ڈیل اور ڈھیل

ڈیل اور ڈھیل

19 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عالمی سیاست بھی شطرنج کے بساط ی طرح ہے مہرے یہاں بھی وہی ہیں بادشاہ ،توب خانہ اور پیادہ یہاں بھی وہی ہے تیسری دنیا کے غریب ، مقروض اورمفلوک الحال ممالک اپنا حکمران خود منتخب نہیں کرسکتے بلکہ عالمی طاقتوں کی طرف سے حکمران تحفے میں ملتا ہے اور سزا کے طور پر حکمرانی کا حق چھین لیا جاتا ہے 2005سے 2013تک ایران سے گیس پائپ لائن پاکستان لانے کا معاملہ عالمی طاقتوں کی تشویش کا باعث تھامشرف کو اس بنیاد پر مستعفی ہونا پڑا مگر سامنے دیگر وجوہات رکھی گئیں زرداری کا زوال بھی پاک ایران گیس پائپ لائن کی وجہ سے پیش آیا چائینہ پاکستان اکنامک کوریڈورکا منصوبہ بھی مشرف کا برین چائلڈ تھا مگر کمتر درجے میں تھا زرداری کے دور میں اس پر کام تیز کرنے کو کوشش ناکام بنا دی گئی کیونکہ گوادر پورٹ مغربی ممالک کی ضرورت ہے امریکہ ، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں نے قسم کھائی ہے کہ گوادر بندرگاہ چین کو نہیں دینا ہے ہر حال میں چین سے چھین کے لینا ہے اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں کئی باتیں گردش کررہی ہیں ان میں سرفہرست سی پیک (CPEC)ہے مغربی ممالک CPECکو چینی بالادستی کا اشارہ قرار دے رہے ہیں پاکستانی قیادت کے ساتھ اس حوالے سے ڈیل کی خبریں آرہی ہیں اگر ڈیل ہوگئی تو ڈھیل ملے گی، ڈیل نہ ہوئی تو ڈھیل نہیں ملے گی تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ دوبئی میں چار فریق گذشتہ ایک سال سے مذاکرات میں محو دکھائی دیتے ہیں ایک فریق سات سمندر پار سے آیا ہے تین فریق پاکستان کی سیاسی جماعتیں ہیں عالمی طاقتیں چار ضمانتیں چاہتی ہیں CPECپر کام روک دیا جائے گا کشمیر کے مسئلے کو بھولنے کی کوشش کی جائیگی روس اور ایران کے ساتھ قطع تعلق کیا جائے گا، جوہری پروگرام اور میزائیل ٹیکنالوجی کو منجمد رکھا جائے گا پہلے تین مسائل پر گفتگو آگے بڑھی ہے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مذاکرات میں تعطل ہے اگلے دو مہینوں میں جو سیاسی قوتیں مستقبل کی حکمرانی کے لئے سامنے آگئیں وہ اس ڈیل کے نتیجے میں ڈھیل لیکر آئینگی بات پاکستان کے مستقبل کی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے مستقبل کی ہے امریکہ کے کردار کی ہے اور خطے میں امریکی مفادات کی ہے پاکستان میں مستقبل کا حکمران حامد کرزی اور اشرف غنی کی طرح امریکی مفادات کے تحفظ کی قسم کھا کر آئے گا حامد کرزی کو برلن معاہدے کی رو سے افغانستان کا حکمران بنایا گیا آصف علی زرداری اور شریف برادران کو دوبئی میں طے ہونے والے NROکے تحت باری باری اقتدارملا اب دوبئی میں پھر معاملات طے ہورہے ہیں کون کتنی لچک دکھاتا ہے؟ اور کون کتنا وفادار ثابت ہوتا ہے؟ اس کا فیصلہ اگلے دو مہینوں میں ہوجائے گا ایک امکان یہ ہے کہ جو لوگ پاکستانی سیاست میں سرگرم نظر آتے ہیں ان میں کسی کے سرپردستِ شفقت رکھا جائے گا۔ دوسرا قوی تر امکاںیہ ہے کہ معین قریشی اور شوکت عزیز کی طرح پیرا شوٹ کے ذریعے کسی کو اسلام آباد اتارا جائے گا جو اگلے 5سالوں کے لئے ہمارا حکمران ہوگا سوشل میڈیا پر نوجوان طبقہ سوال پوچھتا ہے کہ ہماری ملکی سیاست مغربی ممالک کے تابع کیوں ہے؟ ہم آزادانہ فیصلے کیوں نہیں کرسکتے ؟ نوجوان طبقے کو علم نہیں کہ پاکستان اس وقت 85ارب ڈالر کا مقروض ہے جس نے قرض دیا وہ ڈکٹیشن بھی دے رہا ہے اور ہم نے ان کا یہ حق تسلیم کیا ہوا ہے اس وقت دوبئی ، لندن اور واشنگٹن میں پاکستان کی آنے والی حکومت کا خاکہ تیار ہورہا ہے خاکہ تیار ہوگا تو اس میں رنگ بھرنے کے لئے ہمارا انگوٹھا استعمال کیا جائے گا انگوٹھا استعمال کرنے کے عمل کو جدید دور میں الیکشن کہتے ہیں الیکشن کا اعلان ہوا تو نئی صورت حال سامنے آئے گی کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے مرحلے میں ہی پتہ لگ جائے گا کہ قوم پر ست جماعتوں نے ڈیل میں کس طرح حصہ لیا ۔ مذہبی جماعتوں نے ڈیل میں کتنا حصہ وصول کیا پروگیسیو سیاستدانوں کو کتنا حصہ ملا اور سٹیٹس کو برقرار رکھنے والوں نے کن حوالوں سے کن شرائط پر ڈیل کی؟ اس ڈیل میں اسٹبلشمنٹ کا کردار پردہ راز میں رہے گا دو یا تین سال بعد اصغر خان کیس یا پانامہ پیپرز کی صورت میں حقائق سامنے آئینگے جب کہ سانپ گذر چکا ہوگا ہوسکتا ہے دا کنٹریکٹر جیسی کتاب بھی مارکیٹ میں آجائے اور سب کی غیرت کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوڑ دے کچھ نوجواں سوال کرتے ہیں کہ آخر ہمارے لیڈر غیروں کی غلامی کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟ نوجوانوں کو اس بات کا علم نہیں کہ پاکستان کے چار ائیر بیس فضائی اڈے دشمن کی تحویل میں ہیں دشمن کی باوردی فوج ہماری چھاونیوں میں بیٹھی ہوئی ہے اور یہ جنرل ضیاء الحق کے زمانے سے اب تک پختہ روایت بن چکی ہے جب دشمن کا پستول تمہاری کنپٹی پر ہو تو تم اس کی غلامی سے کیونکر انکار کرسکتے ہو؟ شاعر نے بڑی خوبصورت بات کہی ہے کہ

لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز

مگر یہ کہ رفت گیا اور بود تھا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments