قومی لباس

قومی لباس

50 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

میرے ایک پوسٹ پر بہت سارے تبصرے ہوے۔۔تلخ و شرین ۔۔نفرت سے پر ۔۔محبت سے بھر پور ۔۔میں نے اپنے قومی لباس شلوار قمیص کا ذکر کیا تھا ۔۔۔میرا مطلب یہ تھا ۔۔کہ اگر پاکستان کا وزیر اعظم امریکہ کے دورے پر شلوار قمیص،شروانی اور جناح کیپ پہن کر جائے تو ساری دنیا لباس دیکھ کر ہی سمجھے گی کہ یہ پاکستان کا وزیر اعظم ہے ۔۔ایسا کیوں نہیں کرتے ہیں کیا لوگ ہمیں حقیر سمجھیں گے ۔۔اس پر کچھ دوست سیخ پا ہو گئے گویا کہ ابھی میں ان سے پینٹ شارٹ اتروا کے ان کو شلوار قمیص پہنواتا ہوں ۔۔ایک نے کہا کہ میں آج سے فیس بک استعمال کرنا چھوڑ دونگا۔۔ایک نے کہا کہ موصوف جوتوں کی جگہ ’’کرکوٹ‘‘ پہن لے ۔۔کچھ نے بہت پسند کیا ۔۔چترال کے قابل فخر فرزند غلام انبیاء صاحب نے اپنے امریکہ کے ایک تجربے کو شیر کیا ۔۔۔

قران میں لباس کا ذکر ہے ۔۔عریانی انسان کی بلکہ کسی بھی مخلوق کی فطرت نہیں ۔۔خلق کائینا ت نے حیوانوں کے بد ن بھی عین پردے میں تخلیق کیا ہے ۔۔پھر بہترین لباس تقوے کو کہا ۔۔تقوے میں تو شرم حیا شامل ہے ۔۔۔اور پھر بہترین لباس وہ ہے جو بہترین پردہ ہو ۔۔بد ن کے وہ حصے جو پردہ کہلاتے ہیں چھپ جائیں ۔۔فخر موجوداتﷺ نے کبھی شلوار نہیں پہنی ۔۔مگر ایک بار بازار تشریف لے گئے بازار میں یمن سے شلوار قمیص لائے گئے تھے رسول مہربان ﷺنے پسند فرما کر خریدے ۔۔۔صحابی رسول ﷺ نے عرض کیا کہ ۔۔۔یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ یہ پہن گے ۔۔آپﷺ نے فرمایا ۔۔ہان یہ میں دن کو بھی پہنونگا ۔۔رات کو بھی یہ عین پردہ ہے ۔۔اسلام میں لباس پر قدغن نہیں اس لئے کہ اسلام عالمگیر ہے یہ کسی ایک علاقے کے لئے یا طبقے کے لئے نہیں ۔۔لباس میں جعرافیائی حالات کا بڑا دخل ہوتا ہے ۔۔سرد علاقوں کے لباس گرم علاقوں میں نہیں پہنا جا سکتا اور نہ گرم علاقوں کے سرد علاقوں میں ۔۔لیکن پردہ معیا رہے ۔۔اور پھر جس ملک میں ہم ہیں اس کے آئین میں قومی لباس کا ذکر ہے ۔۔اس کے بڑوں نے یہ پہنا ہے ۔بابائے قوم کے نام پہ کیپ کا نام رکھا گیا ہے ۔۔مجھے تو خاکم بدہن اس با ت پہ اعتراض نہیں کہ کون کیا پہنتا ہے ۔۔مگر یار وں نے اس کو معرب اور ایجادات وغیرہ سے جوڑ دیا ۔۔نہ پتلون پہنے سے ایجادات ہوتے ہیں اور نہ شلوار قمیص پہنے سے ایجادات نہیں ہوتے ۔ایجادات کے راستے میں لباس رکاوٹ نہیں ۔۔ہم نے محنت چھوڑ دی ۔۔سائنس اور ٹیکنالوجی سے جی چرایا ۔۔یہ ہم سب کہتے ہیں جو پتلون پہنتے ہیں وہ بھی شلوار قمیص والے بھی ۔۔۔حیرت اس بات پہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو ملامت کرتے جاتے ہیں ۔۔ہمارے بڑے سائنسدان نہیں بنے ہم کیوں نہیں بنتے ۔۔ہمارے سامنے کونسی چیز رکاوٹ ہے ۔۔قومی شناخت تقلید میں نہیں ہوتی ۔۔ہم مسلمان ہیں ہماری اپنی شناخت ہے ۔۔ہم پتلون پہنے والے کو کبھی ملامت نہیں کی ۔جس کی اجازت ہمارا اسلام دیتا ہے ہم اس پر کلام نہیں کرتے ۔۔البتہ قومی شناخت الگ مسلہ ء ہے ۔۔ہم ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں ۔۔ہم نے اپنے لئے دستور بنایا ۔۔اس میں لکھا کہ قومی زبان اردو ہے ۔۔۔قومی لباس شلوار قمیص ہے ۔۔یہاں تک کہ قومی پھول ،پرندہ ،کھیل وغیرہ تک لکھا ۔۔اگر یو این او میں اس بات پر پابندی لگائی جائے کہ ہر ملک کا وزیر اعظم اپنے قومی لباس میں آجائے تو کیا پاکستان کا وزیر اعظم پینٹ شرٹ میں جائے گا ۔۔پھر تہذیب اور ثقافت پہ بحث ہوئی ۔،عربی میں ایک جملہ ۔۔۔ثقف السیف ۔۔ٹیڑھی تلوار کو درست کرو ۔۔۔۔اس کا یہ مطلب ہوا کہ ثقافت غیر فطری چیزو ں کو چھوڑنے کا نام ہے ۔۔ہر علاقہ ۔ہر ملک ،ہر قوم کی اپنی ثقافت ہوتی ہے ۔۔اور ثقافت کے اصولوں پہ عمل کرنے کا نام ’’تہذیب‘‘ ہے اگر کوئی کسی اصول کو پائمال کرے تو اس کو’’بد ثقافت‘‘ نہیں کہتے ’’بد تہذیب‘‘کہتے ہیں ۔۔اگرشلوار قمیص ہماری ثقافت ہے تو پینٹ شرٹ پہنے والے کس زمرے میں آتے ہیں ۔۔کسی زمرے میں نہیں آتے کیونکہ اسلام میں لباس پر قدعن نہیں ۔۔یہ چھوٹی موٹی باتیں ہیں ۔ہمارا مقصد عالمگیر ہونا چاہئے ہم دنیا کے لئے مثال بن جائیں ۔۔تنقید کی جگہ ایک دوسرے کوملامت کرنے کی جگہ آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور آگے ۔۔تب نہ ہمارے ساتھ پینٹ شرٹ برے لگیں گے نہ شلوار قمیص ۔۔دور بدل رہا ہے دور کے تقاضے بدل رہے ہیں ۔۔مقابلہ ہے۔۔ کشمکش ہے ۔۔برتری ایک روگ بن گیا ہے ۔۔حق اور باطل کا معرکہ اور جان لیو ابن گیا ہے ۔۔آگے بڑھنے کے خواب ہیں ۔۔پل پل کا حساب کتاب ہے ۔۔وقت سمٹ گیا ہے ۔۔ایک منٹ ضائع کرو گے تو قرنوں کا نقصان ہو گا ۔۔پیچھے رہ جاؤگے تو غلامی مقدر ہے ۔۔بھیک مانگنا پڑتا ہے اس لئے سوچیں بہت بلند رکھنا پڑتا ہے ۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔