جیسی کرنی، ویسی بھرنی

جیسی کرنی، ویسی بھرنی

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: ایس ایم شاہ

انسانی زندگی  خوشی و غم، مشکلات و آسائشیں، فقر و دولتمندی، بیماری و صحت، خوشحالی و بد حالی، سکون و اضطراب کا مجموعہ ہے۔ زندگی کے بعض مراحل میں انسان  آرام و آسائش میں ہوتا ہے  تو دوسرے بعض مراحل میں تنگ دستی و کسمپرسی کے عالم میں لمحات گزار رہا ہوتا ہے۔ کبھی صحت  و تندرستی اس کی قدم چومتی ہے تو بسا اوقات بیماریاں اس کی راہ میں آڑے آتی  ہیں۔ کبھی خوشیوں سے پھولا نہیں سماتا ہے تو کبھی غم سے نڈھال دکھائی دیتا ہے۔آج اگر اس کے ہاں مال و دولت کی بھرمار ہے تو   کل  وہی شخص روٹی کے ایک ٹکڑے کے لیے ترس رہا ہوتا ہے۔ آج اگر  اقتدار کے نشے میں مست دکھائی دیتا ہے  تو کل کروٹیں بدلنے کے لیے بھی وہ کسی کا محتاج دکھائی دیتا ہے۔بسا اوقات  تو حالات کی نزاکت   اور امن و امان کے ناپید ہونے کے سبب مضطرب لمحات گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے  اور پرسکون زندگی خواب بن کررہ جاتی ہےتو بسا اوقات امن و سکون کی فضا میں لطف اندوز ہونے کا  اسے موقع  نصیب ہوتا ہے۔پس یہ زندگی کے لوازمات ہیں ،نہ ان نعمتوں کے ملنے سے انسان  کو مغرور و سرکش ہونا چاہیے اور نا ہی ان سے محرومی پر  ناامیدی کے بھنور میں پھنسنا چاہیے،  نہ  ایوان اقتدار پر قابض ہونے کی صورت میں کسی پر ظلم روا رکھنا  چاہیے اور نا ہی  اقتدار کے ہاتھ سے جانے یا اقتدار کے نہ ملنے  اور نعمتوں  کے سلب ہونے پر گردن جھکا  کر مظلوم بن کر ہر کسی کے ظلم کو سہنے اور سہمے سہمے زندگی گزارنے کا عادی بننا چاہیے،  نہ مال و ثروت کے بھرمار ہونے پر قارون ثانی بننا چاہیے اور نہ ہی تنگدستی میں مبتلا ہونے کی صورت میں گداگر کو اپنا شیوہ بنانا چاہیے،  نہ صحت و تندرستی کے ایام میں عیش و نوش اور لہو و لعب کو اپنا وتیرہ بنانا چاہیے اور نہ ہی بیمار پڑنے پر کفریہ جملوں کا ورد کرنے والا۔غرض اس دنیا کی ہر نعمت سے ہمکنار ہونا یا ان سے محروم رہنا دونوں امتحان کے دو متفاوت طریقے ہیں۔ بعض افراد کو اللہ تعالی نعمتوں کی کثرت سے آزماتا ہے تو دوسرے بعض کو  ان سے محروم رکھ کر آزمائش میں ڈالتا ہے۔ بعض کو تندرستی کے ذریعے ابتلا میں ڈالا جاتا ہے تو دوسرے بعض کو موت و حیات کی کش مکش میں رکھ کر پرکھ لیتا ہے۔ بعض کے ہاتھوں  طناب اقتدارتھماکے آزمائش میں ڈالتا ہے تو دوسرے بعض کو اس سے محروم رکھ کر آزماتا ہے۔ نہ یہاں کی نعمتیں ابدی ہیں اور نا ہی بلائیں دائمی بلکہ  دونوں گزرا اور وقتی  ہیں۔ خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان دونوں حالتوں میں اس اہم امتحان میں کامیاب قرار پائے۔  ہمیں چاہیے کہ دونوں صورتوں میں  اللہ کی رضامندی کو ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے عبادات میں ہمیشہ اپنے سے برتر لوگوں کی طرف دیکھنا چاہیے جبکہ مال و دولت وغیرہ کی نسبت سے ہمیشہ اپنے سے کمتر لوگوں پر نظر رکھنا چاہیے۔یوں ہر حالت میں اسے زندگی میں لطف محسوس ہوگا۔ حضرت علیؑ نے فرمایا: اے لوگو!بے شک یہ دنیا جلد گزرنے والی ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والی۔ پس اس گزرنے والی جگہے سے تم ہمیشہ رہنے والی جگہے کے لیے زاد راہ لے کے جانا۔ پس تم اپنے دل سے دنیا کی محبت کو نکال پھینکو اس سے پہلےکہ تم خود اس سے نکل جاؤ! پس در حقیقت تم آخرت کے لیے خلق کیے گئے ہو جبکہ دنیا میں تم قید حیات میں ہو۔ جو بھی اس دنیا سے جاتا ہے تب ملائکہ کہتا ہے کہ اس نے اپنے لیے آگے کیا بھیجا ہے جبکہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے کیا چھوڑا ہے۔ پس تم نے خدا کے پاس حاضر ہونا ہے۔ تم اپنے وہاں پہنچنے سے پہلے زاد راہ بھیجو تاکہ وہاں پہنچنے کے بعد تمہارے لیے فائدہ مند ثابت ہو، ایسا نہ ہوکہ کچھ بھیجے بغیر تم خود وہاں پہنچ جاؤ تو تم دھوکہ کھاؤ گے۔ جان لو کہ دنیا اس زہر کہ مانند ہے جسے ان جانے میں بھی کوئی پی لیتا ہے تو بھی  یہ اس کی جان لے لیتا ہے ورنہ عاقل تو اس کی طرف ہاتھ ہی نہیں بڑھاتا ہے۔﴿۱﴾ایک عارف باللہ کے بقول تمام برائیوں کی جڑ ہمارا خدا کو حاضر و ناظر نہ  مانناہے۔ اگر کہیں خفیہ کیمرا لگا  ہوا ہونے کا احتمال ہو تو ہم ہر وقت محتاط رویہ اپناتے ہیں جبکہ خدا کے حاضر و ناظر ہونے کا اعتقاد تو ہم رکھتے ہیں لیکن مقام عمل میں ہم ہر وقت اس سے غافل  برتتے  ہیں۔

چونکہ انسان کی اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے لہذا اس دنیاوی چند روزہ زندگی کو ابدی زندگی کے لیے زاد راہ فراہم کرنے کا وسیلہ بنانا چاہیے۔ آخرت کی نعمتیں بھی ابدی ہیں اور وہاں کا عذاب بھی ہمیشگی۔ ہو سکتا ہے یہاں کا ایک چھوٹا ساکام اس ابدی زندگی کے سنورنے کا پیش خیمہ بن جائے یا ہلاکت ابدی کاموجب ثابت ہو۔ بے وقوف  اور کم عقل ہیں  وہ افراد جو آخرت کی  ابدی زندگی کو دنیا کی چند روزہ زندگی پر قربان کردیتے ہیں۔ یہ سودا ایسوں کے لیے بہت ہی مہنگا پڑے گا۔ احادیث کی رو سے اس زندگی کے لمحات بادل کی مانند گزر جاتی ہیں جبکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔﴿۲﴾رسول اکرمؐ کے فرمان کی رو سے دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔(3) مرنے کے بعد صرف اور صرف انسان کا نیک عمل ہی اس کا کام آئے گا۔ آئیے عہد کیجیے کہ ہم اپنی دنیاوی زندگی کو اخروی زندگی کے لیے پیش خیمہ قرار دیں گے، انسانیت کی خدمت کو اپنا وطیرہ، مسلمانوں کے باہمی اتحاد کے فروغ  کی کوشش کو  اپنی عادت، ملک دشمن اور انسان  دشمن عناصر کی سرکوبی کو اپنا شیوہ  اور دوسروں کے  دکھ درد بانٹنے کو اپنی فطرت ثانیہ  بنادیں گے۔ یوں ہم دنیا میں بھی سرخرو رہیں گے اور آخرت میں بھی کامیابی ہماری قدم چومے گی۔

مآخذ:

  1. إرشاد القلوب إلى الصواب (للديلمي) / ج‏1 / 19 / الباب الثاني في الزهد في الدنيا ….. ص : 16

  2. نهج البلاغة (للصبحي صالح) / 471 / 21 – ….. ص : 471

  3. مجموعة ورام / ج‏1 / 183 / بيان ما يحمد من الجاه ….. ص : 183

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔