دو بین الاقوامی ٹیمیں کل کے ٹو سر کرنے کے لئے سکردو سے اسکولی روانہ ہونگی

دو بین الاقوامی ٹیمیں کل کے ٹو سر کرنے کے لئے سکردو سے اسکولی روانہ ہونگی

69 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو (محمد علی انجم) دو بین الاقوامی کوہ پیما ہ ٹیمیں سلسلہ قراقرم میں 8611 میٹر بلند دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کل سکردو سے اسکولی کے لئے روانہ ہو نگی۔ پہلی ٹیم نو ارکان پر مشتمل ہے ۔اس ٹیم کے لیڈر امریکن کوہ پیماہ ونیسا اوبرین نے سکردو میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی ٹیم نو ارکان پر مشتمل ہیں جس میں امریکہ ، چین ، ناروئے ، نیپال ،آئرلینڈ ،سنگاپور اور پاکستانی کوہ پیماہ شامل ہیں ۔ اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے اس سے قبل دو با ر کے ٹو سے کرنے کی کوشش کی تھی مگر موسم کی خرابی کے باعث اُنھیں اِس مہم میں کامیابی نہیں ملی لیکن اب کی بار انکی اپنی تاری بھی بہتر ہے اور ان کے ساتھ جو ٹیم ارکان ہیں وہ بھی کوہ پیمائی کے میدان میں بھر پور تجربہ رکھتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اس بار موسم کے حوالے سے جو معلومات حاصل کی ہیں اس اعتبار سے توقع ہے کہ موسم ساتھ دے گا اور اب کی بار اس مہم میں کامیابی حاصل ہوگی۔ان کا کہا تھا کہ انکی ٹیم پہلے کے ٹو پر مہم جوئی کرئے گی جس کے بعد بررڈ پیک پر قسمت آزمائی کرئے گی۔اس مہم کے لئے انھوں نے مقامی تین ماہر گائیڈز کی خدمات حاصل کی ہیں۔ انھوں نے بلتستان کے لوگوں کی مہمان نوازی اور امن پسندی کی تعریف کی اور خطے کی سیاحت دوست ماحول کوسراہا۔ان کا کہنا تھا کہ ا ن دو چوٹیوں کہ مہم پر دو ماہ سے زائد کا عرصہ صرف ہوگا اور توقع ہے کی اگست کی اکیس تاریخ تک وہ اس مہم سے واپس سکردو پہنچ سکیں گیں،

دوسری ٹیم کے ارکان جن کاتعلق میکسیکو سے ہے ۔ اس ٹیم کے لیڈر ناویریکو لوپا نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ میری ٹیم دو ارکا ن پر مشتمل ہے ہم میاں بیوٰ ہیں اور پچھلے کئی سالوں سے ہم دونوں مشترکہ طور پر کوہ پیمائی کرہے ہیں ۔ ہمارا عزم ہے کہ دنیا میں موجود آٹھ ہزار سے بلند تما چودہ چوٹیوں کو سر کر لیں ۔اب تک ہن نے ان چودہ میں سے آٹھ چوٹیوں کو سر کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ ہم پچھلے سا بھی کےٹو پر مہم جوئی کے لئے گئے تھے مگر سات ہزار میٹر کی بلندی پر جا کر موسم کی خرابی کے باعث ہم ناکام لوٹے۔ اب کی بار ہم پُر اُمید ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔