محفوظ مقامات پر گھر تعمیر کر کے قدرتی آفات کی تباہ کاریوں سے بچا جاسکتا ہے، ڈپٹی کمشنر غذر

غذر (محمد ایوب) آٹھ اکتوبر 2005 کو کشمیر، ہزارہ اور دیگر محلقہ علاقوں میں قیامت برپا کرنے والے زلزلے کو آج سولہ سال مکمل ہوگئے۔ چند لمحوں کے اس زلزلے نے دکھ بھری داستانیں رقم کی تھی، اور تقریباً 88 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

پاکستان کی تاریخ کے اس سب سے تباہ کن قدرتی آفت کی یاد میں ہر سال کی طرح اس سال بھی ضلع غذر میں ضلعی انتظامیہ اور گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے زیر اہتمام ماحول کی حفاظت اور قدرتی آفات سے بچاو کے حوالے سے آگاہی ریلی ڈی سی افس سے سٹی پارک گاہکوچ تک نکالی گئی۔ ریلی میں ڈپٹی کمشنر شجاع عالم اسسٹنٹ کمشنر رضا چوھدری سول ڈیفنس کے سربراہ جعفر علی اے ڈی ڈیزاسٹر، صحافیوں، سکول کے بچوں اور سول سوسائٹی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔’

اس موقع پر ڈی سی غذر نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ہفتے انٹر سکول تقریری مقابلہ کروایا جائیگا جس کا عنوان قدرتی آفات ہوگا جس کا مقصد عوام کو اس بات کا شعور دینا ہے کہ وہ قدرتی آفات کی زد میں آنے والے جگہوں میں گھر تعمیر نہ کریں ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments