دیامر استور ڈویژن ،بیمار منصو بے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور علاج ؟

دیامر استور ڈویژن ،بیمار منصو بے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور علاج ؟

46 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: سید عبدالوحید شاہ, کمشنر دیامر استور ڈویژن

دیامر استور ڈویژن نے ترقیاتی سکیموں کے ضمن میں ایک ایسی اصطلاح متعارف کروائی ہے جو کہ قبل ازیں نا شنیدہ تھی ۔یعنی بیمار سکیمیں ۔ان سکیموں سے مراد دراصل ایسی سکیمیں لی جاتی ہیں جو سالہا سال سے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں چلی آرہی ہیں تاہم ہنوز تشنہ تکمیل ہیں ۔اس مرض کی تشخیص اور ازاں بعد اس کے علاج کی خاطر ڈاکٹر کاظم نیاز صاحب ،چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے جو راہ اپنائی ہے امید ہے کہ اب یہ سکیمیں نہ صرف پایہ تکمیل کو پہنچ پائیں گی بلکہ ان کو وجود میں لانے والے ذمہ داران بھی کٹہرے میں کھڑے ہوں گے ۔

بیمار سکیموں کی فہرست میں سینکڑوں ایسی سکیمیں ہیں جن کی طرف معمولی توجہ بھی دی جائے تو وہ بھی اپنے قدموں پہ چلنا پھرنا شروع کر دیں ۔بیمار سکیموں میں ہسپتال سے لے کر اہم شاہراہوں کی تعمیر، سکولوں کی عمارات سے لے کر دیگر حکومتی فلاحی اداروں کی عمارات شامل ہیں ۔تشخیص میں جو امراض سامنے آئے ان میں اکثر ٹھیکیدار حضرات کی طرف سے کام کی عدم تکمیل اور محکمہ کی عدم دلچسپی نظر آئی ۔زمینوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور گلگت بلتستان میں زمینوں کی عدم دستیابی بھی تاخیر یا عدم تکمیل کی وجہ ٹھہری ۔اس کے علاوہ معمولی تنازعات کو بنیاد بنا کر سرکاری ترقیاتی امور کو سالہا سال تک موء خر کر کے لاگت اور تخمینہ میں گہرا فرق بھی پیدا ہو چلا تھا ۔گرچہ بیشتر معاملات میں ملوث ٹھیکیدار حضرات کی خلاف قانونی کارروائی بھی کی گئی تھی مگر بات کاغذی حد سے آگے نہ بڑھنے کی وجہ سے قانونی کارروائی کا خوف بھی دلوں سے جاتا رہا تھا ۔

گذشتہ دنوں چیف منسٹر گلگت بلتستان جناب حافظ حفیظ الرحمان صاحب کی صدارت میں اسی ضمن میں ایک اہم اجلاس بھی ہوا جس میں ایسے تمام پہلووں کو زیر غور لایا گیا اور بھر پور کارروائی کی خاطر انتظامی آزادی اور شہ دی گئی ۔چیف منسٹر کی ڈویژن میں خصوصی دلچسپی انتظامی حوالے سے باعث مضبوطی ء دست بازو ہو گا ۔عنقریب اپنے دورے میں وہ بہت سے ایسے منصوبوں کا جائزہ بھی لیں گے کہ جن کا عرصہ دراز سے کوئی پرسان حال نہ تھا ۔

ڈویژن کی سطح پر جو اقدامات کئے گئے ہیں ان میں پہلا قدم ان تمام ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کر کے آئیندہ کسی بھی سرکاری کام سے ان کو بے دخل کیا جانا ہے ۔ دوسرا یہ کہ ان سے زائد وصول شدہ رقم کے بدلے کام مکمل کروا کر فارغ کر دیا جائے ۔تیسرا یہ کہ ان کی جائیداد اور مال و اسباب کو بحق سرکار ضبط کر کے سرکاری کام کی تکمیل کی جائے ۔اس کے علاوہ ایسی تمام سکیموں اور نئے کاموں کی مانیٹرنگ یا معائینہ کی خاطر ڈویژن بھر کے تمام ڈپٹی کمشنر حضرات ، اسسٹنٹ کمشنرز اور تحصیلداران کو کم از کم پانچ سکیمیں حوالہ کی گئی ہیں کہ وہ ان کا جائزہ لیتے ہوئے کام کی رفتار و معیار کو پرکھیں اور ماہانہ بنیادوں پر ڈویژنل سطح کے اجلاس میں تفصیلات دیں ۔زمینوں کی معاوضوں اور دیگر مالیاتی معاملات کی وجہ سے رکی ہوئی سکیموں کا ادراک کرنا اور اس کا تدارک کرنا بھی انتظامی افسران کی زمہ داری میں دیا گیا ہے ۔

ماہانہ ترقیاتی اجلاس کا باقاعدہ حکم جناب چیف منسٹر صاحب سے وصول پایا گیا ہے کہ جس کے تحت متعلقہ ممبران اسمبلی اس اجلاس میں شرکت کریں گے اور ڈویژن کی سطح پر اپنی سکیموں کے حوالے سے اداروں سے بازپرس کر سکیں گے ۔ جس سے ترقیاتی عمل کا پہیہ جلد حرکت میں آئے گا اور ہر ہر سکیم کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکے گا ۔نومبر کے وسط تک ممبران اسمبلی کا اجلاس متوقع ہے جس میں تمام محکمہ جات اپنے اداروں کے حوالے سے ترقیاتی سکیموں کی پیشرفت اور جائزہ پیش کریں گے۔

ابھی تک کے جن بیمار منصوبوں کو شفا یابی کی طرف لے جایا گیا ہے ان میں اہم شاہراہوں ، سکولوں اور پانی و بجلی کے منصوبوں کی قابل قدر تعداد شامل ہے ۔محکمہ تعمیرات عامہ کو فعال بنانے کی خاطر بڑے پیمانے پر ایسے تمام افراد کا تبادلہ یا گیا جو کہ سالہا سال سے ان دفاتر میں براجمان تھے ۔نئی ٹیم ، تازہ دم جذبے اور لگن کے ساتھ جو مہم جوئی شروع ہوئی ہے امید ہے کہ یہ سفر بخیر و خوبی ترقی کی راہ کی طرف رواں دواں رہے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔