یہ مولوی کب سدھرے گا؟ 

 محمد نذیر خان

یار لوگ عموما یہ شکوہ کرتے ہیں ، کہ یہ مولوی کب سدھرے گا ؟ جمعہ میں کب اچھےاور علمی موضوع پہ گفتگو سننے کو ملے گی ؟ یہ صرف بیت الخلاء کی دعاء اور اللھم جنبنی الشیطان ۔۔۔کے سوا کب کوئی اور بات کرے گا ؟ یہ کب تک ایران تران کی دیومالائی کہانیاں سناتا رہے گا ؟

جناب بالکل صحیح کہا آپ نے ، مولوی سدھرے گا ، جب آپ سدھر جائیں گے ، میرا مطلب یہ ہے کہ جب آپ دین کو priority دیں گے ، جب آپ جیسے لوگ اپنے بچوں کو مدرسہ میں پڑھائیں گے ، جب صدر ، وزیر اعظم ، آرمی چیف ، چیف جسٹس کا بچہ بھی صبح کے وقت beacon house miN awr شام کے وقت محمدیہ مدرسہ میں جاکے قرآن مجید حفیط کرے ، صرف نحو ، فقہ حدیث پڑھے ، اور والدین علم دین کو بھی O level and A level جتنی اہمیت دیں ، اور آپ مدرسہ کے طالب علم پر بھی کالجز یونیورسٹیز کے دروازے کھولیں گے ، مسجد کے مولوی اور مدرسہ کے مدرس کو اتنی تنخواہ دیں گے کہ اس سے وہ اپنے بچوں کو قدیم وجدید دونوں طرح کی تعلیم دلا سکے ، جب آپ مسجد کا خطیب مقرر کرنے سے قبل مولنا صاحب کی صرف خوش الحانی پر اکتفا نہیں کریں گے ، بلکہ Educational qualification کے بارے بھی پوچھیں گے ، اور اچھی تعلیم والے خظیب کو کم از کم ایک کالج لیکچرر کے برابر تنخواہ دینے پر راضی ہون گے ، اور جب آپ سیریس ہو کر پنجگانہ وجمعہ کی نماز میں شرکت اور خطیب صاحب کے موضوع پہ غور وفکر کریں ، اس لئے پہلے قربانی دیجئے ، اچھی تعلیم دلوایئے ، مولوی کو اپنی سوسائٹی کا حصہ مانیئے ، اس کیلئے معقول تنخواہ اور عزت سے جینے کا بندوبست کیجئے ، پھر اس سے علمی موضوعات پہ گفتگو کا مطالبہ کیجئے ، معاشرہ سدھرے گا ، آپ بھی اور خود مولوی صاحب بھی ، لیکن بجائے اس کے جب آپ 3000 ہزار پہ بیروزگار مولناصاحب کو رکھیں گے ، یا مولنا صاحب خود ہی ” کسی سرکاری یا نجی پلاٹ پہ للہ فی اللہ قبضہ کرکے پائی پائی مانگ مانگ کر مسجد بنائیں ، ظہر عصر میں آپ ڈیوٹی پہ ، مغرب میں گھرپہ اور عشاء میں فیس بک پہ ، دانشواری بھگار رہے ہوں ، فجر کی نماز میں بیک وقت مولوی بیچارہ کو موذن ، مقتدی اور امام تینوں کردار ادا کرنے پڑیں گے ،جمعہ میں آپ اس وقت تشریف لائیں گے، جب وہ ” صفین سیدھی کریں ” کا آوازہ لگارہاہو، جب آپ معاشرہ میں مولوی کی عزت کا یہ عالم ہو D-7 بس کراچی 1نمبر ٹیوٹا ( اسلام آباد) کاکنڈیکٹر بھی حقارت سے چیخے “اوئے مولوی پیچھے ہو کھڑے ہو ” پولیس والے کو ملزم نہ مل سکے تو مولوی سے ری پلیس کرے ، تو بتائیے انصاف سے بتائیے مولوی صاحب آپ کیلئے اچھے موضاعات تلاش کرے یا گھر گھر جاکر اپنے بچوں کیلئے روزی ؟ ( ایک تو ہم غریب لوگوں کے بچے بھی ماشاء اللہ زیادہ ہوتے ہیں ، ہرنو ماہ بعد کوئی نہ کوئی ” سانحہ ولادت ظہور پذیر ہورہاہوتاہے ) وہ مولوی تمہارے قتل کے فتوے جاری نہ کرے تو کیا کرے ؟ تمہیں ” ہاتھ سینے پر یا ناف پر باندھنے ، درود زور سے یا آہستہ پڑھنے پر نہ لڑایے تو کیا کرے ؟ تمہارے گھر کا دروازہ شادیوں میں اداکاروں کیلئے ، بچوں کی پیدائش پہ کھسروں کیلئے کھلے، مولوی کو تمہارا گھر نظر ہی اس دن آیئے جس دن تمہارا کوئی مر جائے ، تو بتایئے کہ پھر وہ کس کی دعا زیادہ مانگے گا ، تمہارے مرنے یا جینے کی ؟

میرا مقصد یہ نہیں کہ تمام مولوی صاحبان کوثر وتسنیم سے دھلے ہیں ، ہم میں بھی ہزاروں خامیاں اور سینکڑوں ناکامیاں ہیں ، لیکن بری ان سے آپ بھی نہیں ہیں جناب ، ہم سب کو سدھرنا ہوگا ، بھلا گندم کے کھیت میں مکئی کیسے اگے گی ؟ یا سیب کے درخت پہ آم کیسے لگیں گے ؟ مولوی اسی معاشرہ کا ایک فرد ہے جہاں کے آپ ، میں ہوں سب ہیں ،

فقیہ النفس حضرت رشید گنگوہی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے کہ ایک بار گاؤں والوں ان سے شکایت کی کہ حضرت حافظ صاحب ہمیں بغیر وضو ء نمازیں پڑھاتے رہیں ، حضرت نے بلا کر پوچھا تو کہنے لگے : جی حضرت یہ لوگ مجھے ایک روپیہ تو دیتے ہیں مہینہ کا ، اب ظاہر ہے ایک روپیہ میں ان کیلئے میں اتنی ہی خدمت انجام دے سکتا ہوں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments