متنازعہ علاقوں‌کے ترقیاتی منصوبوں‌کو استصوابِ‌رائے سے مشروط نہیں‌کیا جاسکتا، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد (فدا حسین )دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے گلگت بلتستان اور کشمیر کے حوالے سے وزارت امور کشمیر کے ساتھ مل کر صحافیوں کو بریفنگ دینے کا اعلان کیا ہے ۔یہ اعلان انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کیا۔ترجمان نے چیف سیکریڑی گلگت بلتستان بابر حیات تارڈکے بیان کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ متنازعہ علاقوں کے ترقیاتی کاموں کو استصواب رائے سے مشروط نہیں کی جا سکتا کشمیر گلگت اور بلتستان میں رہنے والوں کو صحت اور تعلیمی ادارئے بنانے کے حوالے سے حکومتِ پاکستان کی پالیسی واضح ہے ۔

واضح رہے کہ چیف سیکریڑی گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ نے وہاں ضلع گانچھے کے دورہ کے موقع پر ضلعی ہسپتال میں گائنی ڈاکٹرکی تعیناتی کو ٹیکس سے مشروط قرار دیتے ہوئے مقامی رہنما سے مبینہ طور پر پوچھاتھا کہ آپ کتنا ٹیکس دیتے ہیں متنازعہ علاقہ کی بات کی انہوں مبینہ طورپر کہا تھا کہ کوئی متنازعہ علاقہ نہیں ہے وفاق آپ کو سو ارب روپے بجٹ دیتا ہے۔ چیف سیکریڑی کے متنازعہ بیان کے حوالے سے گلگت بلتستان کے لوگوں میں کافی رنجش پائی جاتی ہے ابھی گزشتہ روز ہی عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما آغا سید علی رضوی نے اس متنازعہ بیان پر معافی مانگنے تک چین سے نہ بیٹھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ویڈیو گزشتہ ہفتے دفتر خارجہ کے اہلکاروں کو ان کی طرف سے طلب کرنے پر فراہم کر دی گئی تھی۔ اس حوالے سے ترجمان سے پوچھا گیا کہ ان کے خلاف کیا کاروائی کی گئی توترجمان نے اس سوال کا کوئی واضح دینے سے گریزکیا ۔ یاد رہے کہ چیف سیکریڑی کا متنازعہ بیان 10جون کو سامنے آیا تھا تاہم اس وقت سے اب تک صوبائی حکومت کے کسی عہدار نے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے حالانکہ صوبائی وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی نے بیان کا جائز ہ لینے کے ان کے خلاف کاروائی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا اگر چیف سیکریڑی کی بات غلط ہوئی تو ان کے خلاف ضرور کاروائی ہوگی ۔وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے پانچ سال بعد گلگت بلتستان میں ممکنہ ٹیکس کا نفاذ اور آزاد کشمیر کے آئین میں کی گئی ترمیم کے تحت انہیں مبینہ طور پر دفاع ،کرنسی اور خارجہ امور کی اجازت ملنے اور چیف سیکریڑی کے خلاف کسی بھی کاروائی کے بارئے میں سوالات کو وزارت امور کشمیرکا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا اس معاملے پر دفتر خارجہ یا وزارت امور کشمیر میں بریفنگ رکھوائیں گے ۔ تاہم ترجمان نے بریفنگ کی تاریخ اور وقت نہیں بتایا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments