داسو ڈیم کی تعمیر: مقامی سطح پر دستیاب وسائل استعمال کئے بغیر باہر سے بھرتیوں اور ٹرانسپورٹ پر پابندی ہوگی

کوہستان(نامہ نگار) کوہستان ، داسو ڈیم میں بیرونی وسائل کے استعمال پر جاری مذاکرات کا دوسرا روز مکمل ہوگیا جس میں جرگے نے متفقہ فیصلہ کیا کہ دستیاب وسائل کو استعمال کئے بغیر باہرسے بھرتیوں اور ٹرانسپورٹ لانے پر مکمل پابندی ہوگی ۔ خلاف ورزی کی صورت میں پروجیکٹ میں تاخیر کی ذمہ داری واپڈا پر ہوگی ۔ ڈی ایچ سی (داسو ہائیڈرو کنسلٹنٹ ) میں جاری مذاکراتی دور میں قومی کمیٹی کے ممبران ، ورکنگ گروپ کے نوجوان ، ضلعی انتظامیہ اور واپڈا کی داسو ڈیم سے متعلق انتظامیہ نے شرکت کی ۔ مذاکراتی دور کے اوائل میں بے شمار مسائل پر بات چیت ہوئی ۔ انتظامیہ کی جانب سے سربراہی ڈپٹی کمشنر کوہستان محمد آصف نے کی ،جبکہ واپڈا کی جانب سے جنرل منیجر داسو ہائیڈرو پاورپروجیکٹ جاوید اختر شریک ہوئے اور کنسلٹنٹ کی جانب سے نیپن کوئی کے موکو ہویو اجیما نے شرکت کی ۔ مذاکرات کے اختتام پر کمیٹی نے متفقہ طورپر انتظامیہ کے سامنے اپنا فیصلہ رکھا کہ مستقبل میں کوہستان میں موجود تمام وسائل بروئے کار لائیں جائیں گے ،جن میں بھرتیوں پر کوہستان کے اندر خصوصی طورپر میرٹ ہوگا اورنوکریوں میں متاثرین کو ترجیح دی جائیگی ۔ جبکہ ٹرانسپورٹ و دیگر وسائل بھی مقامی لگائے جائیں گے ۔ قومی کمیٹی میں ملک نورولی شاہ، حاجی فضل الرحمن ،ملک ولی خان ، عبدالجبار، ضیا الرحمن ، مولوی ولی اللہ ، حاجی عبدالودود اور شمس الرحمن مذاکرات میں شریک تھے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments