استور کو نظر انداز کیا جارہا ہے، ترقیاتی کام نہیں ہورہے، عمائدین کا پریس کانفرنس سے خطاب

استور کو نظر انداز کیا جارہا ہے، ترقیاتی کام نہیں ہورہے، عمائدین کا پریس کانفرنس سے خطاب

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (سٹاف رپورٹر)استور سپریم کونسل باڈی کے کنوینئیر ڈاکٹر عباس نے کہا ہے کہ استور کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اتحاد و اتفاق کی اہم ضرورت ہے۔مسائل کے حل کے لئے مشترکہ طور پر55 رکنی سپریم کونسل کی تشکیل دی ہے۔اس کونسل میں تمام سیاسی پارٹیوں کے ار کان ،ریٹائرڈ آفیسران سمیت تمام مکتب فکر کے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔

منگل کے روز کونسل کے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ضلع استور سیاحت اور دفاعی اعتبار سے اہمیت کاحامل ہے۔اس کے باوجود گلگت استور روڈ تاخیر کا شکار ہے کئی سال سے اس کی تعمیر کیلئے مختص 33 کروڈ روپے کوئی حکومت ریلیزنہ کر سکی ہے اور لیڈر شپ کا فقدان کے باعث 95% ترقیاتی کام زیر زمین چلے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 13 سال قبل پرائمری سکول کو اپ گریڈ کرنے کے لئے بلڈنگ بنایا گیا جس میں تا حال اسٹاف تعینات نہیں کیا گیاہے۔اس جدید دور میں بھی تعلیم کا بہت زیادہ فقدان ہے۔استور میں خواندگی کی شرح افسوسناک حد تک کم ہو گئی ہے۔امیر طبقہ شہروں میں منتقل ہر کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھا رہے ہیں جبکہ غریب عوام کے بچے تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔صحت کی سہولیات سمیت سڑکوں کی خستہ حالی کو دیکھ کر کسی ضلع کا گمان نہیں ہوتا ہے۔خاص کر دور دراز کے علاقوں کے عوام آج بھی 70 سال پہلے والے دور سے گزر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ استور کو پسماندہ رکھنے کے لئے صوبائی حکومتوں ،منتخب سیاسی نمایئندوں سمیت عوام کی بھی غفلت شامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ استور کے عوام اب بیدار ہو چکے ہیں اور اپنے تمامم حقوق کے حصول کیلئے مل کر جدوجہد کرنے کا عزم لیکر ہم میدان میں اترے ہیں ۔ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں صرف علاقہ کی تعمیر وترقی ،عوام کی خوشحالی اور محرومیوں کا ازالے کا ایجنڈا لیکر آئے ہیں

انہوں نے کہاکہ عوام متحد ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت کسی بھی قوم کو حقوق سے محروم نہیں رکھ سکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ضلع میں بے روز گار اور غربت کی شرح کے ساتھ ساتھ ناخواندگی میں بھی اضافہ ہوتا جارہاہے اور پرائیویٹ سیکٹرز نہ ہونے سے ہر فرد کی نظر سرکاری ملازمت پر مرکوز ہے اگر ملازمتوں میں بھی یہاں کے نوجوانوں کو نظر انداز کیاجائے تو یہ افراد کہاں جائیں گے اور کہاں سے کمائیں گے حکومت سرکاری ملازمتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکیٹرزبھی پیدا کرے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔