غذر سے چائینہ تک (۳) – نوجوان پولیس، پہاڑ ریت کے اور عبدالحد کی کہانی

غذر سے چائینہ تک (۳) – نوجوان پولیس، پہاڑ ریت کے اور عبدالحد کی کہانی

27 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: دردانہ شیر

میر ا نام پکارنے کے بعد ہی سفید رنگ کی لینڈ کروذر گاڑی ہم سے چند قدم آگے جاکر رُک گئی۔ میں پریشان دیار غیر میں اچانک ہمارا نام پکارنے والا آخر یہ شخص کون ہے۔ اتنے میں پولیس کی لباس میں ملبوس ایک نوجوان جس کی عمر تیس سال کے لگ بھگ ہوگی مجھے آکر گلے لگا یا اور کہنے لگا کہ دردانہ شیر بھائی آپ نے مجھے نہیں پہچانا میں ایم جمعہ خان ہوں۔ تب مجھے پتہ چلا کہ یہ وہ ایم جمعہ خان ہے جس کی ذاتی گاڑی میں ایک سال قبل ہم کاشغر گئے تھے چونکہ ایک تو رات کا اندھیر ا تھا تو دوسری طرف پولیس کی گاڑی کھڑی ہو تو ایسے میں کسی کو کیا خود کو بھی پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے سردی اتنی زیادہ تھی کہ ہم بغیر کوئی اور بات کئے ان کی گاڑی میں بیٹھ گئے ان کی گاڑی بہت ہی گرم تھی اے سی لگایا ہوا تھا ہمارا جما ہوا خون میں جان آنی شروع ہوگئی اور ہمیں ایم جمعہ خان نے ہوٹل پہنچایا اور منیجر کو اپنی زبان میں کچھ کہا اور ہمیں دوبارہ گاڑی میں بیٹھنے کے لئے کہا ۔

وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ اس وقت آپ کو کھانا نہیں ملے گا البتہ یہاں پر پاکستان کا ایک ہوٹل ہے مسافر دیر سے آنے کی وجہ سے وہ ہوٹل کھلا رہتا ہے شاید وہاں کھانا مل جائے چونکہ ہمیں بھی مزے کی بھوک لگی تھی اور جاکر گاڑی میں بیٹھ گئے۔ ایم جمعہ خان مزے کی اردو بولتا تھا چونکہ ایک سال قبل جب ہم ان کی گاڑی میں تاشقرغن سے کاشغر گئے تو راستے میں انھوں نے اردور میں بات کی تو ہم پریشان ہوگئے کہ اتنی صاف اردو بولنا والا پاکستانی ہی ہوسکتا ہے مگر ایسا نہیں تھا۔ ایم جمعہ خان نے اردو سیکھ لیا تھا۔

ہمارے اس مہربان دوست نے ہمیں ایک پاکستانی ہوٹل لے کےگئے اور وہاں پر ہمیں کھانا کھلایا ہمارے کئی بار اصرار کے باوجود کھانے کی پیمنٹ بھی خود کر دی اور وہاں سے واپس ہمیں ہمارے ہوٹل میں چھوڑ دیا۔ ہم بہت خوش تھے کہ اگر یہ شخص نہ ملتا تو ہمارا کیا بنتا۔ ہوٹل آئے تو اتنی ٹھکاوٹ ہورہی تھی کہ مزید کوئی ٹائم ضائع کئے بغیر آرام کرنے لگے چونکہ ہمارا اگلا سفر صبح کاشغر کی طرف تھا۔

تاشقرغن میں سردی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ جس وقت ہم وہاں پہنچے تھے اس وقت پانی پر برف جم جانا شروع ہوگئی تھی ہم پاکستان سے اپنے ساتھ گرم کپڑے بھی ساتھ لیکر نہیں گئے تھے۔ سردی نے اپنا اثر دیکھانا شروع کر دی تھی اورجب میں صبح اُٹھا تو سر میں درد گلا خراب۔ اس سے اندازہ ہوگیا کہ رات کی سردی نے اپنا اثر دیکھا دیا ہے۔

دوسرے دن گیارہ بجے کے قریب ہوٹل کے قریب ایک تاجک ہوٹل میں ناشتہ کرنے کے بعد ہم نے کاشغر جانے کا پروگرام بنایا مگر پتہ چلا کہ تاشقرغن سے کاشغر کے لئے گاڑیاں نکل گئی ہے اب اگر گاڑی مل بھی گئی تو تین بجے کے بعد مل جائیگی کوئی دو بجے کے قریب ایک ڈبل کیبن کاشغر سے پہنچ گئی تو ان سے بات کی ڈرائیور نے حامی بھر لی اور ہم بغیر کوئی ٹائم ضائع کئے گاڑی میں سوار ہوگئے۔ ہمارے ساتھیوں میں ایک ہنزہ اور دوسرا پنجاب کا تھا۔ ہمارے ہمسفر بن گئے چونکہ تاشقرغن سے کاشغر تک ڈبل کیبن میں صرف دو مسافروں کو بیٹھانے کی اجازت ہے مگر ہمارے اس گاڑی کے پائلٹ نے چار مسافروں کو بیٹھا دیا۔ اب ہمار ا سفر کاشغر کی طرف شروع ہوگیا تھا میں اور میرنواز کا شدید سردی سے برا حال ہوگیا تھا اور ہماری کوشش تھی کہ کسی طرح سے ہم کاشغر کی طرف روانہ ہوجائے ہمارا سفر جاری ہوچکا تھا ہمارے دونوں طرف وسیع وعریض میدانیں جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں یاک اور دیگر مال مویشوں کا ریوڑ ہی ریوڑ نظر آرہے تھے اور اتنے بڑے چراہ گاہیں ہیں کہ بندہ دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے اب ہماری گاڑی چائنیزنے کوئی دس سال پہلے بنایا مصنوعی ڈیم پر سے گزر رہی تھی میں نے اس سے قبل بھی اپنے کالم میں ذکر کیا ہے کہ اس ڈیم کی لمبائی کوئی تیس کلومیٹر اور چوڑاھائی دس کلومیٹر ہے اور اس سے پانچ سو میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے۔

میں نے اس جھیل کے ایک طرف ریت کے پہاڑ دیکھ لئے جن کو میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا کہ ریت کے بھی کوئی پہاڑ ہوتے ہیں میں نے اپنے دوست میرنواز میر کو خصوصا وہ پہاڑ دیکھا یا جن کا ذکر کرنے پر کوئی یقین نہیں کر تا تھا۔ ہماری گاڑی کا ڈرائیور واقعی میں پائلٹ تھا کہ چونکہ اس پہاڑی علاقے میں کوئی کیمرے نصب نہیں تھے اس وجہ سے اس کی سپیڈ بھی ایک سو چالیس تک پہنچ گئی تھی ہمارا غصہ ہونے پر اس نے گاڑی کی سپیڈ کسی حد تک کم کر دی تھی۔ کاشغر اورتاشقرغن کے درمیان اس سے قبل دو دفعہ میں گیا تو سڑک انتہائی خستہ حال تھی مگر اب اس کو بھی موٹر وے طرز کا بنایا گیا ہے۔ راستے میں عطا آباد طرز کا ایک ٹنل بھی بنایا گیا ہے جو سات کلومیٹر ہے اس کے علاوہ کوئی بیس سے پچیس کلومیٹر ایریا جہاں پر سیلاڈنگ کا خطر ہ تھا وہاں اُونچے اُونچے بیم بناکر روڈ کو دو سو فٹ اونچاکر دیا ہے اگر سیلاب آئے یا لینڈ سلائیڈنگ ہو روڈ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ شاید اس شاہراہ کو سی پیک کے حصے کے طور پر تعمیر کیا گیا ہوں۔ میں اس سے قبل دو بار پہلے بھی چائینہ گیا ہوں مگر اس سال تمام سیاحوں کی کچھ زیادہ ہی تلاشی ہورہی تھی پہلے تاشقرغن سے کاشغر کے درمیان دوسرے ممالک سے آنے والے سیاحوں کی ایک جگہ پر پولیس انٹری کرتے تھے مگر اس دفعہ ہم نے دیکھا کہ چار جہگوں پر انڑی ہوئی۔ اس کے علاوہ وہاں کے اپنے شہر یوں کی بھی سخت تلاشی لی جاتی ہے اور چار سے پانچ جگہوں پر ان کی بھی چیکنگ ہوتی ہے۔

اگر کسی کے پاس شناختی کارڈ موجود نہ ہو تو ان کو بھی واپس کیا جاتاہے۔ کاشغر سے جاتے ہوئے ہمیں جگہ جگہ بڑے بڑے باغات نظر آئے اور سب سے زیادہ اخروٹ کے درخت دیکھنے کو ملے۔ بتایا جاتاہے

1985تک اس علاقے میں اخروٹ اور بادام کا کوئی درخت نہیں تھا اور جب پاکستان سے لوگ اخروٹ اور بادام لیکر وہاں جاتے تو کاشغر کے لوگ منہ مانگی رقم دیکر ان سے اخروٹ اور بادام خریدتے تھے۔ اس کے بعد بعض جرائم پیشہ آفراد نے اخروٹ کے اندر بھی منشیات بھرکر لے جانے کی کوشش کی جس کے بعد وہاں کی حکومت نے بھی کاشتکاروں کو ریلف دینا شروع کر دیا کہ اخروٹ اور بادام جب گلگت بلتستان میں ہوتے ہیں تو یہاں کیوں نہیں۔ آج کاشغر کے قریب دیہاتوں میں مقامی کاشتکاروں کے پاس ہزاروں کی تعدادمیں اخروٹ اور بادام کے درخت موجود ہیں اور ان کے اخروٹ کو دیکھ کراپنے اخروٹ پر ترس آتا ہے۔ ان کے ایک اخروٹ ہمارے چار اخروٹ کے برابر ہوتے ہیں۔

ہمارا تاشقرغن سے کاشغر کا سفر بہت ہی یاد گار رہا اور کوئی سات بجے کے قریب ہم اپنے ہوٹل چینی باغ میں اُتر رہے تھے کہ اچانک ایک شخص پر میری نظر پڑی میں نے اس شخص کو کئی دیکھا تھا مگر یاد نہیں آرہا تھاوہ راجہ میر نواز میر سے ملا۔ مجھ سے ابھی ملا ہی نہیں تھا میر نواز میر نے کہا کہ یہ عبدالحد بھائی ہے سابق چیرمین یونین کونسل اشکومن تب میں نے ان کو پہچان لیا۔

عبدالحد جب اشکومن میں یونین کا چیرمین تھا میر ے پاس بہت زیادہ آتا تھا جب 2010سے بلدیاتی الیکشن نہ ہوئے تو کچھ کمانے کی غرض سے چائینہ گیا اور شروع شروع میں لاکھوں روپے کما لئے جب عطا آباد کا واقعہ پیش آیا تو عبدالحد کے انگور کے کئی کنٹینر بھی پھنس گئے اور ان کو کروڑوں کا نقصان ہوا۔ بقول عبدالحد مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا کہہ رہے تھے جب کروڑوں کا سامان گلگت اوردیگر شہروں میں پہنچایا تھا جب میرے نقصان کا پتہ چلاتو ہر ایک نے منہ موڑ لیا اوررقم ادا نہ کرسکااور تو اور اپنوں نے ہی لاکھوں روپے ڈکار لئے اور واپس تو دور کی بات میرے ساتھ بات تک نہیں کی۔ میں جب مقروض ہوا تو کاشغر کے ان کاروباری افراد نے کئی سال اپنے گھروں میں قید میں رکھا۔

عبدالحد کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی اس پر ہونے والی ظلم کی کہانی اگلی قسط پر (جاری ہے )

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author