برگل پاور ہاوس کا تباہ شدہ آبی گزرگاہ ایک ماہ بعد بھی بحال نہ ہوسکا

برگل پاور ہاوس کا تباہ شدہ آبی گزرگاہ ایک ماہ بعد بھی بحال نہ ہوسکا

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اشکومن ( کریم رانجھا) ؔ برگل پاور ہاوس کا تباہ شدہ چینل ایک ماہ بعدبھی بحال نہ ہوسکا،علاقہ تاحال تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے ، محکمہ برقیات غذر کی نا اہلی کا پول کھل گیا ،متعلقہ سائیٹ انجینئر کی غلط پلاننگ اور ٹھیکیدار کی ناقص تعمیرات کے باعث تعمیرکردہ چینل تعمیر کے ایک دن بعد ہی دوبارہ منہدم ہو گیا جس کی ازسرنو تعمیر شروع کر دی گئی ہے مگر تعمیر کا کام کچھوے کی رفتار سے بھی سست ہے ۔

تفصیلات کے مطابق برگل پاور ہاوس کا چینل لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 30مارچ کو تباہ ہو چکا تھا جس باعث تین بڑے مواضعات برگل ،کوچدہ اور چٹورکھنڈ کے عوام کیلئے بجلی مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے ۔محکمہ برقیات ضلع غذر کے حکام نے بظاہرچینل کی تعمیر کا کام ایک غیر مقامی ٹھیکدار کے حوالے کر دیا تھا مگر ناقص حکمت عملی اور تعمیر کے باعث چینل کی بحالی کا کام کامیاب نہ ہو سکا ۔

عوامی دباؤاور احتجاج کے باعثٖ محکمہ برقیات نے چینل کی بحالی کی بجائے پائپ بچھا کر فوری طور پر علاقے کیلئے بجلی فراہم کرنے کا اعلان کر دیا اور وقتی طور پر عوام کا غصہ کم کرنے کیلئے متاثرہ علاقے کے عوام کو ا شکومن پاور ہاوس سے جزوی طور پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ د ریں اثناء ا یکسیوٹر کے آپر یٹر نے معمولی کام کرنے کے بعد متاثرہ مقام کو لینڈ سیلائیڈنگ کاخدشہ ظاہر کر کے کام کرنے سے انکار کر دیا جس کے باعث کام مذید تاخیر کا شکار ہو گیا ہے ۔چینل کی بحالی کے کام میں مسلسل تاخیر اور سست روی کے باعث اہل علاقہ شدید زہنی اذیت میں مبتلا ہیں ۔دوسری طرف عوام اشکومن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اورمحکمہ برقیات کی کاہلی اور عدم دلچسپی کے خلاف احتجاج کیلئے کمر کس لی ہے ۔اس حوالے سے عوامی بجلی کمیٹی کے زمہ داران نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر چینل کا کام مکمل کر کے علاقے کیلئے بجلی کی ترسیل یقینی نہیں بنائی گئی تو عوام سڑکوں پر نکل آئینگے احتجاج کے نتیجے میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ رونماہو نے کی صورت میں تمام تر زمہ داری متعلقہ محکمہ پر عائد ہوگی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author