انٹر کالج طاوس یاسین میں طلبہ سے بھاری فیس کیوں لی جارہی ہے؟ سابق ممبر اسمبلی ایوب شاہ کا سوال

انٹر کالج طاوس یاسین میں طلبہ سے بھاری فیس کیوں لی جارہی ہے؟ سابق ممبر اسمبلی ایوب شاہ کا سوال

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یاسین (معراج علی عباسی ) سابق ممبرقانون ساز اسمبلی و صدر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع غذر محمد ایوب شاہ نے کہا کہ سرکاری طور پر منظور شدہ ریگولرانٹرکالج طاوس یاسین میں بچوں سے بھاری فیس لی جارہی ہے جوسراسر غیرقانونی اورغیریب لوگوں کے ساتھ ظلم ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیمات عامہ یاسین کے طلباء کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی بند کرئے ۔ ہائی سکول طاوس کے احاطے میں تعمیرشدہ ہائیرسیکنڈری سکول کی بلڈنگ کو 2012میں انٹرکالج کا درجہ دیکر نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے ۔کالج انتظامیہ گزشتہ پانچ سالوں سے سرکاری کالج میں غیرقانونی طور پر بچوں سے 700روپے فی کس ماہانہ فیس وصول کررہے ہیں ۔

انہوں نے کہا ہے کہ گورنمنٹ ہائی سکول طاوس میں موجود ہائیرسیکنڈری سکول کے بلڈنگ میں چلنے والی گورنمنٹ انٹرکالج طاوس میں طلباء وطالبات سے غیرقانونی طور پر بھاری فیس وصول کر نے کے خلاف ممبرقانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان راجہ جہانذیب اور سابق ممبرقانون ساز اسمبلی محمد ایوب شاہ کے قیادت میں عمائدین یاسین پرمشتمل عوامی وفد وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفظ الرحمان ، چیف سیکرٹری گلگت بلتستان اور سیکرٹری ایجوکیشن گلگت بلتستان سے ملاقات کرینگے ۔

ان کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیمات عامہ گلگت بلتستان یہ واضح کرئے کہ انٹرکالج طاوس باقاعدہ سرکاری کالج ہے یا پرائیؤیٹ ہے ۔اگریہ سرکاری کالج ہے تو بچوں سے بھاری فیس کیوں اور کس مد میں لی جارہی ہے۔اگریہ ابھی تک پرائیویٹ کالج ہے تو بتایا جائے کہ 2012 میں جاری شدہنوٹیفیکشن کا بنا ۔

اس حوالے سے عوامی تحفظات اور خدشات کو دور کرنے کے لیے یاسین سے ایک اعلیٰ سطی وفدلیکر زمدار سیاسی و سرکاری حکام سے ملاقات کرکے انٹرکالج طاوس کی قانونی حثیت کو واضح کرینگے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈائیریکٹرکالجز منظور کریم نے انٹرکالج طاوس میں اپنے دورئے کے دوران کہا ہے کہ ہائیرسکینڈری سکول فار بوائزطاوس اور ہائیرسکینڈری سکول فار گرلز طاوس باقاعدہ سرکاری انٹرکالجزہے ۔تاہم کالج کا پی سی فور اپ تک نہیں ہوا ہے جس باعث کالج میں سٹاف اور دیگر ضروری چیزوں کی کمی ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔