تانگیر شیخو کے عوام مریضوں کو کندھوں پر اٹھا کر ہسپتال لانے پر مجبور

تانگیر شیخو کے عوام مریضوں کو کندھوں پر اٹھا کر ہسپتال لانے پر مجبور

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(بیوروچیف) تانگیر شیخو کی سڑک پر تین سال بعد بھی تعمیراتی کام کا آغاز نہیں ہو سکا۔ سکیم کی مد میں دو بار رقم کی پے منٹ ہونے کے باوجود عوام سڑک کی نعمت سے محروم ہیں۔ان خیالات کا اظہار تانگیر شیخو کے عمائدین محمد جمال،حاجی برہان،حاجی سلطان،رحم دین،مولوی سید جمال،سید شاہ و دیگر نے میڈیا کے نمائندوں کوتفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جگلوٹ سے شیخو تک پانچ کلو میٹر کی سڑک کا ٹینڈر تین سال پہلے ہوا۔ری وائز کے نام پر پے منٹ بھی دو بار ہوئی۔مگر تاحال اس سڑک کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔سڑک نہ ہونے سے شیخو کی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مریضوں کو بھی کندھوں پر اٹھا کر ہسپتال لانے پر مجبور ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر شیخو سڑک کا تعمیراتی کام شروع کروایا جائے۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔