ترازو

ترازو

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سبطِ حسن

بہت سالوں کی بات ہے، ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اس کا نام شہاب الدین تھا مگر گاؤں والے اسے شہابو کے نام سے پکارتے تھے۔ شہابو کے پاس چند ایکڑ زمین تھی۔ زمین سے بس اتنی آمدنی ہوجاتی کہ سادہ سی روٹی مل جاتی۔ ویسے بھی ان دنوں جس کے گھر ضرورت کی گندم ہوتی ، وہ اپنے آپ کو روٹی کے فکر سے آزاد محسوس کرتا تھا۔ ایک سال شہابو نے دو ایکڑوں میں مکئی کا نیا بیج بویا، جس سے تیل نکالا جا سکتا تھا۔ سب لوگ شہابو کی عقل کا مذاق اڑانے لگے کہ وہ خواہ مخواہ محنت او رپیسہ ضائع کرے گا۔ شہابو کے جی میں لالچ تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر مکئی کی فصل اچھی ہوگئی تو اس کے پاس کافی پیسے آجائیں گے۔ اس کا خیال درست نکلا۔ مکئی کی فصل بہت اچھی ہوئی۔ اسے بیچ کر اسے اتنے پیسے مل گئے کہ شاید وہ کئی برسوں میں بھی نہ کما پاتا۔ اس نے ہر سال مکئی کی کاشت جاری رکھی اور اس سے بہت سی دولت کمالی۔ یہ دولت اس کی ضروریات سے کہیں زیادہ تھی۔
دولت مند بننے کے بعد شہابو، میاں شہاب الدین بن گیا اور لوگ ضرورت کے وقت اس سے روپے ادھار لینے لگے۔ پورے گاؤں میں اسے میاں صاحب کے نام سے پکارا جانے لگا۔ ہر کوئی اسے بڑی عزت سے دیکھتا۔ یہ سلسلہ ایک دو برس چلا۔ شہاب الدین نے سوچنا شروع کر دیا کہ لوگ ، اس سے جو روپے ادھار لیتے ہیں، ان کو استعمال کر کے وہ منافع کماتے ہیں یا اپنے رکے ہوئے کام سیدھے کرتے ہیں۔ ہر صورت میں انہیں فائدہ ہوتا ہے۔ اگر وہ، ان لوگوں کے کمائے ہوئے منافع سے کچھ حصہ لے لے تو اس میں ایسی بری بات تو نہیں۔
انہی دِنوں، ایک کسان اس کے پاس دو ہزار روپے ادھار مانگنے کے لیے آیا۔ اس نے ان روپوں سے اپنے کھیتوں کے لیے کھاد اور بیج خریدنا تھا۔ شہاب الدین نے اس سے کہا:
’’ٹھیک ہے، میں تمہیں دو ہزار روپے دے دیتا ہوں، تم ان روپوں کی مدد سے دو ہزار سے زیادہ ہی کماؤ گے۔ یہ زائد آمدنی تمہیں ان دو ہزار روپوں کی وجہ سے ہی ملے گی۔ اگرتم اس آمدنی سے مجھے بھی حصہ دو تو میں تمہیں دو ہزار روپے دینے کے لیے تیار ہوں۔۔۔‘‘
کسان مجبور تھا، اس نے منافع میں سے حصہ دینے کی ہامی بھر لی ۔اس نے مگر نہایت خاموشی سے شہاب الدین کے اس مطالبے کے بارے میں گاؤں کے تمام لوگوں کو بتا دیا۔ کسی نے اس معاملے کو شہاب الدین کے روبرو تو نہ اٹھایا البتہ لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے عزت بالکل ختم ہوگئی۔ لوگوں نے اس سے پیسے ادھار لینا ترک کر دیے۔
شہاب الدین کو لوگوں کے خاموش احتجاج کا اندازہ چند ماہ میں ہی ہو گیا جب اس دوران کوئی شخص اس کے پاس پیسے لینے کے لیے نہ آیا۔ ویسے بھی لوگ ،اس سے ملنے سے کترانے لگے۔ آخر شہاب الدین نے گاؤں چھوڑ کر شہر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے غلہ منڈی میں ایک دکان کرایے پر لی اور بہت سی اجناس تھوک پر بیچنا شروع کر دیں۔ اس کاروبار کو وسعت دی اور شہر کے مضافات میں ایک گودام بھی خرید لیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ کاروبار میں مزید وسعت کی گنجائش نہ رہی۔ اس نے سود پر روپیہ ادھار دینے کا کام شروع کر دیا تاکہ اس کے پاس بچی دولت ایسے ہی نہ پڑی رہے۔۔۔اسے حرکت میں لا کر مزید روپیہ کمایا جا سکے۔
شہاب الدین ، غلہ منڈی کے تاجران کی انجمن کا صدر بن گیا۔ اس نے لوگوں میں اپنی عزت بڑھانے کے لیے شہر کے باہر، رئیسوں کی آبادی میں ایک عالی شان گھر بنوایا۔ غلہ منڈی میں شیشوں والا خوبصورت دفتر تیار کر وایا۔ وہ صبح سویرے دفتر میں آبیٹھتا اور رات گئے تک کام کرتا رہتا۔ آہستہ آہستہ اس کا اثر ،غلہ منڈی سے آگے شہر میں پھیلنے لگا۔ شہاب الدین جہاں اپنی دولت مندی اور لوگوں میں عزت کے لیے بہت خوش تھا ، وہیں وہ ہر وقت ان دونوں کے چھن جانے کے خوف سے اندر ہی اندر ڈرا بھی رہتا تھا۔ اس خوف کو مٹانے کے لیے وہ بزرگوں کے مزاروں پر حاضری دینے لگا۔ مزاروں پر خوبصورت دروازے تعمیر کروانے لگا۔ کئی پرانے مزاروں کو نئے سرے سے تعمیر کروا دیا اور انہیں خوبصورت بنانے کے لیے لاکھوں روپیہ خرچ کر دیا۔ ہر مہینے اس کے گھر دینی مدرسوں کے طالب علم جمع ہوتے اور برکت کے لیے کلام پڑھا جاتا۔ جب شہر کے ایک مشہور بزرگ کا عرس ہوتا تو شہاب الدین کے گھر قوالی کی محفل سجائی جاتی۔
شہاب الدین اپنے اندر دولت کے چھن جانے کے خوف کو دور کرنے کے لیے جو خیرات کرتا، اس کا تعلق صرف اور صرف مزاروں، قوالی کروانے یا ختم کروانے تک محدود تھا۔ وہ کسی بھی شخص کے دُکھ یا ضرورت کو کم یا ختم کرنے کے لیے ایک پیسہ بھی خرچ کرنا پسند نہ کرتا تھا۔ اس صورتحال میں اس کے ذہن میں فوراً یہ سوال پیدا ہو جاتا کہ اگر وہ اس ضرورت مند کو ایک سو روپیہ دے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے خزانے سے یہ رقم کم ہوگئی۔ دوسرے یہ کہ اگر رقم اس کے خزانے میں رہے گی تو یقیناًاس پر سود ملے گا یا پھر اجناس کی خرید و فروخت کر کے منافع کمایا جا سکے گا۔ اپنی پوری زندگی میں، شہاب الدین نے صرف ایک مرتبہ کسی کی ذاتی مصیبت میں مدد کی۔ وہ ایسا کبھی نہ کرتا، اگر اس کی بیوی اس کے سر پر سوار نہ ہو جاتی۔ ہوا یہ کہ اس کی بیوی کی بھانجی نے میٹرک میں اچھے نمبر لیے۔ وہ کالج میں داخلہ لینا چاہتی تھی مگر غربت کے باعث ایسا ممکن نہ تھا۔ اس بچی کو داخلے کے بعد وظیفہ مل سکتا تھا اور وہ اپنی پڑھائی کا خرچہ اٹھا سکتی تھی۔ معاملہ فوری طور پر داخلہ بھرنے کا تھا اور یہ چند سو روپے سے زیادہ کا سوال نہ تھا۔ جب یہ معاملہ اس کے سامنے لایا گیا تو اس نے چھٹتے ہی کہنا شروع کر دیا کہ بچیوں کو پڑھانے سے کیا فائدہ؟ انہیں سلائی، کڑھائی اور خانہ داری کا کام سکھاؤ اور شادی کر دو۔ اس کی بیوی نے اسے آڑے ہاتھوں لیا اور کہنے لگی کہ وہ روپے نہ دینے کے لیے یہ سارا قصّہ چھیڑ رہا ہے۔ آخرشہا ب ا لد ین کو اپنی بیوی کے اصرار پر تین سو روپے اس بچی کے داخلے کے لیے دینا ہی پڑے۔
سردیوں کی ایک رات شہاب الدین بہت دیر سے گھر آیا۔ گھر کے باہر ، دو مشکوک سے آدمیوں کے ساتھ اس کا سامنا ہوا۔ وہ گھر کی بیرونی دیوار کے ساتھ لگے بیٹھے تھے۔ شہاب الدین کو دیکھتے ہی وہ بھاگ گئے۔ شہاب الدین سخت گھبرا گیا۔ حالانکہ اس کے گھر کی بیرونی دیواریں بہت بلند تھیں اور ان پر لوہے کے نوکیلے جنگلے بھی لگے ہوئے تھے، پھر بھی اسے شدید قسم کا خوف محسوس ہونے لگا۔ اس نے گھر میں آکر اپنے سونے کے کمرے میں مضبوط لوہے کی الماری کو کھولا۔ تسلی کی کہ زیورات اور روپیہ پیسہ سب موجود ہے۔ وہ سونے کے لیے لیٹ گیا مگر یہ خوف بدستور اس کے دل و دماغ پر بچھو کی طرح ڈنگ مارتا رہا۔ اس کے لیے سونا مشکل ہو رہاتھا۔ وہ اپنے گھر کے اندر اور باہر ہونے والی ہر آہٹ کو غور سے سنتا اور اندازہ لگاتا کہ یہ آہٹ یا آواز کس وجہ سے پیدا ہورہی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد اسے وہم ہونے لگا کہ شاید گھر کے تالے ٹھیک طرح سے نہیں لگے ہیں۔ وہ بستر سے اٹھا۔ باہر گیٹ پر لگے تالے کو کھینچ کر دیکھا۔ چار دیواری پر نظر دوڑائی۔ گھر میں داخل ہو کر دروازہ بند کیا اور تالہ لگا دیا۔ پھر سونے کے کمرے میں آیا۔ لوہے کی الماری کے تالوں کی پڑتال کی۔ اسے اطمینان ہو گیا کہ سب تالے اپنی جگہ موجود ہیں اور اچھی طرح بند ہیں۔ اس نے سوچا کہ اب اسے سو جانا چاہیے۔ اس نے کروٹ لی۔ بتی بجھا دی۔ وہ پھر سوچنے لگا کہ ضروری نہیں کہ صرف تالوں کی موجودگی، چور کو اندر آنے سے روک دے۔ چور رسّے کی مدد سے گھر کی بیرونی دیوار پھلانگ سکتا ہے۔ وہ گھر میں بڑے دروازے سے ضروری نہیں کہ داخل ہو، وہ کھڑکی توڑ کر اندر آسکتا ہے اور جان سے مار دینے کی دھمکی دے کر سب کچھ لوٹ کر لے جائے گا۔ یہ سوچتے ہی شہاب الدین کو یوں محسوس ہونے لگا کہ جیسے ابھی، اگلے سیکنڈ میں کوئی پستول لیے، اس کے سرہانے کھڑا ہو گا اور وہ اس سے لوہے کی الماری کی چابی مانگے گا۔ وہ اسے چابی نہیں دے گا اور گولی اس کے سینے میں لگے گی اور وہ خون میں لت پت پڑا مر جائے گا۔
انہی خیالوں میں گم نجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ مر چکا ہے۔ ایک اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھا ہے۔ اس کے سامنے سفید لباس میں ملبوس ایک بزرگ بیٹھا ہے۔ اس بزرگ کی داڑھی اور سر کے بال بہت لمبے اور دودھ جیسے سفید ہیں۔ بزرگ کے سامنے ایک ترازو ہے۔ ترازو کے ایک پلڑے میں بہت سا سونا اور زیورات ہیں۔ شہاب الدین نے انہیں پہچان لیا۔ یہ تو سب اس کے پاس لوہے کی الماری میں پڑے تھے۔ شہاب الدین گھبرا کر پوچھتا ہے:
’’یہ زیورات یہاں کیسے آئے؟‘‘
’’تمہارا حساب ہو رہا ہے۔ تم مر چکے ہو۔ یہ وہ زیورات ہیں، جو تمہارے پاس ضرورت مند لوگوں نے رکھوائے تھے۔۔۔‘‘ بزرگ نے کہا۔
’’۔۔۔ مگر دوسرا پلڑا تو بالکل خالی ہے۔۔۔‘‘
’’اگر تم نے انسانوں کے دُکھوں کو کم کرنے کے لیے کچھ کیا ہے تو وہ دوسرے پلڑے میں آئے گا۔۔۔‘‘
’’میں نے بزرگوں کے مزاروں پر حاضری دی، انہیں تعمیر کروایا، قوالی کی محفلیں سجائیں، کیا انہیں اس پلڑے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔۔۔؟‘‘
’’چلو، ڈال کر دیکھ لیتے ہیں۔۔۔‘‘
بزرگ نے دوسرے پلڑے میں ان سب چیزوں کا ثوا ب ڈالا۔ ترازو میں ہلکی سی جنبش بھی نہ ہوئی۔ یہ دیکھ کر شہاب الدین گھبرا گیا۔ اسے لگا کہ وہ جہنم کی آگ میں ہی جائے گا۔ اسے خیال آیا کہ اس نے مسجد کے سامنے پانی کی سبیل بنوائی تھی ۔ کہنے لگا:
شہاب الدین اب سخت گھبراہٹ محسوس کر رہا تھا۔ اس کی سانس تیز ہو رہی تھی۔ اسے لگا کہ اب تو وہ جہنم کی آگ کا لقمہ بن کے ہی رہے گا۔ وہ ساتھ ہی ساتھ اپنی نیکیوں کے بار ے میں بھی سوچ رہا تھا۔ اسے کچھ یاد آیا اور پھر کہنے لگا:
’’مجھے یاد آیا، میں نے ایک مسجد میں نمازیوں کے وضو کے لیے پانی کا انتظام کروایا تھا۔۔۔‘‘
’’ٹھیک ہے، اسے بھی پلڑے میں ڈال کر دیکھتے ہیں۔۔۔‘‘
بزرگ نے کہا اور اس کو بھی اوپر کی طرف اٹھے ہوئے پلڑے میں ڈال دیا۔ ڈالنے کے بعد پلڑا بدستور اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا۔
’’گھبراؤ نہیں، تم بھی یاد کرو۔۔۔ میں بھی تمہارے سارے حساب کتاب پر نگاہ ڈالتا ہوں۔۔۔‘‘ بزرگ نے کہا۔ دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔ آخر بزرگ کہنے لگے:
’’تم نے ایک بچی کو پڑھنے کے لیے تین سوروپے دیے تھے۔ چلو اس کو بھی پلڑے میں ڈال کر دیکھتے ہیں۔‘‘
بزرگ نے ان روپوں کوپلڑے میں ڈالا۔ پلڑا، ایک دم جھکا اور دونوں پلڑے ایک دوسرے کے عین متوازی ہوگئے، جیسے دونوں میں وزن ایک جیسا ہوگیا ہو۔
شہاب الدین کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آرہا تھا۔ بزرگ نے اس سے کہا:
’’تم نے زندگی میں جو کچھ کمایا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تم ابھی جنت اور جہنم میں سے کسی کے بھی حقدار نہیں۔ واپس دنیا میں جاؤ اور ایسے کام کرو، جن سے انسانوں کے دُکھ ختم ہوں یا کم از کم ان کے کم ہونے کی گنجائش تو پیدا ہو۔۔۔‘‘
شہاب الدین نیند سے بیدار ہوا۔ اُسے لگا اُسے پھر سے نئی زندگی ملی ہے۔ اس کی نظر لوہے کی الماری پر گئی۔ اس کے دل میں اس میں پڑے زیورات کے چوری ہو جانے کا کوئی اندیشہ نہ ابھرا۔ اس کا دل بالکل پرسکون تھا ۔۔۔ اس نے اپنے دل میں طے کیا کہ آئندہ وہ کسی کی مصیبت پر روپیہ نہیں کمائے گا اور جو روپیہ اس کے پاس ہے اس سے ایسا کام کرے گا جس سے لوگوں کی مصیبتیں کم ہوں۔۔۔

(ایک فرانسیسی مصنف اناطول فرانس کی کہانی سے ماخوذ)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔