ہیڈ کوارٹر کا مسئلہ حل ہو نے کے بعد داریل تانگیر ضلع کا اعلان کیا جائے گا ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان

چلاس(رپورٹر) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ دیامر میں تین ارب کے ترقیاتی منصو بوں پر کام جاری ہے۔ پہلے یہاں آتے ہو ئے شرمندگی ہو تی تھی پورا ضلع نامکمل ترقیاتی منصو بوں کا قبرستان بنا ہوا تھا ۔ اب ترقیاتی منصو بوں پر کام ہو رہا ہے ۔ گزشتہ حکو مت کے دور میں گلگت بلتستان کو کھنڈرات میں تبدیل کیا گیا ۔ کرپشن کا بازار گرم تھا ۔ نو کریاں بک رہی تھیں ۔ مسلم لیگ کو عوام نے دو تہائی اکثریت سے کامیاب کیا جس کے بعد صو بے میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ وفاق سے اربوں روپے کے پراجیکٹس لائے اور سرکاری اداروں کا سٹر کچر درست کیا ۔ مسلم لیگ میرٹ پر یقین رکھتی ہے اور پارٹی منشور کے مطابق گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے ۔ اپنے دورہ چلاس کے موقع پر وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان نے صوبائی وزراء حاجی جانباز خان ، حیدر خان اور ثوبیہ مقدم کے ہمراہ باب چلاس تا ڈسٹرکٹ جیل روڈ ، انٹر گرلز کالج ، چلاس ٹاؤ نز کی سڑکوں کا افتتاح کیا اور پارٹی وفود سے ملاقات کی ۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ دو ارب کی لاگت سے بٹو گاہ روڈ بنایا جائے گا ۔ یہ گلگت بلتستان کو پاکستان سے ملانے والا تیسرا پوائنٹ ہو گا ۔ چلاس کیڈٹ کالج کیلئے ڈیڑھ ارب روپے رکھے گئے ہیں جو دو سال کے عرصے میں مکمل ہو گا۔ پورے خطے میں مردہ ترقیاتی منصو بے تیزی کے ساتھ مکمل کیئے جا رہے ہیں ۔ ہیڈ کوارٹر کا مسئلہ حل ہو نے کے بعد داریل تانگیر ضلع کا اعلان کیا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ مو جودہ حکو مت کے دور میں صحت کے شعبے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے پہلے گلگت بلتستان میں صرف 154 ڈاکٹرز تھے اب پانچ سو ڈاکٹرز ہیں۔ دو سے تین ماہ کے اندر دیامر میں سولڈ ویسٹ منیجمنٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ ریسکیو 1122 میں مزید بھرتیاں عمل میں لا کر اسے مزید فعال کیا جائے گا ۔ شہر میں نکاسی آب کیلئے فزبیلٹی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ 24 انچ گریٹر واٹر سکیم پر کام تیزی کے ساتھ جاری ہے ۔ ضلعی انتطامیہ کو فری ہینڈ دیا ہے کہ وہ قانون کی بالادستی قائم کریں اور نامکمل ترقیاتی منصو بے مکمل کرائیں ۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنی سیاست زندہ رکھنے کیلئے مسلک اور قومیت کا کارڈ استعمال کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایسی پارٹیاں ہیں جنہوں نے دوبار ہ کبھی اقتدار میں نہیں آنا ۔ اگر ٹیھیکوں اور نو کریوں کی بندر بانٹ سے ووٹ ملنے ہو تے تو 2015 میں عوام پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے ۔

آپ کی رائے

comments