گلگت بلتستان کسی طور متنازعہ علاقہ نہیں، ملکی آئین میں شامل کرنا پاکستان کےمفاد میں ہے ، تحریک اسلامی

گلگت بلتستان کسی طور متنازعہ علاقہ نہیں، ملکی آئین میں شامل کرنا پاکستان کےمفاد میں ہے ، تحریک اسلامی

34 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (سٹاف رپورٹر ) اسلامی تحریک گلگت بلتستان کے جنرل سیکرٹری شیخ مرزا علی اور دیگر رہنما دیدار علی ، ممبر قانون ساز اسمبلی کپٹین (ر) سکندر ، کپٹین (ر) محمد شفیح اور دیگر نے گلگت پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سیکرٹری دفاع کے مذمو م بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ امریکہ اور بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ گلگت بلتستان نے 27اکتوبر 1947کو مہاراجہ کشمیر کے الحاق بھارت کے اعلان کے بعد بغاوت کی اور آزادی حاصل کر کے مستقل حکومت قائم کی۔ لہذا گلگت بلتستان کسی بھی طریقے سے متنازعہ علاقہ نہیں ہے اسلامی جمہوریہ گلگت کی حکومت نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا ہے ہم کشمیر کے دونوں حصوں کی بھائیوں سے ہمدری اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس آزادی کی تحریک آپ لوگ چلا رہے ہیں۔ وہ آزادی ہم نے یکم نومبر1947کو حاصل کرلی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ استحکام پاکستان کے لئے گلگت بلتستان کو ملکی آئین میں شامل کرنا خود ملکی مفاد میں ہے ۔ ہمیں متنازعہ ہونے کی مذید گالی نہ دی جائے آج کشمیر کے بھائی جس آزادی کیلئے جدوجہد کر رہیے ہیں وہ ہم نے 1947 میں حاصل کی ہے ہماری تحریک کشمیر کے بھائیوں کے خلاف نہیں بلکہ ہم انکی مکمل حمایت کرتے ہیں۔اُنہوں نینیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام محب وطن پاکستانی ہیں دشمن کی للچائی نظروں کو بھانپتے ہوئے اسلامی تحریک پاکستان نے 1994 میں جی بی کی آئینی حثیت کے تعین کیلئے زور دیا تھا مگر افسوس کی وفاق نے ہمیشہ نظر انداز کیا ہے سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے یہ یہ کہہ کر بم گرایا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے اس لئے گلگت بلتستان کے عدالتوں کا فیصلہ پاکستانی شہریوں پر لاگو نہیں ہوتا کہیں ایسے تو نہیں کہ مملکت پاکستان کے دشمن اس بیان کو بنیاد بناکر مشکلات پیدا کر رہیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی سیکریٹری دفاع نے سی پیک روٹ پر جو ہرزہ سرائی کی ہے اس پر پورا گلگت بلتستان سراپا احتجاج ہے یہ حق نہ بھارت کو حاصل ہے نہ ہی امریکہ کو کی وہ ہماری حثییت کا تعین کریں۔آج امریکہ اور بھارت کا گٹھ جوڑ کی سمجھ ہر ذی شعور انسان کو آتی ہے جیسا کہ ایک عرصے سے بلوچستان میں ہزارہ برادری کا قتل عام اور مزارات پر حملے کی کڑیاں بھی امریکہ اور بھارت کے گٹھ جوڑ سے ملتی ہیں، اور بھارتی جاسوس کلبھوش یادیو کے اعترافات اور ملک میں شیعہ مسلک کو ٹارگٹ کرنا یا بدنام کرنے کی منظم سازش اور پھر ہندوستاں ٹائم کے انکشافات کے بعد بہت ساری گھتیاں سلجھ جاتی ہیں۔ جس کے پیش نظر ہمیں سینجدہ اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ تا ہے کہ ہم نے اکثر بیانات پر ہی اکتفا کیا ہے اور اقدامات کی بات کی جائے تو صرف کاغذی کاروائی کی حد تک اقدامات کئے جاتے ہیں آج سی پیک پر کام کرنے والوں نے سوچا بھی ہیں کہ سی پیک کی کامیابی اسی میں مضمر ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کے نقشے میں شامل کرنے کے ساتھ آئین میں بھی شامل کیا جائے۔

اُنہوں نے سخت الفاظ میں بھارت اور امریکہ کے منفی پراپیگنڈ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تحریک خود کو پاکستانی کہنے میں فخر محسوس کرتی ہے، اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کو آئینی تحفظ دئیے بغیرکسی بھی عوامی ملکیتی زمینوں کی الا ٹمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں لہذا غیر آئینی اقدام سے گریز کیا جائے۔ گلگت بلتستان کو آئینی کا حصہ بنائے بغیر کسی قسم کی مالیاتی کٹوتی یا ٹیکس کا نفاذ آئین کے منافی ہیں۔گلگت بلتستان کو سی پیک منصوبے میں اہمیت کے پیش نظر منصوبے رکھے جائیں موجودہ سی پیک کے نام پر ظاہرکئے جانے والے منصوبے جی بی کے عوام کے ساتھ مذاق ہے۔

انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر کو یوم مردہ باد بھارت کےدن کے طور پر منایا جائے گا، جبکہ یکم نومبر کو جشن آزادی گلگت بلتستان اور 2 نومبر کو یوم اسلامی جمہوریہ گلگت جبکہ 17 نومبر کو یوم الحاق پاکستان کے طور پر منایا جائے گا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ اسلامی تحریک پاکستان دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے لئے آواز بلند کرے گی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔