وعدے اور بس وعدے

وعدے اور بس وعدے

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر: دردانہ شیر

موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی ملک کے کونے کونے سے ہزاروں کی تعداد میں سیاحوں نے گلگت بلتستان کا رخ کر دیا ہے اور یہاں کی پرُ فضا مقامات پر ڈیرے ڈال دئیے ہیں یہاں آنے والے سیاحوں کو اگر کوئی شکایت ہے تو وہ گلگت بلتستان کی خستہ حال سڑکیں ہیں جن پر سفر کے دوران ان سیاحوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے حالانکہ پاکستان میں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت برسر اقتدار آئی تو گلگت بلتستان کے عوام بھی یہ توقع لگا بیٹھے تھے کہ اب پنجاب اور ملک کے دیگر صوبوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی شاہراہوں کا جال بچھایا جائیگا مسلم لیگ کی حکومت کے چار سال وفاق میں پورے ہونے کو ہے مگر دیکھا جائے تو گلگت بلتستان میں ابھی تک کسی ایک شاہراہ کی تعمیر کا کام کا آغاز نہیں ہوا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلم لیگ کی وفاقی حکومت نے بھی صرف گلگت بلتستان کے عوام کو سبز باغ دیکھائے اور عملی طور پر کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا جس کی تعریف کی جائے دفاعی لحاظ سے اہمیت کا حامل گلگت سکردو روڈ کی تعمیر کے حوالے سے گلگت بلتستان میں جب مسلم لیگ (ن)کی حکومت برسر اقتدار آئی اس دن سے آج کا یہ دن ہے یہاں کے حکمرانوں کا ایک ہی لفظ تھا کہ گلگت سکردو روڈ کی تعمیر بہت جلد شروع ہوگی مگر گلگت بلتستان میں مسلم لیگ کی حکومت کے بھی دوسال پورے ہوگئے تاحال گلگت سکردو روڈ کی تعمیر کا آغاز تو دور کی بات اس خستہ حال سڑک کی مرمت تک نہیں ہوئی اور اس خستہ حال روڈ پر سفر میں نہ صرف بلتستان کے عوام بلکہ یہاں آنے والے ہزاروں سیاحوں کو بھی اس روڈ پر سفر کے دوران سخت اذیت کا سامنا کرناپڑ رہا ہے حالانکہ گلگت بلتستان کے صوبائی حکومت کے چندوزراء نے مارچ میں اس اہم شاہراہ کی تعمیر کا کام کا آغاز کی نوید سنائی تھی اور کہا تھا کہ اس اہم منصوبے کی تعمیر کا وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف افتتاع کرینگے مگر مارچ گزر گیا نہ تو وزیر اعظم آئے اور نہ ہی اس اہم شاہراہ کی تعمیر کاکام شروع ہوا جس کے بعد اخبارات میں ایک خبر نظر سے گزری جو سینئر وزیر اکبر تابان کے حوالے سے تھی جنہوں نے عوا م بلتستان کو یہ نوید سنائی کہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف رمضان کے فورا بعد گلگت سکردو روڈ کا افتتاع کرینگے دوسر ی طرف یہ بھی بتایا جارہاہے کہ 2017-18کے بجٹ میں گلگت سکردو روڈ کے لئے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی اگر یہ بات درست ہے تو اس مطلب یہ ہوا کہ گزشتہ دو سالوں میں حکمران جماعت کے اہم عہدوں پر تعینات حکام نے عوام کو صرف سبز باغ دیکھائے دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو استور روڈ کی حالت بھی روز بروز بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور استور کے عوام کے علاوہ یہاں آنے والے سیاحوں کو بھی اس روڈ پر سفر کرنا ایک عذاب سے کم نہیں ہے مگر روڈ کی تعمیر تو دور کی بات جس جس جگہ روڈ پر سلائیڈنگ سے یہ سڑک تباہ حال ہوئی ہے اس کی مرمت تک نہیں کی گئی ایسے میں گزشتہ دو سالوں سے (ن) لیگ کی حکومت کے بعض وزراء استور روڈ کو شونٹر کے راستے مظفر آباد تک ملانے کی بات کرتے ہیں جبکہ خود استور روڈ کی جو حالت ہے اس کو دیکھ کر ان وزراء کی باتیں دیوانے کی خواب نظر آتے ہیں اس کے علاوہ گلگت غذر روڈ کی طرف آتے ہیں اس روڈ کی جو قابل رحم حالت ہے اس کو دیکھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کی موجود حکومت نے غذر کے عوام کو جس انداز میں نظر انداز کیا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی سابق چیف سیکرٹری سکندر سلطان راجہ نے اپنے دور ہ غذر کے موقع پر غذر کی خستہ حال سڑک کی حالت کو دیکھ کر گاہکوچ سے غذر کی حدور تک کی سڑک کی توسعی منصوبے کی تعمیر کے لئے 20کروڑ روپے فراہم کئے جس کا باقاعدہ ٹینڈر بھی ہوا اور تعمیر اتی کمپنی نے زور شور سے اس اہم منصوبے کی تعمیر کا کام شروع کردیا اور دس کلومیٹر سڑک کی تعمیر کاکام مکمل ہی کیا تھا مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر وقت کے حکمرانوں نے اس اہم منصوبے کی تعمیر کاکام روک دیا گیا اور گزشتہ ایک سال سے اس اہم شاہراہ کی تعمیر کاکام بند ہے ہاں یہ بات ضرور ہے کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے گاہکوچ کے نواحی گاؤں گورنجر کے سامنے محکمہ تعمیرات نے ماڈل کے طور پر بنایا گیا پندرہ سو فٹ روڈ کا افتتاع ضرور کیا اس نمونے کے طور پر بنایا گیا 1500 فٹ روڈ کا افتتاع کیا ہوا اس منصوبے کی تعمیر میں تیزی لانے کی بجائے وزیر اعلی کے افتتاع کے بعد گاہکوچ بیارچی روڈ کی توسعی منصوبے کی تعمیر ہی بند کر دی گئی ایسا کیوں کیا گیا اس کا جواب تو وقت کے حکمران ہی بہتر طریقے سے دے سکتے ہیں دوسری طرف وزیر اعلی گلگت بلتستان نے گلگت میں سینئر کالم نگاروں سے باتیں کرتے ہوئے کہا تھا کہ گلگت بلتستان کی حکومت صوبائی بجٹ سے گلگت سے گاہکوچ تک کے کے ایچ طرز کی شاہراہ تعمیر کرارہی ہے جس پر ڈیڑھ ارب روپے کی خطیر رقم خرچ ہوگی اور اس اہم شاہراہ کی تعمیر یکم جنوری2017سے شروع کیا جائیگا مگر وزیر اعلی کا یہ اعلان بھی صرف اعلان کی حد تک محدود ہوکر رہ گیا تاحال اس اہم شاہراہ کی تعمیر کاکام کا آغاز تو دور کی بات ہے اس کا ٹینڈر تک نہیں ہوا جبکہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف گلگت بلتستان کی موجودہ صوبائی حکومت جس کے دور اقتدار کے دو سال پورے ہوگئے ہیں علاقے کے عوام کی اہم ڈیمانڈ شاہراہوں کی تعمیرتھا مگر دیکھا جائے تو کسی ایک اہم شاہراہ کی تعمیر کاکام کاآغاز نہیں ہوا ہاں یہ ضرور ہوا کہ غذر سے گلگت کی حدود تک غذر روڈ کی توسعی منصوبے کی تعمیر کاکام بند ضرور ہوا گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت گلگت بلتستان کو اگر ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتی ہے تو ہمارے حکمرانوں کو گلگت سکردو روڈ جگلوٹ تا استور روڈ گلگت چترال روڈ کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی لینی ہوگی اگر عوام کو صرف وعدوہ کی حد تک رکھا گیا تو آئندہ انے والے الیکشن میں 2013کے الیکشن میں جو حالت پی پی کی ہوئی تھی ایسی ہی حالت (ن) لیگ کی بھی ہوگی حکمرانوں کے پاس اب وقت ہے کہ وہ ایسے وعدوں کو عملی جامہ پہناے جن کو پورا کر نے کی ان میں سکت ہو اگر ایسا نہیں کیا گیا تو آج کے حکمران اور کل کے امیدوار صوبائی اسمبلی کس منہ سے عوام کے سامنے ووٹ لینے جائینگے۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author