خودکشیوں کے تدارک کے لئے بنائی گئی سلیکٹ کمیٹی کی کوششیں اور ہماری تجاویز

خودکشیوں کے تدارک کے لئے بنائی گئی سلیکٹ کمیٹی کی کوششیں اور ہماری تجاویز

93 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آخر کارگلگت بلتستان اسمبلی اور صوبائی حکومت نے محسوس کر ہی لیا ہے کہ گلگت بلتستان میں خود کشی ایک بڑا سماجی مسلہ بنتا جارہا ہے۔اس کا کریڈٹ ممبر گلگت بلتستان اسمبلی رانی عتیقہ کو جاتا ہے جنہو ں نے گذشتہ دنوں اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی تھی جس کی روشنی میں سپیکر اسمبلی نے خودکشی کے مسلے پر سفارشات تیار کرنے کے لئے ایک پارلیمانی سلیکٹ کمیٹی بنا دی تھی ۔کمیٹی کے سربراہ وزیر قانون گلگت بلتستان ڈاکٹر اقبال جبکہ ممبران میں وزیر سیاحت فدا خان اور اراکین اسمبلی رانی عتیقہ، نوازخان ناجی اور راجہ جہانزیب شامل ہیں۔ کمیٹی نے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت سے اپنی سفارشات مرتب کر کے اسمبلی میں پیش کرنا ہے جس کے تحت اس مسلے کے حل کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔کمیٹی اس حوالے سے تعریف کی مستحق ہے کہ انہوں نے ماضی کے روایتی انداز سے ہٹ کر پہلی دفعہ اپنا اجلاس گاہکوچ میں رکھا جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا گیا تا کہ اس اہم مسلے کے حل کے لئے وہ اپنی تجاویز پیش کر سکیں۔ اس موقع پر زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے اپنا نقطہ نظر پیش کیااور اس مسلے کے حل کے لئے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔ راقم کو بھی اس موقع پر اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا گیا ۔ گو کہ راقم نے اپنے گذشتہ دو کالموں میں اس مسلے پر سیر حاصل بحث کی تھی مگر کمیٹی کے اجلاس کے دوران راقم نے جن خیالات کا ظہار کیا ان میں اپنی گذشتہ تحریروں میں پیش کئے گئے نقاط میں مزید نقاط کے اضافے کے ساتھ چند تجاویز بھی شامل تھیں۔ اس لئے راقم کمیٹی کے سامنے پیش کئے گئے اپنے خیالات کو قارئین کی دلچسپی کے لئے اختصار کے ساتھ پیش کر رہا ہے ۔

معزیز خواتین و حضرات ! کسی بھی سماجی مسلے کے حل کے لئے تحقیقی نقطہ نظر اپنانا نہایت ہی ضروری ہے ۔خود کشی جیسے سماجی مسلے کو سمجھنے اور اس کا حل نکالنے کے لئے سماجی سائنس کے کسی ایک خاص شعبے کی فراہم کردہ معلومات کافی نہیں ہوسکتیں بلکہ اس مسلے کے حل کے لئے سماجی سائنس کے مختلف شعبوں کے ماہرین کی فراہم کردہ معلومات کو ملاکر سمجھنا ہوگا۔ اس لئے اس مسلے کے حل کے لئے انٹر ڈسپلنری اپروچ اپنانا ہوگاکیونکہ یہ ایک ایسامسلہ ہے جس کی ایک نہیں بلکہ کئی وجوہات ہیں۔ایسے بھی انسانی حقوق کے تناظر میں کسی سماجی مسلے کو سمجھنے کے لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسان کے تمام حقوق آپس میں جڑے ہوئے ہیں ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔جیسے تعلیم اور ہنر کا حق ملے گا تو روزگار کا حق بھی ملے گا،روزگار کا حق ملے گا تو صحت کا حق بھی ملے گا، صحت کا حق ملے گا تو چلنے بھرنے کا حق بھی ملے گا ، چلنے پھرنے کا حق ملے گا تو بولنے اوراظہار رائے کا حق بھی ملے گا ، اظہار رائے کا حق ملے گا تو مرضی شادی کا حق بھی ملے گا ، مرضی سے شادی کا حق ملے گا تو مرضی سے زندگی گزارنے کا حق بھی ملے گا غیرہ غیرہ

خود کشی جیسے پیچیدہ سماجی مسلے کو سمجھنے کے لئے اس مسلے کا تاریخی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ گذشتہ سالوں میں خودکشی کے رجحانات کا جائزہ لینا ہوگا۔یہ بات ٹھیک ہے کہ یہ ایک عالمی مسلہ ہے کیونکہ دنیا میں سالانہ دس لاکھ لوگ خود کشی کرتے ہیں ۔ہرچالیس سیکنڈ میں ایک شخص دنیا میں خود کشی کرتا ہے ماہرین کے مطابق 2020ء تک اس رجحان میں مزید اضافہ ہوگا اور ہر بیس سیکنڈ میں ایک خود کشی ہوگی ۔جن ممالک میں خودکشی ہوتی ہے ان میں جاپان، کوریا، امریکہ اور چین جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔بعض ممالک میں خودکشی کو قانونی طور پر جائز قرار دیا گیا ہے ۔ جس کے لئے یہ جواز پیش کیاجاتا ہے کہ اپنی مرضی سے اپنی جان لینا کسی فرد کا ذاتی عمل اور ان کا حق ہے۔ اس مقصد کے لئے بعض ممالک میں جگہیں بھی مختص ہیں۔ امریکہ میں گولڈن گیٹ پل خودکشی پل کے نام سے مشہور ہے۔ انسانی تاریخ میں اجتماعی خودکشیاں بھی ہوتی رہی ہیں جن میں 1978ء میں جم جانس کی سربراہی میں جانس ٹاون کے پیپلز ٹمپل میں 918 لوگوں کی اجتماعی خودکشی مشہور ہے۔دنیا میں خواتین کے مقابلے میں مردوں میں خودکشی کی شرح زیادہ ہے ان میں بھی پھر نوجوانوں میں یہ شرح زیادہ پائی جاتی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں سالانہ پانچ سے سات ہزار لوگ خودکشی کرتے ہیں جبکہ پچاس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ لوگ خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔

گلگت بلتستان میں سالانہ پندرہ سے بیس اوسط خودکشیاں ہوتی ہیں جن میں زیادہ تر غذر سے ریکارڈ میں آتی ہیں جبکہ دیگر اضلاع سے یہ ریکارڈ میں نہیں آتی اس کا مطلب یہ نہیں ہے ان اضلاع میں خودکشیاں نہیں ہوتی ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق گذشتہ پانچ چھ سالوں میں دس سے بارہ خودکشیاں گلگت میں ، بارہ گوجال اور ہنزہ میں ، پانچ کے لگ بھگ بلتستان میں اور پانچ سے زائد استور میں اور چند ایک دیامر بھی ہوئی ہیں ۔اس کا مطلب ہے کہ یہ واقعات ہر ضلع میں ہوتے ہیں مگر ریکارڈ میں نہیں آتے کیونکہ لوگ ان کو حادثہ سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں بلتستان میں ایک خاتون کی خودکشی ریکارڈ میں آئی ہے۔ 2000ء سے پہلے غذر میں خودکشیوں کا رجحان نہیں تھا اگر ایک ادھ خودکشی ہوتی بھی تھی تو وہ ریکارڈ میں نہیں آتی تھی کیونکہ لوگ اس کو ایک حادثہ قرار دیکر نظر انداز کرتے تھے۔ اس کے بعد جب مقامی میڈیا میں خودکشی کی خبریں آنے لگیں تو لوگ اس مسلے کی طرف متوجہ ہوگئے۔ 2000 ء سے 2004ء تک جو ترنسٹھ خودکشیاں غذر میں ریکارڈ میں آئیں تھیں وہ سب کی سب خواتین تھیں۔اس کے بعد خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں نے بھی خودکشی کرنا شروع کیا ۔مگر پھر بھی خواتین میں خودکشیوں کی شرح زیادہ تھیں۔مگر 2011 ء کے بعد خودکشیوں کے واقعات میں مردوں اور خواتین کی تعداد تقریبا برابر رہی ہے۔گذشتہ مئی کے مہینے میں جو خودکشیاں ہوئی ہیں ان میں مردوں اور عورتوں کی شرح برابر ہے ۔دس خودکشیوں میں سے پانچ خواتین اور پانچ مرد وں نے کی ہیں۔ان سب کی الگ الگ کہانی ہے مگر معاشی تنگدستی اورمایوسی ان کی بنیادی اور مشترکہ وجوہات ہیں۔

غذر میں خودکشیوں پر جو سٹیڈیز ہوئی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ گذشتہ سترہ سالوں میں اس ضلع میں ہونے والی خودکشیوں میں اکثریت خواتین کی ہے مگر گذشتہ چند سالوں سے اب یہ شرح مردوں اور عورتوں میں برابر ہے۔خودکشی کرنے والوں میں زیادہ تر سولہ سے پینتیس سال کے نوجوان ہیں جن کی شرح 53 فیصد ہے ۔خودکشی کرنے والوں میں شادی شدہ لوگوں کی شرح 73 فیصد ہے باقی غیر شادی شدہ ، منگنی شدہ اور طلاق یافتہ ہیں۔جوائنٹ فیملی والوں کی شرح 84 فیصد ہے باقی سنگل فیملی والے ہیں۔گھریلوتنازعات والوں کی شرح 46 فیصد ہے جب کہ اس کے علاوہ دیگر وجوہات والے بھی ہیں۔ کم یا غیر تعلیم یافتہ لوگوں کی شرح 56 فیصد ہے جبکہ باقی میڈل، انٹراس سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔جن لوگوں نے دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی ہے ان کی شرح 40 فیصد ہے اس کے علاوہ خودکشی کے لئے استعمال کئے گئے دیگر طریقوں میں ذہر کا استعمال، فائر نگ، پھندا ڈالنا ، دم گھٹاناوغیرہ بھی شامل ہیں۔

خودکشی کی بنیادی وجوہات میں غربت، بے روزگاری، تنہاہ پسندی، رشتوں میں عدم توازن، وجود کا بحران، منشیات کا استعمال، گھریلو جھگڑے، تشدد، کردار پر تہمت، کم عمری یا زبردستی کی شادی، غیرت کے نام پر جرائم، خوف ، مایوسی، کوئی تکلیف دہ تجربہ ، جسمانی و ذہنی اور جنسی تشدد، منشیات کا استعمال، خوارک میں عدم توازن ، جینیاتی مسائل ، مہلک یا دائمی درد یا بیماری ، دوائیوں کا بے دریغ استعمال ، احساس عدم تحفظ، امتحانات یا محبت میں ناکامی، ذہنی و نفسیاتی امراض وغیرہ شامل ہیں۔

خودکشی کے ہر واقع کی جہاں اپنی وجوہات ہیں وہاں معاشرے میں رونما ہونے والی منفی تبدیلیاں بھی اجتماعی سوچ پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔ یعنی خودکشی جیسے سماجی مسلے کو جنم دینے میں سماجی وجوہات کا عمل دخل بھی ہے ۔ماہرین کے مطابق ان وجوہات میں برابری کے مواقع نہ ہونا، منفی مقابلے کا رجحان، مادیت پرستی، وسائل کی عدم دستیابی، امید کا ختم ہونا، غیر یقینی مستقبل، مصروفیت کا نہ ہونا، حالات کی وجہ سے جذباتی پریشانی، والدین کا سخت رویہ، میڈیا، ڈرامے وغیرہ، خاندانی مسائل،سماجی عدم توازن، سماجی معاشی مسائل، ذرائع ابلاغ یا مواصلاتی ذرائع کا غلط استعمال،کرپشن، اقرباء پروری، شہری سہولیات کا فقدان یعنی تعلیم اور صحت کے مسائل اور بیڈ گورننس وغیرہ شامل ہیں۔

خودکشی کی مذکورہ وجوہات کی روشنی میں اس مسلے پر قابو پانے کے لئے قلیل اور طویل وقتی منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے ۔ قلیل مدتی منصوبوں میں ضلعی یا تحصیل سطح پر انسداد خودکشی سیل قائم کیا جاسکتا ہے جس میں تمام متعلقہ اداروں کے تمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کی جاسکتی ہے،ہلپ لائن بنا کر اس میں سائیکالوجسٹ بٹھایا جاسکتا ہے تاکہ وہ شکایا ت سنے اور راہنمائی کرسکے، خودکشی کی کوشش کرکے بچنے والوں کی نشاندہی کرکے ان کا علاج کرایا جاسکتا ہے یا ان کو درپیش مسلے کا حل نکالا جاسکتا ہے، ضلع غذر سمیت گلگت بلتستان میں نفسیاتی امراض کے شکار لوگوں کی تعداد معلوم کرنے کے لئے محکمہ صحت اور غیر سرکاری اداروں کی مدد سے ایک سروے کرایا جاسکتا ہے تاکہ ان کے علاج کا اہتمام کیا جسکے، خودکشی کے ہر واقع کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ہر واقع کی ماہرین کی مدد سے انوسٹگیشن کرائی جاسکتی ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ موت کی وجہ کیا ہے کیونکہ سٹیڈیز سے معلوم ہوا ہے کہ خودکشی کا رنگ دئیے جانے والے دس فیصد سے زائد واقعات دراصل خودکشی نہیں ہوتے بلکہ غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان پر باقاعدہ تحقیق نہیں ہوتی ہے اس لئے ان کو خودکشی کا رنگ دے کر دبا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر تحصیل سطح پر سائیکالوجسٹ اور سائیکا ٹرسٹ تعینات کئے جا سکتے ہیں تاکہ لوگوں کو نفسیاتی امراض کا علاج کرانے میں مدد مل سکے۔صحافی اور صحافتی اداروں سے گزارش کی جاسکتی ہے کہ وہ موت کے ہر واقع کو فورا خودکشی قرار دیکر رپورٹنگ نہ کریں بلکہ ایسے واقعات کو پر اسرار یا مشکوک موت لکھا کریں جب تک کہ محکمہ پولیس باقاعدہ تحقیق کے بعد موت کی اصل وجہ نہ بتا دے۔کیونکہ سٹیڈی نے انکشاف کیا ہے کہ اہل خانہ کی طرف سے خودکشی قرار دیا جانے والا ہر واقع خودکشی نہیں ہوتا ۔

طویل مدتی منصوبے میں فنڈ برائے انسداد خودکشی قائم کیا جاسکتا ہے ۔ سماجی سائنس کے مختلف مضامین کے ماہرین کی ایک ٹیم کی مدد سے گہری تحقیق کرائی جاسکتی ہے تاکہ اصل وجوہات کا پتا لگا یا جاسکے۔ محکمہ صحت کے اندر انسداد خودکشی کا الگ سیکشن بنایا جاسکتا ہے۔گلگت بلتستان سائیکاٹرک ہسپتال قائم کیا جاسکتا ہے۔گلگت بلتستان انسداد خودکشی پالیسی بنائی جاسکتی ہے۔ گلگت بلتستان یوتھ پالیسی پر از سر نو جائزہ لیکر اس پر عملدرآمد کرایا جا سکتا ہے تاکہ یوتھ کے تمام مسائل کوحل کرنے کی طرف پیش رفت ہوسکے۔ یوتھ کونسلنگ پروگرامز منعقد کرائے جا سکتے ہیں تاکہ ان کے ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی مسائل پر قابو پایا جاسکے۔نوجوانوں کو کیرئیر کونسلنگ کے ذریعے سائیکو تھراپی، سائیکولوجی، کلینکل سائیکولوجی جیسے مضامین میں ڈگری لینے کی طرف راغب کیا جاسکتا ہے۔اس مقصد کے لئے کے آئی یو اور متوقع میڈیکل کالج میں ڈیپارٹمنٹ بنائے جاسکتے ہیں۔نوجوانوں کے لئے صحت مند سرگرمیوں جیسے کھیل، میوزک، ڈانس اور دیگر ہنر سیکھانے پر کام کیا جاسکتا ہے۔خودکشی کے عالمی دن کے حوالے سے خصوصی پروگرامز منعقد کرائے جاسکتے ہیں جن میں آگاہی واک، سمینارز، کانفرنسز، تقریری مقابلے، ڈارمے، تھیٹر وغیرہ شامل ہیں۔ خودکشی کی جن وجوہات کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ان کے تدارک کے لئے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم تیار کی جاسکتی ہے جو ماسٹر ٹرینرز کے ذریعے اساتذہ، طلباء، وکلاء،علماء، صحافی، والدین اور نوجوانوں کے لئے تعلیمی اداروں کی مدد سے آگاہی مہم چلاسکیں۔ خودکشی کی اہم وجوہات یعنی گھریلو تشدد، غربت ،غیرت کے نام پر قتل، کم عمری یا زبردستی کی شادی،خواتین پر ہونے والا تشدد سمیت انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے خصوصی قانون سازی کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ان کی مدد سے معاشرے میں پائی جانے والی مایوسی پر قابو پایا جاسکے۔نیز کرپشن ، اقراباء پروری، رشوت ستانی ، سفارش کلچر، ناانصافی اور دیگر معاشرتی ناہمواریوں کو بھی ختم کرنے کے لئے بھی ایک جامع پالیسی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کے اندر پائی جانے والی مایوسی کا خاتمہ ہوسکے۔

آخر میں شیر شاہ سوری کا یہ قول یا درکھنے کے قابل ہے انہوں نے کہا تھا کہ ” نوجوانوں کے مسائل حل نہیں کئے گئے تو ان میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے ، احساس کمتری مایوسی کوجنم دیتا ہے اور مایوسی بغاوت کو جنم دیتی ہے۔” خودکشی دراصل معاشرے کے خلاف ایک فرد کا احتجاج یا بغاوت ہوتی ہے۔ خودکشی گلگت بلتستان کا بڑا مسلہ قرار دیکر اس حوالے سے ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ وقت کے ساتھ غذر سے نکل کر دیگر اضلاع میں پھیل رہا ہے اس کو نہیں روکا گیا تو آنے والے وقت میں نوجوانوں کے اندر پائی جانے والی مایوسی جرائم کو فروغ دینے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔

راقم کی طرف سے دی گئیں مذکورہ تجاویز کے علاوہ دیگر احباب نے جو تجاویز پیش کئے ان میں غربت کا خاتمہ، نوجوانوں کا مایوسی سے نکالنا، والدین کے رویوں کی تربیت، برابری کے مواقع دینا، نوجوانوں کے مسائل کو سمجھتے ہوئے پالیسیاں بنانا، خواتین کو وراثت میں حصہ دینا، گھریلو تشدد کیخلاف شکایات سیل قائم کرنا وغیرہ شامل تھے۔ بعض احباب کا خیال تھا کہ معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ایسے مسائل جنم لیتے ہیں کیونکہ ہمارا معاشرہ ایک تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اس لئے یہاں خودکشی جیسے سماجی مسائل جنم لے رہے ہیں وقت کے ساتھ یہ مسلہ خود بخود حل ہوگا۔ مگر آخر میں اتفاق کیا گیا کہ خودکشی کے واقعات پر تماشا دیکھتے ہوئے نہیں بیٹھا جا سکتا بلکہ اس کے لئے تمام اداروں اور عوام کو مل کر حد المقدور کوششیں کرنی ہوگی کیونکہ یہ مسلہ کسی ایک ادارہ یا فرد کی کوشش سے حل نہیں ہوگا جب تک پورا معاشرہ اس سے نمٹنے کا عہد نہ کرے۔اس موقع پر پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ اور ممبران نے اسمبلی میں سفارشات پیش کرنے سے قبل مزید سٹیک ہولڈزسے مشاورت کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ۔ امید ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی طرف سے کی گئی یہ کوشش باور ثابت ہوگی۔وہ احباب جو محض تنقید برائے تنقید کی روش پر کاربند ہیں اور خودکشی جیسے مسلے پر بھی سیاست کرنے کے چکر میں ہیں وہ بھی اگر اپنے آس پاس اس مسلے حل کے لئے کوشش کریں تو ان کی تنقید سے زیادہ ان کی معمولی سی کوشش اس مسلے کے روک تھام میں کار گر ثابت ہوسکتی ہے۔ ہم گذشتہ بیس سالوں سے مسائل پر لکھتے ہیں ہمارے لکھنے سے مسائل سب کے سب حل نہیں ہوئے ہیں مگر یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم تحریر و تقریر کے ذریعے معاشرے کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments