کھرمنگ کے علاقے گومہ پاری میں دو سال کے دوران ایک لنک روڑ مکمل نہ ہوسکا

کھرمنگ کے علاقے گومہ پاری میں دو سال کے دوران ایک لنک روڑ مکمل نہ ہوسکا

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کھرمنگ (سرور حسین سکندر سے) گومہ پاری تک بننے والا لنک روڈ چند مفاد پرست سیاسی افراد کی مداخلت سے دو سال گزرنے کے باوجود مکمل نہ نہ ہو سکا ،گومہ پاری کے عمائدین کا دعویٰ ہے اگر متعلقہ محکمے کی جانب سے جلد کام شروع نہیں کیا گیا تو گومہ پاری اور غورکن کے عوام محکمہ اور ٹھکیدار کے خلاف بھر پور احتجاج کرینگے عمائدین گومہ پاری میں مولوی عون علی،آخوند غلام عباس ،صوبیدار حاجی محمد علی اور مولوی محمد حسن نے ایک پریس ریلیز میں الزام لگا یا ہے کہ متعلقہ ٹھکیدار کی جانب سے علاقے کے کوہل کو مذکورہ لنک روڈ میں شامل کیا ہے جس سے گومہ پاری کے قدیم آپاشی نظام تباہ ہو کے رہ گیا ہے اور جگہ جگہ پانی کی لیکیج سے قریبی رہائشی مکانات بھی متاثر ہو رہی ہیں جبکہ عوام کی جانب سے مذکورہ روڈ کی مطلوبہ پیمائش کے دوران قدیم آبپاشی کے اس واحد زریعے کو روڈ میں شامل نہ کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا تاہم اس کے باوجود نظام آبپاشی کو متاثر کیا گیا/

عمائدین گومہ پاری نے یہ بھی الزام لگایا کہ متعلقہ ٹھکیدار کو گومہ پاری میں موجود خطرناک موڑ کو بھی توسیع کرنے کا کام دیا تھا تاہم اس پر بھی کام تسلی بخش نہیں ہوا ہے جس پر کسی وقت بھی حادثہ رونما ہو سکتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے سال لنک روڈ گونگمہ اور خورکن کو ملانے والی واحد پل جو حالیہ سیلاب میں بہہ گئے تھے اس کی تعمیر کا کام فوری شروع کیا گیا تھا لیکن چند مفاد پرست افرادنے متعلقہ ٹھکیدار کو کام کرنے میں مشکلات پیدا کیا جس کی وجہ سے پل کا کام التوا کا شکار ہوا اور جس افراد نے بھی یہ کام کیا ہے ہم ان افراد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں کیونکہ ان افراد کو علاقے کی عوام کے مشکلات کا کوئی اندازہ نہیں ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔