ہزارہ کے بااثر وکیل اور سابق جج کا نام سمری سے نہیں نکالاگیا تو شدید احتجاج کریں گے، احسان ایڈوکیٹ صدر سپریم اپیلیٹ کورٹ بار

ہزارہ کے بااثر وکیل اور سابق جج کا نام سمری سے نہیں نکالاگیا تو شدید احتجاج کریں گے، احسان ایڈوکیٹ صدر سپریم اپیلیٹ کورٹ بار

27 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( فرمان کریم ) سپریم اپیلٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سپریم اپیلٹ کورٹ میں خالی اسامیوں کے لئے تیار کردہ حکومتی سمری میں ہزارہ کے ایک بااثر وکیل اور چیف کورٹ کے سابقہ جج کا نام شامل کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا اقدام اُٹھا یا گیا تو وہ شدید احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔

گلگت پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم ایپلٹ کورٹ بار اسیوسی ایشن کے صدر احسان علی ایڈوکیٹ، سیکرٹری فنانس محمد ریاض ایڈوکیٹ، جاوید احمد ایڈوکیٹ ممبر جی بی بار کونسل اور شوکت علی ایڈوکیٹ سینئر وکیل سپریم بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ پچھلے ایک سال ایک عرصے سے گلگت بلتستان کے وکلاء کی تنظمیں گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقریری سے متعلق قاعدہ قانون اور طریقہ کار کی حکومت کی طرف سے مسلسل خلاف ورزی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ وکلاء نے گورنر، وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری سے ملاقات میں بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا ان ملاقاتوں میں حکومت کے ذمہ داروں نے وکلاء کو یقینی دہانی کے باوجود سپریم کورٹ میں خالی اسامی کے لئے ہزارہ کے ایک بااثر اور سابقہ چیف کورٹ کے جج کا نام تاہنوز خارج نہیں کیا گیا ہے۔ وکلاء حکومت کی اس غیر سنجیدہ رویے اور وکلاء کے جائز موقف پر سرمہری ظاہر کرنے پر سخت تشوش کا اظہار کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے وکلاء حکومت کی طرف سے گورننس آرڈر 2009 میں ججوں کی تقریری سے متعلق ضابطہ کار کی غلط من گھڑت من پسند تشریح کرنے اور وکلاء کے جائز مطالبات کو یکسر نظر انداز کرنے پر سخت غم وغصہ کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر وکلاء برادری کے جائز اور قانونی و آئینی بنیادوں پر استوار مطالبات کو تسلیم نی کیا گیا تو وکلاء تنظمیں پورے گلگت بلتستان میں باقاعدہ احتجاجی تحریک کا آغاز کریں گی۔ جس کے نتیجے میں عدالتی وسیاسی نظام کے مفلوج ہو نے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری حکومت کے ان عاقبت اندیشی مفاد پرست اور اقربا پرور مشیروں اور دیگر ذمہ داراں پر عائد ہو گی جو کہ اپنے ذاتی وگروہی مفادات کے لئے حکومت کو گمراہ کر کے وکلاء کے حقوق کو غصب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان میں خالی نشت کے لئے تیار کردہ حکومتی سمری میں سے مانسرہ سے تعلق رکھنے والے وکیل ارشاد احمد شاہ کا نام فلفور خارج کیا جائے ۔ وکلاء تنظمیں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ چونکہ سپریم اپیلٹ کورٹ کی جج کی خالی نشت وکیلوں میں تعینات ایک جج کی ناگہانی انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی اور مروجہ قانون اور عدالتی روایات کے تحت اس خالی نشت پر صرف وکلاء میں سے میرٹ پر تعیناتی عین قانونی وجائز ہے اسے فوری طور پر تسلیم کیا جائے اور مجوزہ حکومتی سمری میں سپریم کورٹ کی خالی نشت پر سابقہ چیف جج چیف کورٹ کا نام شامل کرنا صرف وکلاء کے حقوق پر ڈاکہ زنی تصور کیا جائے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔