کشمیر میں بھارت کی رسوائی قریب ہے

کشمیر میں بھارت کی رسوائی قریب ہے

100 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عمر حبیب

حالات بتا رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں صبح آزادی کی کرنیں پھوٹنے والی ہیں بھارت نے ظلم کے تمام حربے آزما لئے لیکن کشمیریوں کا جزبہ حریت سرد کرنے میں ناکام رہا ۔بھارت کو کشمیر میں اپنی ناکامی صاف نظر آرہی ہے اس لئے کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ کر اپنے ظالمانہ قبضے کو برقرار رکھنے کی تگ و دو کر رہا ہے لیکن اب کشمیر پر طاقت کے زور پر قبضہ برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا بات بہت آگے نکل چکی ہے کشمیر کی نوجوان نسل نے تحریک آزادی کشمیر کو نئی جہت دی ہے اور یہ نسل آزادی سے کم کسی بھی طرح راضی نہیں بھارت اپنے مظالم سے اب آزادی کی شمع کو بجھا نہیں سکتا ہے ،عجیب بات ہے کہ جب کشمیر میں بھارتی فوج کا گھیرا تنگ ہوتا ہے تو اس کا رخ پاکستان کی طرف ہوتا ہے اور کنٹرول لائن پر بے گناہ شہریوں پر فائرنگ کر کے اپنی ڈپریشن اور دباؤ کو کم کرنا چاہتی ہے بھارت کو یہ حربے اب بچا نہیں سکیں گے کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق حق رائے دہی دینے سے ہی بھارت کو سکون ہوگا اس کے علاوہ جتنے بھی مظالم ڈھائے اور چانکیائی حربے استعمال کرے اس کی خلاصی نہیں ،کشمیر کے بھارت کے ہاتھوں سے نکل جانے کی پیش گوئی نہ صرف دنیا بھر کے اہل دانش کر رہے بلکہ بھارت کے سیاستدان صحافی اور کشمیر کے بھارت نواز سیاستدان بھی کر رہے ہیں ۔سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے انڈیا کو خبردار کیا ہے کہ کشمیر ان کے ہاتھوں سے نکل رہا ۔۔ انڈیا کے معروف کالم نگار شیکر گپتا کا کہنا ہے کہ کشمیر کی جغرافیائی سرحدیں محفوظ ہیں لیکن انڈیا نفسیاتی اور ذہنی لحاظ سے کشمیر کھو رہا ہے۔ سری نگر میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں صرف سات فیصد لوگوں کا ووٹ ڈالنا اس امر کا آئینہ دار ہے کہ کشمیر میں انڈیا کی آہنی گرفت برقرار ہے لیکن لوگ ان کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔لہٰذا کشمیر میں جو تبدیلی ہے وہ انڈیا کے لیے باعث تشویش ہے۔ یہاں تک کہ اعلیٰ فوجی حکام بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ حالت انتہائی سنگین اور نازک ہیں اور اگر کشمیریوں کے مسائل کا ادراک نہیں کیا گیا تو بہت جلد بھارت کشمیر کھو دے گا۔بھارت کے سابق بھارتی وزیر داخلہ پی کے چدم برم بھی مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت کے مظالم پر چپ نہ رہ سکے اور آخر انہوں نے بھی اسی سچ کا اظہار کیا جو پوری دنیا کے ماہرین کہہ رہے ہیں ۔بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رکن پی کے چدم برم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے میری پوزیشن بالکل واضح ہے کہ ہم کشمیر کو کھو رہے ہیں مودی کی پالیسیوں کے باعث کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔بھارت کی موجودہ حکومت اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت نے کشمیر کے معاملے پر انتہائی خطرناک راستہ اپنا لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا جو راستہ بھارتی اور ریاستی حکومت نے اپنا رکھا ہے اس سے وادی میں امن نہیں آ سکتا اور نہ ہی عوام کی ہمدردیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔سابق وزیر کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر میں ضمنی الیکشن کے دوران تاریخ کا سب سے کم ٹرن آوٹ اس بات کا اشارہ ہے کہ مودی سرکار کو آگے چل کر وادی میں مزید مشکل وقت دیکھنا پڑے گا۔ حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایک معتدل پالیسی اپنانی چاہیئے تھی۔کانگریس رہنما نے مودی حکومت اور مقبوضہ وادی کی کٹھ پتلی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا دونوں حکومتوں کو اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کے مطابق تمام سٹیک ہولڈزر کے ساتھ بات چیت کریں۔ عوام کے خلاف فوج اور پولیس کا استعمال نہ کیا جائے۔یہ ہیں کشمیر کا اندرونی حالات کہ بھارت وہاں سے رسوائی کا بوجھ لئے نکلنے والا ہے لیکن اس نے اپنے م،ظالم میں کمی نہیں لائی ہے تازہ واقعہ میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں ضلع بانڈی پورہ میں مزید 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ مارے گئے نوجوان عسکریت پسند تھے جنھیں ایک جھڑپ کے دوران شہید کیا گیا۔ نوجوانوں کی شہادت کے خلاف علاقے میں تمام دکانیں، کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی، ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں بھی تین نوجوانوں مختار احمد، پرویز احمد وانی اور حسن بھائی کی شہادت پر مکمل ہڑتال کی گئی جنھیں بھارتی فوجیوں نے ہفتے کو ستورہ ترال میں شہید کیا تھا۔دریں اثنا نامعلوم افراد نے قاضی گنڈ علاقے میں نذیر احمد شاہ نامی ایک شخص کو گولی ماردی جس کے بعد24گھنٹے کے دوران شہید ہونیوالے نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر 5ہو گئی ہے۔ نوجوانوں کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔بھارتی پولیس نے حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو گرفتار کر کے انھیں سرینگر میں اپنے ماموں کی نماز جنازہ میں شرکت سے روک دیا۔مقبوضہ کشمیرمیں جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے سرپرست مولانا محمد عباس انصاری نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کنٹرول لائن پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، انھوں نے دونوں ممالک پر زور دیاکہ وہ اپنے تمام تصفیہ طلب مسائل باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔بھارت کشمیر میں مظالم تو ڈھا رہا ہے لیکن اندر سے اس کی فوج بھی شدید زہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہے اور اسی خوف میں بھارتی فوجی خودکشی پر مائل ہیں یا تو اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کرتے ہیں ۔ایک تازہ واقعے میں مقبوضہ کشمیر کے اڑی سیکٹر میں ایل او سی پر تعینات ایک بھارتی سپاہی نے اپنے میجر کو گولی مار کر ہلاک کردیا، دونوں کا تعلق راشٹریہ رائفلز آرمرڈ کور سے ہے، بھارتی وزیر مملکت برائے دفاع سبھاش بھامرے کے مطابق پچھلے سال فورسز میں اہلکاروں کے ہاتھوں اپنے ہی ساتھیوں کی ہلاکت کے 3 واقعات سامنے آئے ہیں ،۔یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ کشمیر میں صبح آزادی کی کرنیں بہت جلد پھوٹنے والی ہیں اور انشا اللہ بھارت کشمیر سے اپنی زلت اور رسوائی کا بوجھ لئے رخصت ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔