توجاچکا ہے ، پھر بھی میری محفلوں میں ہے

توجاچکا ہے ، پھر بھی میری محفلوں میں ہے

189 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

وفاقی دارالخلافہ میں فرنود عالم،خالد بن مجید،وقارفانی اوررضاہمدانی جیسے نامور صحافیوں کی محفل میں دن بھر ایسا محو رہا کہ خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔وقارفانی صاحب گلگت بلتستان کے عظیم صحافی وقراقرم پبلشنگ نیٹ ورک کے روح رواں محترم سیدمہدی صاحب کی رحلت پر سخت آفسردہ تھے ۔ اصرار کیا کہ مجھے مہدی صاحب کی یادمیں ایک کالم لکھ دینا چاہیے کیونکہ ان کی گلگت بلتستان کے لئے بے پناہ خدمات تھیں۔

میں نے فانی صاحب کے صلاح  کی حامی بھرلی اورعہدکیا کہ آج رات مہدی صاحب کی یادمیں قلم اٹھایا جائیگا۔

شام کو ہوٹل کے سنسان کمرے میں مہدی صاحب کی شخصیت پرخامہ فرسائی کی غرض سے لیپ ٹاپ آن کیا ہی تھا کہ ایک عزیز کی کال آئی۔ کال کیا تھی گویا بجلی کا کرنٹ۔ دھیمی آواز میں سسکیاں لیتے ہوئے کالربولے کہ پیارے دوست بشارت شفیع کراچی کے قریب ایک المناک حادثے میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے۔

یہ خبرمیرے لئے کسی قیامت سے کم نہ تھی۔اشکبار آنکھوں سے فوراً کال منقطع کرکے بشارت شفیع کا نمبر ڈائل کردیا۔ ایک نمبر بند جانے پر دوسرے نمبرپر کال ملائی مگر رابطہ ممکن نہ ہوسکا۔بے چینی کے عالم میں کراچی میں ایک دوست کوکال ملادی توانہوں نے بدقسمت حادثے کی خبرکی تصدیق کردی۔ خبرکی تصدیق کیا ہوئی کہ مجھ پر غم کے پہاڑآگرے۔ پھربھی یقین نہیں آرہا تھا کہ بشارت کیسے بچھڑ سکتا ہے۔ کیونکہ وہ تو صرف نام کے نہیں کام کے لحاظ سے بھی بشارت تھے۔ وہ اپنے دوستوں اور عزیزوں کی بشارت کا سبب اورلوگوں میں خوشیاں بانٹنے کا موجب تھے۔ وہ بروشاسکی ادب کے شغف اورحسن وجمالیت میں عجب تھے ۔

بشارت شفیع کے ساتھ میرا دوطرح کا رشتہ تھا۔ خونی رشتے کے اعتبار سے وہ میرے چچا لگتے تھے لیکن ان کے ساتھ میرا قلبی رشتہ خونی رشتے پر حاوی تھا۔ انہوں نے سنہ 1984میں یاسین کے گاؤں ہندور کے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی ۔گاؤں ہی سے میٹرک پاس کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کی غرض سے کراچی چلے گئے۔وہاں پرانہوں نے اپنے بڑے بھائیوں وزیرشفیع ، امتیاز شفیع اور اعجاز شفیع کی دستِ شفقت میں تربیت پاکر جلدہی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ایک شعلہ بیان مقرر کے طورپر ابھرنے لگے۔ عوامی تقریبات اور جلسہ جلوس میں اپنے منفرد فنِ تقریراورشعروشاعری سے لوگوں کے دل مول لینا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔

کراچی یونیورسٹی سے کریمنالوجی میں ماسٹرز ڈگری کے حصول کے بعد2010میں روزگار کی تلاش میں جب گلگت منتقل کیا ہوئے، تب سے ہم یک جان دوقالب کی مانند ہوئے۔ ان دنوں دن بھرگلگت کی سڑکوں کی خاک چھاننااور رات گئے تک گپیں لگانا ہمارا روزکا معمول تھا۔کوئی ایسا دن نہیں تھا جو ہماری نشت کے بغیر گزررہا ہو۔اس دوران انہوں نے اپنی مادری زبان کی ترویج وترقی کی غرض سے بروشاسکی میں غزلیں لکھنا شروع کردیا تھا۔ جوٹیال میں واقع اپنے ایک دوست کے ہاسٹل میں رات بھروہ ہمیں اپنی شاعری سے خوب محظوظ کیا کرتے اور کہہ دیتے کہ ہمیں اپنی مادری زبان اور علاقے کی ترقی کے لئے اپنے حصے کا دِیا ضرورجلانا چاہیے۔

بروشاسکی کے ساتھ ساتھ وہ اْردومیں بھی کمال کی شاعری لکھتے تھے، جو وہ کبھی کبھار حلقہ ارباب ذوق گلگت کی ادبی محفلوں میں بھی پڑھ کرسناتے تھے۔

گلگت میں کچھ عرصہ قیام کے بعدوہ دوبارہ کراچی منتقل ہوئے اور ایک نجی ادارے میں ملازمت اختیارکرلی۔ لیکن جلد ہی ملازمت کو خیرباد کہہ کر مذیدتعلیم کے حصول کے لئے بنگلہ دیش چلے گئے۔ جہاں سے انہوں نے پبلک ہیلتھ میں ماسٹرزڈگری حاصل کی۔ بنگلہ دیش سے وہ ہرہفتے کبھی موبائل تو کبھی اسکائپ پر ضرورکال کیا کرتے اور جی بھرکر گپیں لگالیتے۔

بنگلہ دیش سے فراغت کے بعد واپس پاکستان لوٹتے ہی گلگت آئے تو جوٹیال میں ان کے بڑے بھائی وزیرشفیع کی رہائش گاہ پر ملنے گیا۔رسمی سلام دعا کے بعدایک مسکراہٹ بھرے لہجے میں شکوہ کیا کہ میں نے ان کی غیرموجودگی میں شادی کیوں کرلی۔ پھر میرا ہاتھ پکڑکرسائیڈ روم لے گیا جہاں گھنٹوں تک باتیں ہوتی رہیں۔ہرچیز، ہربات سے متعلق تفصیلی گفتگو سننا اور اپنی بات کو تفصیل سے بیان کرنا ان کی ایک اہم ترین خصوصیت تھی۔

اس دوران وہ گلگت اور یاسین میں چند دن گزارنے کے بعد واپس کراچی چلے گئے اور وہاں آغاخان یونیورسٹی میں ملازمت اختیارکی۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ وہ بروشاسکی زبان وادب کی ترویج میں بہت سرگرم رہے ۔اس معاملے میں اپنے مشن کی تکمیل میں ایک مصمم ارادے کے ساتھ اس قدرآگے نکل گئے کہ انتہائی قلیل مدت میں وہ بروشاسکی غزلوں پر مشتمل پانچ البموں کے خالق بن گئے۔

ان کی منفرد اندازِشاعری اور مادری زبان سے عشق وعقیدت نے نہ صرف ایک گمنام زبان کے اندر نئی روح ڈالی بلکہ ان کی شخصیت بھی شہرت کے عروج کو چھونے لگی۔بروشاسکی غزلوں پر مشتمل ان کے البم اس زبان کے بولنے والوں کے لئے تو کسی انمول تحفے سے کم نہ تھے۔لیکن زبان سے ناآشنا لوگ بھی ان کی طرزِشاعری اورموسیقی ترتیب سے خوب محظوظ ہواکرتے۔وہ اپنی شاعری کی بدولت بروشاسکی بولنے والوں کے دلوں کی دھڑکن بن چکے تھے۔یہاں تک کہ ناقدین کو بھی ان کی بروشاسکی زبان پر گرفت اوراندازشاعری پر رشک تھا۔

بشارت شفیع صرف ایک انسان کا نہیں بلکہ ایک عہداورایک تحریک کا نام تھا۔ انہوں نے ایک ایسی صدی میں اپنی مادری زبان کی ترویج کا شمع اْجالا کیا، جہاں لوگ دنیاوی ترقی کی دوڑمیں انگریزی کو اپنی مادری زبان پرفوقیت دینا اعزاز سمجھتے تھے ۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں مادری زبان میں شعروشاعری محض دیوانگی اورآوارگی کی علامت سمجھی جاتی ہو، وہاں مادری زبان میں الفاظ کا جادو جگاکرایک مخصوص مائنڈ سیٹ کی تبدیلی کا نام بشارت شفیع تھا۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں بے پنا ہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ چاہے دنیاوی تعلیم کا میدان ہو یا دینی علوم، سیاست ہو یا معاشرتی حالات، ادب ہو یازبان، ہر معاملے میں ان کے اندرکوئی کمی کوتاہی نظرنہیں آرہی تھی۔کسی اجنبی انسان کو چند لمحوں میں عزیزترین دوست میں بدلنے،عمری تقاضوں اور ذہنی ہم آہنگی کے مطابق لوگوں سے محوگفتگو ہونے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ یاری دوستی اور قومی غیرت کے معاملات میں جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔الجھے ہوئے تعلقات کو استوارنے کا فن بھی وہ خوب جانتے تھے۔ دوستوں میں ہنسی مذاق کے زریعے مسکراہٹیں بانٹنے اور سنجیدہ امورپر گفتگومیں بھی اپنی مثال آپ تھے۔

مادری زبان کی ترویج وترقی بشارت شفیع کی وراثت تھی۔ اس مقصدکی خاطران کے بڑے بھائی وزیرشفیع کو اولین بروشاسکی گرائمرکے خالق ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جسے بشارت شفیع نے اپنی شاعری کے ذریعے خوب دوام بخشی ۔بروشاسکی زبان کوعالمی سطح پر شہرت یافتہ زبانوں کی فہرست میں شامل کرنا ان کا ایک خواب تھا۔ اس سلسلے میں وہ ملکی وغیرملکی ماہرین لسانیات کی بھرپورمعاونت کیا کرلیتے۔

علم ودانش سے بھرپوران کی شخصیت بروشوقوم کی نئی نسل کے لئے ایک کھلی کتاب ہے ،جس کا بغورمطالعے کے ذریعے بشارت شفیع کے خواب کو سچا ئی سے تعبیرکرنااس قوم کے نوجوانوں کی ایک اہم ذمہ داری بنتی ہے۔ انہوں نے بروشو قوم کی ادبی گلشن میں ایک ایسا پودا لگایا جس کی آبیاری کرکے آنے والی نسلوں کو اس کا پھل کھلانا بھی اس قوم کے نوجوانوں کا ہی فریضہ ہے۔

اسلام آباد ائیرپورٹ سے ہندوریاسین کے قبرستان تک بشارت شفیع اور میراآخری سفررہا۔ پھروہ ہمیں غم کے آنسو اور حسین یاد یں چھوڑکرابدی سفرپرروانہ ہوئے اور ہم آہوں کی سوغات لئے برخاست ہو گئے۔

شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

بدلا نہ تیرے بعدبھی موضوعِ گفتگو
توجاچکا ہے، پھربھی میری محفلوں میں ہے

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کوکروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔(آمین)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments