وزیراعلی گلگت بلتستان کی بے بسی یا ۔۔!

شاہ عالم علیمی

نومبر 2015 میں ضلع غذر میں زلزلے کے شدید جڑکوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ سینکڑوں گھر ملبے کا ڈھیر ہوئے اور سینکڑوں مال مویشی ہلاک ہوئے۔ حکومت نے ان زلزلہ متاثرین کی مدد کا اعلان کیا اور این جی اوز کی مدد سے کافی لوگوں کو مدد پہنچائی گئی۔ تاہم چونکہ یہ سردیوں کا موسم تھا اور برف بھی کافی پڑی تھی درجہ حرارت منفی پانچ سے نیچے تھی ایسے میں یہ مدد ناکافی تھی۔ لوگ ایسے تیسے کرکے سردیاں گزارنے میں کامیاب ہوگئے۔ پھر حکومت کی طرف سے متاثرہ گھروں کی بحالی کے لیے مدد کا اعلان ہوا۔ لیکن اج بھی اپر گوپس کے لوگ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ جن کو مدد پہنچنی چاہئے تھی ان کے ساتھ مدد نہیں کی گئی البتہ سیاسی راہنماوں نے اپنے مقامی من پسند افراد کے ساتھ مل کر اس امدادی پیکیچ سے مال غنیمت نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔

ایسے واقعات بھی سامنے ائے جہاں مایوس غریب لوگ تنگ آکر امدادی پیکیچ تقسیم کرنے والے بااثر لوگوں کو تھانے لے گئے۔ ایسے واقعات بھی ہوئے جہاں بااثر لوگوں کی انگلی بھی زخمی نہ ہوئی تاہم وہ “مال غنیمت” میں حصہ دار ٹھہریں اور ان کے غریب ہمسائے جو اس آفت سے متاثر ہوئے تھے دیکھتے رہ گئے۔ علاقے سے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی دعوی کرتے نظر آئے کہ صرف پھنڈر میں ہی تیس کروڑ روپے تقسیم ہوئے۔ مگر لوگ آج بھی پوچھ رہے ہیں کہ کس کو تقسیم ہوئے؟ یہ تھی اقربا پروری اور سفارشی کلچر اور غریب کا حق مارنے کی ایک کہانی۔ إن اللہ سریع الحساب: 3:199 ان اللہ علیکم رقیبا؛ 4:1

جولائی 2018 میں بدصوات غذر میں بہت بڑے سیلاب نے پورے علاقے کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ لوگ بھاگ کر اپنی جانیں بچانے میں کامیاب ہوگئے تاہم درجنوں خاندانوں کے گھر مکان زمین مال مویشی جمع پونچی اس سیلابی ریلے میں بہہ کر ختم ہوگئے۔ لوگ چند ساعتوں میں زندگی بھر کی کمائی سے محروم ہوگئے۔ یہ لوگ ایک دور دراز پسماندہ علاقے کے مزدور کسان طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اوّل تو حکومت بروقت ان کی مدد کو آنے میں کامیاب نہیں ہوئی بعد میں ان کو طفل تسلیاں دی گئی اور بعد میں وزیراعلی حافظ حفیظ الرحمان نے ان لوگوں کی مکمل مدد کرنے کا یقین دلا دیا مگر بدقسمتی سے یہ لوگ آج بھی مدد سے محروم ہیں۔

حالیہ دنوں میں ان لوگوں سے ملنے کا موقع ملا تو ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی صاحب نے ان کی مدد کرنے سے معذوری کا اعلان کیا ہے۔ ان لوگوں کے مطابق وزیراعلی حفیظ الرحمان نے ان کو کہا ہے کہ چونکہ مرکز میں اب ان کی حکومت نہیں رہی تو وہ ان کی مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ اگرآاپ لوگ چاہے تو چیف سیکریٹری جی بی یا کور کمانڈر ایف سی این اے سے رابطہ کریں شاید وہ آپ کی مدد کرسکیں۔ کیا وزیراعلی اور ان کی ٹیم اس قدر بے بس ہیں؟

ہمیں اس بات کا تو علم ہے کہ چیف سیکریٹری “آل ٹائم پاورفل” ہے۔ جس کا ذکر ہوتا رہتا ہے لیکن جو کام سی ایم کے ڈومین میں ہے اس کو بھی کرنے سے معذوری کا اظہار کرنا تو سمجھ سے بالا تر ہے۔ لیکن ہمیں ایک بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ معاملات کا یہاں تک پہنچنے میں خود سی ایم اور ان کی پارٹی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔

گلگت بلتستان کے سیاسی اور انسانی حقوق کا مطالبہ کرنے کے بجائے الٹا کافی ہے کا نعرہ وزیراعلی حفیظ الرحمان ہی نے لگایا تھا، انتظامی معاملات میں اپنی گرفت قائم کرنے کے بجائے ایک جگہ بیٹھ کر مختلف علاقوں سے مختلف قسم کا سلوک روا رکھنے کی روایت وزیر اعلی حفیظ الرحمان نے ہی ڈالی تھی جس کی وجہ سے لوگ حفیظ الرحمان سے دور ہوتے گئے۔ مختلف واقعات نے لوگوں کو چیخنے چلانے پر مجبور کیا تاہم سی ایم اس خوش فہمی میں رہے کہ مرکز میں ان کی ہی حکومت رہے گی یعنی جب تک ہے سانس تب تک ہے چانس۔ لیکن ان کو ان کے قریب لوگوں کو اس بات کا ادراک شاید نہیں ہوا کہ حالات بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں۔

سی ایم کے قریبی لوگوں نے ان کو اتنا ہی نقصان پہنچایا جتنا خود ان کی تنگ نظری کی سوچ نے پہنچایا۔ حالات کی نزاکت کا اندازہ خود وزیر اعلی کے اپنے کچھ وزیروں اور سیکریٹریز بشمول چیف سیکرٹری اور کور کمانڈر ایف سی این اے کو ضرور ہوا جنہوں نے سکردو کھرمنگ گنگچھے سے لیکر غذر تک مختلف واقعات میں لوگوں کے پاس جا کر ان کے ساتھ ہونے کا تاثر دلاتے رہے اور نتیجتآ لوگوں نے ان کو مختلف تقاریب میں بلانے کے لیے وزیراعلی پر فوقیت دی۔ یعنی جیسا کروگے ویسا بھروگے۔

اس بات کا ثبوت اپ حالیہ کچھ واقعات سے ہی لے سکتے ہیں جیسے مختلف تقاریب میں موصوف کی جگہ لوگوں کا کور کمانڈر ایف سی این اے جنرل احسان کا بلانا۔ خود مسلم لیگ نون گلگت بلتستان کے ایک بڑے دھڑے کا وزیراعلی اور ان کے قریبی لوگوں سے دوری کا اعلان اورآج کی خبروں میں نون لیگ کے ایک گروپ نے قومی احتساب بیورو سے درخواست کرنا کہ وہ وزیر اعلی اور ان کے قریبی لوگوں سے مبینہ کرپشن کی تحقیقات کرے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعلی حفیظ الرحمان اگر اتنے ہی بے اختیار اور بے بس ہیں تو مستعفی کیوں نہیں ہوتے؟

آپ لوگوں کی مدد نہیں کرسکتے، انتظامی معاملات نہیں چلا سکتے، پانچ سال میں ایک پل نہیں بنا سکتے؛ سارا الزام مرکز پر ڈال کر رہنے سے بہتر نہیں کہ آپ مستعفی ہوجائے اور اعلان کردیں کہ آپ کام کرنے سے رہ گئے ہیں!

اشکومن میں ایک طالب علم کے ساتھ ظلم ہوتا ہے اس کا قتل ہوتا ہے، آپ تعزیت تک نہیں کرتے، اسمبلی میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کے لیے قرارداد پیش کیا جاتا ہے آپ کی پارٹی اسے غداری قرار دے کر اس پر غور کرنے سے پہلے ہی مسترد کردیتی ہے۔ گلگت بلتستان بھر میں لوگوں کی زمینوں پر مختلف حلیوں بہانوں سے قبضہ کیے جارہے ہیں آپ خاموش ہیں، اور آج نوبت یہاں تک آئی ہے کہ آپ کے وزیر قانون کے ساتھ ایک سپاہی مبینہ طور پر بدتمیزی کرتا ہے اور وزیر موصوف سپاہی کو نوکری سے نکالنے پر مصر ہے اور اصرار کررہا ہے کہ جب تک اس کو نکالا نہیں جاتا ان کومستعفی سمجھا جائے۔ کیا یہ سب باتیں اس بات کی نشاندہی نہیں کررہے ہیں کہ آپ کو مستعفی ہونا چاہئیے!

اگر آپ خود سمجھتے ہیں کہ مرکز میں اپنی حکومت نہیں، جی بی میں اختیارات نہیں، عوام کا ساتھ نہیں تو ایسا ہی کرنا چاہئے۔ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھے!

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments