استور سپریم کونسل کے زیرِ اہتمام بڑا جلسہ منعقد، بونجی کے علاوہ ڈویژنل ہیڈکوارٹر منظور نہیں، مقررین

استور سپریم کونسل کے زیرِ اہتمام بڑا جلسہ منعقد، بونجی کے علاوہ ڈویژنل ہیڈکوارٹر منظور نہیں، مقررین

24 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

استور( شمس الرحمن شمس ) استور سپریم کونسل کے زیر اہتمام استور کے جملہ مسائل کے حوالے سے اتحاد چوک استور میں ایک عظیم الشان جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔جلسے میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے بھی شرکت کی جن میں پاکستان مسلم لیگ ن ،پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف ،جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما موجود تھے اس موقعے پر

استور سپریم کونسل کے چیرمین ڈاکٹر غلام عباس ، رکن اسمبلی نسرین بانوں ،سیکرٹری جنرل طاہر ایوب ،سابق صوبائی وزیر محمد نصیر خان ،مولانا عبد السمیع ،حشمت اللہ خان ،ایڈوکیٹ مشتاق احمد ،پاکستان مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل محمد سلیم خان ،شیخ حفاظت علی ،مولانا اقبال ،شمس الدین ،پروفیسر جمشید، اعیسیٰ ملک عالم شاہ ، شجاعت علی ، کفایت دین ممبر امن کمیٹی ،زمین خان، کاشف بونجوی، مظہر ایڈوکیٹ ،ڈاکٹر فدا خان ،اورنگزیب ایڈوکیٹ ،ثنا واللہ خرم ، شمس الحق لون سمیت دیگر سیاسی ،مذہبی و سماجی رہنماوں نے جلسے سے خطاب کیا ۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے استور سپریم کونسل کے صدر ڈاکٹر غلام عباس نے کہا حکومت وقت استور قوم کا مزید امتحان نہ لیں استوری قوم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اپنے حقو ق لیکر رہینگے استوری قوم کے ساتھ ماضی میں بھی مذاق ہوتا رہا ہے اب ہم اس طرح کے مذاق کو ہرگز برداشت نہیں کرینگے استور دیامر کا ڈویژ نل ہیڈ کواٹر استور بونجی کے علاوہ کہی اور ہرگز قبول نہیں ہے لہذا حکومت وقت کو ڈویژنل ہیڈ کواٹر کسی صورت میں بھی استوی قوم کی سہولیات اور زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے استور بونجی میں بنانا پڑئے گا انہوں نے کہا کہ دیامر میں جن ڈویژنل ہیڈ کواٹر کے دفاتر کی بلڈنگوں کا ٹینڈر کیا گیا ہے ہم سب سے پہلے قانونی راستہ اختیار کر کے عدالت کا رخ کرینگے ۔ ضلع دیامر کی عوام اور وہاں کے عوامی نمایندوں سے بھی ہماری گزارش ہے کہ وہ بھی اس ایجنڈئے پر آجائے کہ ڈویژنل ہیڈ کواٹر کا قیام استور بونجی میں بنایا جائے کیونکہ دیامر اور استور کے لئے سب سے مناسب اور بہترین جگہ بونجی ہے انہوں نے مزید کہا کہ شونٹر پاس ٹینل کی تعمیر کے لئے وفاقی حکومت سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے سی پیک میں شامل کیا جائے اس روڈ کے سی پیک میں شامل ہونے سے گلگت بلتستان سمیت ہمسایہ ملک چائینہ کو بھی فائدہ ہوگا ۔ہم گورنر گلگت بلتستان اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے یونیورسٹی کیمپس کا قیام عمل میں لانے کے لئے ذاتی دلچسپی لی اور اس موقعے پر وزیر اعلیٰ کا بھی ہمارئے ساتھ تعاون رہا ۔اس موقعے پر سابق صوبائی وزیر محمد نصیر خان نے کہا ڈویژنل ہیڈ کواٹر کو اگر بونجی میں نہیں بنایا گیا تو دیامر کے بجائے اسلام آباد میں بنائے ہم چلاس میں جانے کے بجائے وہاں جانا مناسب سمجھے ینگے استوری قوم چار آٹھ ماہ برف کی چادر کی لپیٹ میں ہوتے ہیں چار ماہ ہم دیامر والوں کا طواف نہیں کرنا چاہتے ہیں حکومت گلگت بلتستان ہمارئے مطالبات کو فوری طور پر منظور کریں بصورت دیگر عوام سطح پر شدید احتجاج کرتے ہوئے سی ایم آفس کی طرف لانگ مارچ کرینگے ۔اس سے قبل کہ ہمارئے ان تمام مطالبات کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے ۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے امیر مولانا عبد السمیع سے کہا کہ شونٹر، روڈ ٹینل،استور روڈ کو سی پیک میں شامل کیا جائے تاکہ کشمیر اور گلگت بلتستان کا ماضی کی طرح ایک بار پھر پرانا رشتہ بحالی ہو سکے انہوں نے کہا کہ شونٹر پاس روڈ کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومت سست روی دیکھا رہی ہے اس روڈ کے حوالے سے گزشتہ ددس سالوں سے اخبارات میں شونٹر روڈ کے حوالے سے بیانات جاری ہیں تاہم میدان شونٹر روڈ کے حوالے سے کام نظر نہیں آہ رہا ہے ۔حکومت سے اس وقت کیا اپیل کرئے کیونکہ حکومت سوگ میں بیٹھی ہوئی ہے اس موقعے پر جماعت گلگت بلتستان و کشمیر کے سنیر رہنما مشتاق ایڈوکیٹ نے کہا کہ استور سپریم کونسل نے جس ایجنڈئے کو لیکر آئے ہیں ان کے ساتھ شانہ بشانہ استوری عوام کھڑی ہے ڈویژنل ہیڈ کواٹر میں ضلع دیامر کے بھائی خود بونجی میں ہیڈ کواٹر بنانے کے حوالے پر آمادہ ہونگے کیونکہ استور اور دیامر کے لئے سب سے موضوع جگہ بونجی ہے اس موقعے پر استور سپریم کونسل کے سیکرٹری جنرل نے استور کے جملہ مسائل کے حوالے سے قرارداد پیش کی اور قرارداد کے حق میں عوامی اجتماع سے تائید بھی حاصل کی ۔

استور سپریم کونسل کے رہنماوں نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راما فیسٹول جلد از جلد اور وقت پر کیا جائے جو لوگ راما فیسٹول کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں استوری عوام ان کا کڑا حساب لینگے راما فیسٹول سے نہ صرف استور کی سیاحت کو فروغ مل رہا ہے بلکہ استور میں معیشت کا ایک ذریعہ بھی ہے انہوں نے مزید کہا کہ استور دیوسائی میں محکمہ وائلڈ لائف مقامی لوگوں سے گنڈہ ٹیکس لینا فوری بند کریں اپنے گھر میں ہی اپنے لوگوں سے ٹیکس لینا پوری قوم کے ساتھ ذیادتی ہے اگر جی بی حکومت ا س ٹیکس کو ختم نہیں کرتی ہے تو عوام سطع پر اس کا سخت احتجاجی رد عمل سامنے آئے گا ۔استور کا نواحی گاوں مشکن جو اس وقت موت اور ذندگی کی کشمکش میں اپنی ذندگی گزار رہے ہیں جہاں کسی بھی وقت بڑئے حادثے کا سبب بن سکتا ہے اس سے قبل کہ مشکن کے150گھرانوں کو متبادل جگہ منتقل کر کے ان کی ذندگیوں کو محفوظ کیا جائے ۔استور میونسپل کمیٹی سب سے پہلے میونسپل ایریا کے حقوق دیں اس کے بعد عوام سے ٹیکس لینے کے خواہ بن جائے میونسپل ایریا میں عوام سے ٹیکس کے نام پر گنڈہ ٹیکس لینا فوری بند کریں ۔استور ضلع میں دن بہ دن عوامی آبادی بڑھتی جا رہی ہے لیکن گندم کے کوٹہ میں کمی کی جا رہی ہے ہم حکومت سے یہ پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ گندم کے کوٹہ کو بڑھایا جائے ۔استور کو سوچھی سمجھی سازش کے تحت ترقیاتی پراجیکٹس کا قبرستان بنایا گیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ استور میں تین مزید نئی تحصلیں بنائی جائے بونجی اور الگ تحصیل کا درجہ دیا جائے اور ساتھ رٹو اور منی مرگ کو بھی الگ تحصیل کا درجہ دیا جائے ۔ اس موقعے پر انہوں نے مزید کہا کہ عبد العلیم مصطفوی کو فوری طور پر فوتھ شیڈول سے نکالا جائے ۔

پاکستان مسلم لیگ (ن)گلگت بلتستان کے سنیر رہنما شمس الحق لون نے استور سپریم کونسل کے زیر اہتمام منعقد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بتانا چاہتا ہوں استور کے منتخب نمایندوں سے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ڈویژنل ہیڈ کواٹر کے معاملے میں خاموش کیوں ہیں دیامر کے منتخب ممبران کو ہم یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ڈویژنل ہیڈ کواٹر میں استوری عوام متحد ہے اور ہمیں یہ ہیڈ کواٹر صرف اور صرف بونجی میں بنا چاہیے انہوں نے کہا کہ استور کے منتخب نمایندئے سوشل میڈیا اور فیس بک کی حد تک دوسروں کے پراجیکٹ میں تختیاں لگا کر تشہر کر رہے ہیں ۔میں آج استوری عوام کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انتخابی نشان شیر ہونے سے شیر نہیں بنتا شیر بننے کے لئے مرد چاہیے جبکہ استور کے منتخب ممبران میں وہ جرا ء ت ہی نہیں ہے کہ وہ کسی مرد کے ساتھ مقابلے کریں ۔انہوں نے مزید کہا کہ استور سپریم کونسل کو میں مبارکبا د پیش کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے استوری عوام کو ایک پلیٹ فارم پر لا یا ہے اور آج استوری عوام ایک ہو کر حقوق مانگ رہے ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ ہمارئے تمام مطالبات فوری طور پر حل کریں ورنہ استوری عوام اپنا اصلی چہرہ دیکھائے گی تو اس وقت حکومت کو روکنے میں شدید مشکلات آینگے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔