہ شروع ہوا اور یہی دو فیصد میں وہ لوگ بھی شا مل ہیں جو چوری کی نیت سے گئے اور دوران چوری حا دثاتی طور پر چور مر گیا یا چور نے کسی کو مار دیا۔ انہی دو فیصد کے کھاتے میں وہ دشمنیاں بھی آتے ہیں جو غلط فہمی کے طور پر پیدا ہوئی ہیں۔

گویا کہ اٹھا نویں فیصد دشمنیاں، ظلم ،جبر ،ہٹ دھرمی ،سود خوری ،بدکاری ،نا انصا فی،بد اعمالی،بد تمیزی،جیسے خرا فات سے انتہا ئی مجبوری کی صورت میں پیدا ہوتی ہیں۔ محض دو فیصد دشمنیوں میں بدمعاشی ہو تی ہے جو بلا وجہ قتل و غارت گری کی شکل میں دیرینہ دشمنی بن جاتی ہے۔ میرے نزدیک یہ دو فیصد لوگ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہے باقی اٹھا نویں فیصد کا میرے نزدیک کوئی قصور نہیں ہے۔ چو نکہ اسی فیصد دشمنیاں چھوٹے چھوٹے انتہائی معمولی نوعیت کے مسا ئل سے پیدا ہو تے ہیں۔ اگر معاشرتی سطح پر کوئی پلیٹ فارم عمائدین کی شکل میں موجود ہو اور ایما نداری سے کام کریں، لوگوں میں صلح رحمی کی تر غیب دیکر معا ملات کو رفع دفع کریں تو یہ اسی فیصد دشمنیاں پیدا ہی نہیں ہو نگی۔ لیکن بد قسمتی سے لوگوں کو اپنے مسائل لیکر جانے کیلے کوئی ایسا پلیٹ فام ہی مو جود نہیں۔ لوگ چا ہتے ہیں کہ معا ملہ ختم ہو مگر ختم کرنے والا نہ ہو نے کی وجہ سے مذید طول پکڑتی ہیں۔ دوسری طرف ریاستی سطح پر انصاف کے عمل سے گزرنا غریب آدمی کی بس کی بات نہیں ہے۔ ایک وکیل صا حب کی فیس ادا کرنا اور پھر چکر لگا نا ایک عام آدمی جس کو غلہ کے طور پر مکئی بڑی مشکل سے دستیاب ہو جو بیمار ہونے کی صورت میں جڑی بوٹیوں پر انحصار کرتا ہو جس کا سالانہ انکم دو من اخروٹ ایک من لو بیہ اوردس من گندم ہو اس کے لیے انصاف کا حصول ممکن نہیں ہوتا۔ تب ہی تو لوگ فورًا فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ خود ہی منصف خود ہی جلاد بن جاتے ہیں ۔میرے مشا ہدے کے مطا بق اسی دیرینہ دشمنیوں میں مبتلا لوگ انہائی غربت کے شکار ہیں جن کے پاس گزر بسر کیلے بھی کچھ نہیں ہے۔ علاج معالجہ تو ان کا ہوتا ہی نہیں ہے۔ بس قدرت جس کو چاہے زندہ رکھیں، قسمت سے بچ گئے تو گئے ورنا یہ لوگ اتنے لاغر ہوتے ہیں کہ ایک معمولی سی بخار بھی ان کے لیے کا فی ہو تی ہے۔ چو نکہ دن رات ایک گھر کے اندر دھوپ اور روشنی سے محروم ہو کر مقید رہتے ہیں۔اگر ان چھوٹے مسائل کو حل کرنے والے ہو تو بڑے بڑے معا ملات قبل از وقت دم توڑ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے میں نے پورے گلگت بلتستان میں مشا ہدہ کیا ہے دیا مر میں جن اسی فیصد معاملات سے دیرینہ دشمنیاں پیدا ہو تی ہیں یہی معا ملات گلگت بلتستان کے ہر ضلع شہر گاؤں قصبہ میں پیدا ہوتی ہیں لیکن وہاں پر ایسے ذمہ دار لوگ موجود ہیں جو اس معا ملے کو فورًا ختم کرتے ہیں۔ ہر کوئی مسلےکو ختم کرنے کی کو شش کرتا ہے، پڑوسی، رشتہ دار، یار دوست، پارٹی بازی کے بجا ئے روک ٹوک و وعظ و نصیحت سے کام لیتے ہیں۔ گاؤں سطح پر کمیٹیو ں کی شکل میں معززین ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ کسی کے ساتھ ہونے والے نقصان یا زیادتی کا فورً ازالہ کرتے ہیں۔ اس طرح ظالم کو فورًا سزا اور مظلوم کو انصاف ملتا ہے۔ کوئی بھی اسلحہ کی دوڑ میں نہیں پڑتا ہے اس لیے وہاں دشمنیاں پیدا نہیں ہوتی ہیں۔ جب کہ ہمارے ہاں دو لوگوں کے درمیان چھوٹا سا مسلہ پیدا ہو تو آس پاس سے ملکر پارٹی بازی بنائی جاتی ہے اور ساتھ میں دو طرف سے اکسا نے کا عمل زوروں پر ہوتا ہے۔ حق کو حق کہنے والے نہیں ملتے۔ جھوٹے ظالم بھی بے گناہ اور فرشتہ قرار دیتے ہیں جس سے اگلے کو حو صلہ ملتا ہے اور بات بندوق کی نوک تک آ جاتی ہے۔ چو نکہ یہاں پر اسلحہ کے نما ئش بھی عام سی بات ہے دوسرے جگہوں میں اسلحہ بھی عام نہیں ہے۔ اب بندوق کندھے پر موجود ہے، دماغ میں اکساہٹ بھی مو جود ہے، غم و غصہ بھی شتدت کی ہے، نہ بندوق تلاش کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، کندھے سے اتارا دوسرے ہاتھ سے تان لی بس اتنی دیر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔