شندور پولو ٹورنامنٹ میں چترال فتحیاب، گلگت ٹیم کو ایک بار پھر عبرتناک شکست کا سامنا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( نمایندہ خصوصی) عالمی سطح پر شہرت کے حامل بلند ترین شندور پولوگراؤنڈ میں تین روزہ پولو فیسٹول چترال ٹیم کی شاندار کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ۔ یہ میچ اپنی نوعیت کی انتہائی دلچسپ اور چترال کے کھلاڑیوں کی کامیاب تربیت کی عکاس تھی ۔ شندور پولو فیسٹول کا فائنل میچ حسب روایت گلگت اے ٹیم اور چترال اے ٹیم کے مابین پیر کے روز شندور پولوگراؤنڈ میں کھیلا گیا ۔ جس میں چترال نے چھ کے مقابلے میں گلگت بلتستان کو بارہ گولوں سے شکست دے کر ٹورنامنٹ اپنے نام کر لی ۔ اور ہزاروں تماشائیوں کے دل جیت لئے ۔ اس میچ کے مہمان خصوصی کور کمانڈر پشاور لفٹننٹ جنرل نذیر احمد تھے ۔ جبکہ میچ دیکھنے کیلئے چترال اور گلگت بلتستان کے سیاسی شخصیات اور حکومتی آفیسران کے علاوہ مردو خواتین تماشائیوں اور سیاحوں کی بڑیٰ تعداد موجود تھی ۔

میچ کا پہلا ہاف انتہائی سنسنی خیز رہا ۔ میچ شروع ہونے کے پندرہ منٹ کے اندر چترال ٹیم نے چار گول کئے ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں گلگت ٹیم صرف ایک گول کر سکی ۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گلگت ٹیم پہلے ہاف تک چترال کی طرف سے کئے گئے پانچ گولوں کا حساب برابر کر دیا ۔ یوں چترال پر کافی دباؤ آیا ۔ لیکن چترال ٹیم نے دوسرے ہاف میں اپنی حکمت عملی بدلی اور گلگت ٹیم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔ چترال کے گھوڑوں میں میچ کے آخر تک دوڑنے کا جذبہ دیدنی تھا ۔ اور اسی کی بدولت چترال ٹیم اپنے مد مقابل کو چھ کے مقابلے میں بارہ گولوں سے شکست دینے میں کامیاب ہوا ۔ اس میچ میں چترال سکاؤٹس کے نائب صوبیدار اظہار علی مین آف دی میچ قرار دیے گئے ۔ جس نے سات گول کرکے چترال ٹیم کو برتری دلا دی ۔

چترال کے باشندوں نے ٹیم کی کامیابی پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا ہے ۔ اور اسے سیلکشن کمیٹی کی طرف سے کھلاڑیوں کی صحیح انتخاب اچھے گھوڑوں کی کارکردگی سے تعبیر کیا ہے ۔ میچ کے اختتام پرمہمان خصوصی لفٹننٹ جنرل نذیر احمد نے کھلاڑیوں میں ٹرافی اور انعامات تقسیم کئے ۔ کھیل کے دوران چترال کے پیرا گلائڈروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔ جبکہ چترال سکاؤٹس کے بینڈ اور ڈھول و شہنائی کے فنکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرکے لوگوں کے دل جیت لئے ۔ شندور پولو فیسٹول امسال دو مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد بالاخر 29جولائی کو شروع ہوا ۔ فیسٹول میں گلگت بلتستاں نے دو میچز میں کامیابی حاصل کی ۔ جبکہ چترال فائنل میچ سمیت تین میچز جیتنے میں کامیاب ہوا ۔ یہ فیسٹول ٹورزم کاپوریشن خیبر پختونخوا کی طرف سے کیلنڈر ایونٹ کے طور پر ہر سال 7سے9جولائی کو منایا جاتا ہے ۔ لیکن امسال ماہ رمضان اور عیدالفطر کے احترام میں فیسٹول موخر کر دیا گیا تھا ۔

شندور فیسٹول چترال اور گلگت کے لوگوں کیلئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے ۔ ان علاقوں کے کئی مسائل شندور فیسٹول میں شرکت کرنے والے اعلی ترین حکومتی شخصیات کے اعلانات سے حل ہوتے رہے ہیں ۔ اور یہ ایسا مقام ہے ۔ کہ پاکستان کا شاید کوئی حکمران اس میں شرکت سے محروم رہا ہو ۔ یہ فیسٹول پہلی بار 1980 میں کھیلا گیا ۔ جس میں صدر جنرل ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن شریک ہوئے ۔ بعد آزان اسے کیلنڈر ایونٹ میں شامل کر دیا گیا ۔

شندور فیسٹول گلگت اور چترال کے درمیان اپنے فری سٹائل پولو کی وجہ سے عالمی طور پر شہرت رکھتی ہے ۔ یہ منفرد پولو میچ ہے ۔ جس میں فاول نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اور طاقت ازمائی و اعلی گھڑ سواری کا نام پانے والے کھلاڑی اس میں حصہ لیتے ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments