اہم ترین

تھور، ہربن حد بندی تنازعہ بالآخر حل ہوگیا، قبائلی رسم و رواج کے مطابق صلح

 چلاس:  دیامر ,کوہستان چوبیس رکنی گرینڈ جرگہ نے دیامر کوہستان ڈسٹرکٹ انتظامیہ,واپڈا اور حساس اداروں کے تعاون سے  بالآخر تھور ہربن حدود تنازعہ کا مسلہ  حل کردیا۔حد بندی تنازعہ گزشتہ کئی دہائیوں سے تھور اور ہربن قبائل کے مابین چلا آرہا تھا,اور اس تنازعہ کی وجہ سے2014میں دونوں قبائل کے مابین مسلح تصادم کے نتیجے میں کئی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئی تھیں۔اس اہم اور حساس نوعیت کے مسلے کے حل کیلئے کئی دفعہ دونوں صوبوں کے حکومتوں نے کوشیشیں کی اور تنازعہ کے حل کیلئے یک رکنی کمیشن بھی بنایا گیااور کئی جرگے ہوئے لیکن کوئی مثبت اور پرامن حل نہیں نکل سکا۔
دیامر بھاشہ ڈیم کی حساسیت اور اہمیت و افادیت کے پیش نظر حساس اداروں نے دونوں فریقین کے مابین حد بندی تنازعہ کا مستقل حل نکالنے کیلئے گزشتہ سال قبائیلی مشران پر مشتمل جرگہ تشکیل دے دیا,جرگہ نے بڑی تگ ودو کے بعد جنوری 2021 میں ہربن اور تھور قبائل کے مابین حدود تنازعہ کا فیصلہ سنادیا,جسے دونوں قبائل کی اکثریت نے من و عن قبول کیا۔کچھ عرصہ بعد تھور شیلی ہیٹی کی جانب سے کچھ تحفظات سامنے آگئے جسے جرگہ اور دونوں صوبوں کی ضلعی انتظامیہ نے سنجیدگی سے لیا اور حدود تنازعہ کا مستقل حل نکال دیا۔
اس حوالے سے دیامر ڈیم سائڈ پر واپڈا کے تعاون سے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن دیامر اور کوہستان نے ایک اہم اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا جس میں گرینڈ جرگہ کے اراکین سمیت ہربن اور تھور قبائل کے سرکردگان اور اعلی سیاسی و عسکری حکام نے شرکت کی۔
تقریب میں گرینڈ جرگہ نے دونوں قبائل کے لوگوں میں  قبائلی رسم و رواج کے مطابق صلح کرائی اور دونوں قبائل بغل گیر ہوگئے,ایک دوسرے کو ہار پہنائے گئے,انتظامیہ نے حدود تنازعہ کا پرامن حل نکلنے پر خوشی میں میٹھائی تقسیم کیا۔تقریب میں ممبر اسمبلی انجینئر انور,کلکٹر دیامر ڈیم ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد,ڈی سی کوہستان آصف,جی ایم واپڈا خاور منیر,ڈائریکٹر کوارڈنیشن واپڈا رحیم شاہ,مولانا سرور شاہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: