پھل کی مکھی سے گلگت بلتستان میں انتالیس لاکھ پودے متاثر ہوئے ہیں

چلاس (ڈسٹرکٹ رپورٹر ) محکمہ زراعت دیامر کے زیر اہتمام سی اے بی آئی کے تعاون سے چلاس کے زمینداروں کے لئے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ شرکا سے اظہارخیال کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت دیامر عبدالصدیق ،ڈاکٹر سہیل ،محمد ذاکر و دیگر نے کہا کہ امریکہ یورپ اور دوسرے ممالک میں حفظان خوراک کے میعار پر توجہ میں اضافہ ہوا ہے۔ عوامی حفظان خوراک کا میعار باضابطہ قانون سازی کے زریعے لاگو کیا گیا ہے۔

t fly

انہوں نے کہا کہ پھلوں ، سبزیوں کی پیداواری مرحلے میں ضرر رساں کیڑوں سے محفوظ کرنا پھل کی مکھی ،کاڈلنگ ماتھ، بلیک سپاٹ ، اور کینکر وغیرہ پر قابو پانے کو اختیار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھل کی مکھی نامی کیڑے نے گلگت بلتستان میں انتالیس لاکھ پودے متاثر ہوئے ہیں جس میں سات لاکھ پھلدار اور بائیس لاکھ غیر پھلدار پودے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زمینداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سبزیوں اور پھلوں کی نت نئی بیماریوں کے حوالے سے معلومات حاصل کریں تاکہ کوئی بھی پھل اور سبزی ضائع نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ زمینداروں کو چاہئے کہ وہ سبزی اور پھلوں کو زیادہ سے زیادہ اگائیں۔ منڈی سے رابطے کے ساتھ ساتھ اچھے پیداوار یقین بنائیں تاکہ زمیندار معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ورکشاپ میں جو بھی معلومات حاصل کر سکیں وہ گھر گھر پہنچا دیں تاکہ یہ پیغام ہر زمیندار تک پہنچ سکیں ۔۔۔۔

آپ کی رائے

comments