داسو ڈیم منصوبے میں مقامی نوجوانوں کی بجائے بیرونی اضلاع سے ملازمین اور ٹرانسپورٹ سروسز کی فراہمی پر تشویش کا اظہار

داسو ڈیم منصوبے میں مقامی نوجوانوں کی بجائے بیرونی اضلاع سے ملازمین اور ٹرانسپورٹ سروسز کی فراہمی پر تشویش کا اظہار

53 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کوہستان(نامہ نگار) داسو ڈیم ، داسو ہائیڈروکنسلٹنٹ (DHC) نے متاثرین کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے بیرونی اضلاع سے ملازمین و ٹرانسپورٹ کی دھڑادھڑ درآمد گی جاری رکھی ہے ، ضلعی انتظامیہ کے احکامات بھی پاؤں تلے روند ڈالے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق یکم دسمبر 2016کومتاثرین کمیٹی اور حکام کے مابین طے شدہ معاہدے کے مطابق بیرونی اضلاع سے ڈسٹرکٹ کیڈر پوسٹوں (سکیل 14) تک بھرتی کئے جانے والے پہلے سے موجود ملازمین کی لسٹیں تیارکرکے انہیں فارغ کردیا جائیگا جبکہ بیرونی اضلاع سے درآمد کی جانے والی کرائے کی گاڑیاں بھی واپس بھیج کر مقامی لوگوں کی گاڑیاں لگادی جائینگی ، جس پر مذکورہ ادارے نے عملدرآمد نہیں کیا بلکہ مبینہ طورپرپہلے سے بھی زیادہ تعداد میں بیرونی اضلاع سے اپنے عزیز وقارب کو لاکر بھرتیاں کرنے لگے ہیں جس پر مقامی لوگوں نے انتہائی تشویش کا اظہار کیاہے ۔

ایسے میں پہلے سے موجود’’ ویگو‘‘ گاڑیاں فارغ کرنے کی بجائے مبینہ کمیشن کے عوض اُن کے کنٹریکٹ میں بھی اضافہ کیا گیاہے اور مذید گاڑیاں باہر سے لائی جارہی ہیں، جبکہ مقامی متاثرین کی اچھی کنڈیشن والی گاڑیاں رکھنے سے گریزکیا جارہا ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق ڈی ایچ سی کے پروجیکٹ منیجر طارق مسعود کمپنی کے جاپانی ذمہ دار کومس گائیڈ کرکے پروجیکٹ میں معاہدے کے مخالف کام کررہے ہیں جس سے داسو ہائیڈروپاورپروجیکٹ پر مسائل میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے ۔ درایں اثنا واپڈا اور کنٹریکٹر سائیڈ پر بھی یہی صورتحال ہے ۔ مقامی متاثرین کوصرف کلاس فور کی نوکریوں پر بہلایا جارہاہے اور اچھی نوکریوں پر باہر سے لوگوں کو بھرتی کیا جارہاہے ۔

کنٹریکٹرز میں بھی چائنیز کے ساتھ پاکستانی ترجمان ،جن کا تعلق زیادہ تر گلگت بلتستان سے ہے، نے اپنا الگ دھندہ بنارکھا ہے اور مبینہ طورپر ٹھیکداروں سے کمیشن کے عوض سڑکوں کی تعمیری کام کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی وسیع کھیپ بیرونی اضلاع سے لائی ہے، جنہیں ماہانہ کروڑوں روپے دئے جاتے ہیں ۔ اس ساری صورتحال کے پیش نظر داسو ڈیم کے متاثرین نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے آمدہ اتوار کو اجلاس طلب کرکے نئے لائحہ عمل دینے کا فیصلہ کیاہے ۔اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ نے عملدآمد کیلئے خطوط بھی لکھے مگر واپڈا اور ڈی ایچ سی ٹس سے مس نہیں ہوئے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔