چلاس: متاثرین ڈیم تھور ماڈل کالونی ہرپن داس کے علاوہ کہیں اور پلاٹ ہرگز نہیں لینگے، متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم تھور

چلاس: متاثرین ڈیم تھور ماڈل کالونی ہرپن داس کے علاوہ کہیں اور پلاٹ ہرگز نہیں لینگے، متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم تھور

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس ( شہاب الدین غوری سے ) متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم تھور نے کہا ہے کہ متاثرین ڈیم تھور ماڈل کالونی ہرپن داس کے علاوہ کہیں اور پلاٹ ہرگز نہیں لینگے تھور واپڈا کالونی میں گریڈ ون سے گریڈ پانچ تک کے ملازمتوں میں بغیر ٹیسٹ انٹرویو کے متاثرین کو بھرتی کیا جائے نئے شاہراہ قراقرم کی تعمیر سے قبل نیا معاوضے مقرر کئے جائیں اور سروے میں متاثرین کی کمیٹی کو شامل کیا جائے ان خیالات کا اظہار متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم تھور کمیٹی کے اراکین نمبردار محمد بشیر ، حبیب الرحمن ، ہارون ، دلبر خان ، ادریس ، محمد خان خان بہادر ، مقبول و دیگر نے تھور داس میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ 2011 اور 2012 میں ڈیم کے لئے زمینوں درختوں کی پیمائش کے دوران انتہائی زیادتی کی گئی ہے جس کا ازالہ ضروری ہے انہوں نے کہا کہ 2007 کے دوران کی گئی کرسڈل سروے کو دوبارہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی صرف ان لوگوں نے تشکیل دی ہے جن کے گھر دریا برد ہو رہے ہیں اور مستقبل میں ان کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشہ ڈیم کے لئے سب سے پہلی قربانی ہم نے دی ہے اور اس قربانی کے بدلے ہم صرف اپنے جائز مطالبات کے حل کی استدعا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ 2007 میں کی گئی کرسڈل سروے میں چند لوگوں کے نام ہیں سینکڑوں متاثرین کے نام ہی شامل نہیں کیا گیا ہے اب یہ کہاں جائیں گے انہوں نے کہا کہ زمینوں درختوں کی پیمائش میں زیادتی کی انتہا کی گئی ہے جس کا ابھی تک شنوائی نہیں ہوئی ہے فوری ان جائز مطالبات کا حل نکالنا ہو گا ورنہ بھرپور عوامی قوت کےساتھ شاہراہ قراقرم پر دھرنا دینے پر مجبور ہونگے ۔۔۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔