اینٹوں سے دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے اور سینے پر تین گولیاں کھانے والے شہید عبدالصادق کی کہانی

عبدالصادق نے اینٹوں سے دہشت گردوں کو مارا ،ایک کو دبوچ کے رکھا، بائیں بازو میں گولی لگنے تک وہ دہشت گردوں سے لڑتے رہے۔ اُن کے مزاحمت کے دوران سینکڑوں طلباء ہاسٹل سے بھاگ نکلے۔ انہوں نے سینکڑوں خاندانوں کی زندگیاں بچالیں اور تین گولیاں سینے اور ایک بازو پہ کھانے کے بعد شہادت نوش کیا۔

تحریر : شمس الرحمن شمس ؔ ، کوہستان

کوہستان کے مرکزی مقام داسو کے قریب کچے مکان میں رہنے والی آٹھ ماہ کی نوبیاہتا دلہن جس کے ہاتھوں کی مہندی کے گل بوٹے ابھی تازہ ہی تھے کہ نوجوان شوہر کے غم نے اُن کی زندگی کانٹوں سے بھردی۔ تحریک انصاف ضلع کوہستان کے سوشل میڈیا یونٹ کےصدر اور زرعی ٹریننگ سنٹر پشاور میں فیلڈ اسسٹنٹ کی تربیت حاصل کرنے والے سانحہ پشاور زرعی تربیتی مرکز کے شہید طالب علم عبدالصادق کی شادی ہوئے قلیل عرصہ ہی گزرا تھا، شہید نے اپنی ماں کی پسند پر اپنی کزن سے آٹھ ماہ قبل شادی کی تھی۔

شہید عبدالصادق ولد موسیٰ خان قوم صالح خیل یکم فروری 1998 کو داسو کوہستان میں پیدا ہوئے۔ آپ چھ بھائیوں اور تین بہنوں کے امیدوں کے محورتھے ۔ عبدالصادق شہید نے گورنمنٹ سنٹینل ماڈل ہائی سکول داسو سے میٹرک کے بعد صیام کالج کمیلہ کوہستان سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کی ۔ زرعی سنٹرپشاور میں ٹیسٹ دینے کے بعد وہ فیلڈ اسسٹنٹ کی تربیت کیلئے چنے گئے جہاں اُن کے انیس مہینے ہوچکے تھے۔

شہید کے بڑے بھائی قاری عبدالخالق نے بتایا کہ عبدالصادق شہید تمام بھائیوں کی امیدوں کے محور تھے۔ و ہ گھر میں کم بولتے تھے اورانہیں تمام بھائیوں کے مستقبل کی فکر تھی ۔ انتہائی غربت کی حالت میں والد کا انتقال ہوا، گھر میں بمشکل روزی روٹی پوری ہوا کرتی تھی، ایسے میں صادق کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہماری اماں کو یقین تھا کہ بیٹابہت جلد اچھی نوکری حاصل کرکے باقی بہن بھائیوں کا سہارا بنے گا۔ شہید بھائی عبدالصادق کا خواب تھا کہ وہ زراعت میں فیلڈ اسسٹنٹ بنے اور اپنے دیگر کم پڑھے لکھے بھائیوں کو اچھی تعلیم دلواسکے ۔ شہید عبدالصادق سے اہلخانہ کی اُمیدیں وابستہ تھی کہ انہیں خوشحالی لائے گا مگر درندوں کے ہاتھوں بے دردی سے ابدی نیند سوگیا۔

’’میں بھی صادق تُوبھی صادق، نفرت سے بیزار بھی صادق۔۔۔۔الفت کا اظہار بھی صادق، بہتے لہو کا دھار بھی صادق ۔۔۔۔۔تیرا میرا یار بھی صادق‘‘۔

عبدالصادق شہید سے بڑا بھائی عبدالخالق جو کوہستان کے کاروباری مرکز کمیلہ میں ناشتے کا ٹھیہ لگاتاہے یہ کاروبار اُن کے والد سے انہیں منتقل ہواتھا۔ ناشتے کے ٹھئے سے مقامی لوگ اور مسافر ناشتہ کرتے ہیں جس میں ٹھیے والا بڑا گوشت ایک بڑی تھالی میں ڈال کر خالص چربی اور پانی میں پکاتاہے جسے مقامی زبان میں (لو ڑماس) کہتے ہیں۔ عموماً سردیوں میں یہ ناشتہ کوہستان کی پسندیدہ سوغات ہے۔چھ سال قبل جب اُن کے والد طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے تو اُس وقت اُن کے پانچ بھائیوں کی عمریں بارہ سالوں سے کم تھی جبکہ بڑا بھائی عبدالرحمن پولیو کے حملے سے معزورہوچکا تھا۔ عبدالخالق کو والدکی وصیت تھی کہ وہ ناشتے کے اس ٹھیئے کے ذریعے چھوٹی بہن بھائیوں کی کفالت کرے ۔ وصیت کے مطابق عبدالخالق نے کم عمری میں ابو کی ناشتے کے ٹھیئے کو سہارا دیا اور گھر کے تمام افراد کا گزر بسر کا ذریعہ اُس ناشتے کے ٹھہیے کو برقرار رکھ کر چھوٹے بھائیوں کو مڈل میٹرک تک تعلیم بھی دلوادی۔عبدالخالق خود حافظ قرآن ہیں اور والد کی میراث والی ناشتے والی ٹھیہے کے ذمہ دار ہیں ۔

عبدالصادق کی شہادت پر بات کرتے ہوئے قاری عبدالخالق نے کہا کہ بھائی نے جان تو دیدی مگردہشت گردوں کا خوب مقابلہ کیا،ابتداء میں اینٹوں سے دہشت گردوں کو مارا ،ایک کو دبوچ کے رکھا، بائیں بازو میں گولی لگنے تک وہ دہشت گردوں سے لڑتے رہے،اُن کے مذاحمت کے دوران سینکڑوں طلباء ہاسٹل سے بھاگ نکلے،انہوں نے سینکڑوں خاندانوں کی زندگیاں بچالیں تین گولیاں سینے اور ایک بازو پہ کھانے کے بعد شہادت نوش کیا۔

شہید عبدالصادق کے بھائی کا کہناتھا کہ تاحال صوبائی حکومت کی جانب سے اُن کے اہلخانہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

عبدالصادق سے چھوٹے بھائی اصیل ارمانی نے کہا کہ شہادت کی رات انہوں نے مجھے فیس بک پہ پیغام بھیجا کہ’’ آٹھ دسمبر کو گھر آرہاہوں ‘‘۔ اصیل ارمانی نے کہا ہمارے لئے یہ بات قابل فخر ہے کہ ہمارا بھائی نیک مشن میں شہید ہوا۔ بدلہ دینے والا اللہ ہے اُسی کے بھروسے صبر کئے بیٹھے ہیں ۔

قاری عبدالخالق نے بتایا کہ شہید عبدالصادق کے ساتھ کمرے میں موجود دوست کے مطابق ’’جب برقعہ پوش دہشت گردوں نے چھوٹے گیٹ سے اندر داخل ہوکر دھماکہ کیا تو سب سے پہلے عبدالصادق کمرے سے باہر نکلے اور ساتھیوں کو آیت الکرسی کا ورد کرنے کا کہا اور خود بھی ورد کرتے رہے ‘‘،جب دہشت گرد فائرنگ کرتے کمروں کے قریب پہنچے تو انہوں نے اینٹوں سے دہشت گردوں کو مارنا شروع کیا۔ بائیں بازو میں گولی لگنے تک وہ لڑتا رہا اُس کے بعد تین گولیاں اُن کے جسم پر لگی تو وہ زمین پر گر پڑا اور جام شہادت نوش کیا۔عبدالخالق نے کہا کہ د ہشت گردوں سے ہماری نہ تو کوئی رشتہ داری ہے اور نہ ہی دشمنی مگر بھائی کی شہادت سے یہ حوصلہ ملا کہ شہید صادق کی صورت میں ایسے کئی سپورت پیدا ہونگے جوتعلیم اور انسانیت کی خدمت کا درس دینگے اس مشن سے ہٹانے والاخو د ایک دن مٹ جائیگا۔

عبدالصادق شہید پی ٹی آئی کے کوہستان سے سوشل میڈیا کے ضلعی صدر تھے۔ وہ پارٹی کے بیشترجلسوں میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے موقف کا بھرپوردفاع کرتے تھے۔ اُن کے بڑے بھائی قاری عبدالخالق نے بتایا کہ انصاف اور میرٹ کی بالادستی کیلئے جدوجہد شہید عبدالصادق کے خون میں شامل تھی ۔ اسی جذبے پروہ سوشل میڈیا کیلئے کوہستان سے تحریک انصاف کے صدربھی چنے گئے تھے ۔ عمران خان اور اُن کی تحریک و نظریے کا حصہ تھے۔ چھوٹے بھائی اصیل ارمانی نے کہا کہ وہ ’’شہید بھائی کے مشن کی تکمیل کریں گے‘‘۔دوسری جانب شہید عبدالصادق کے فیس بک پروفائل پر تیس نومبر کو جاری سٹیٹس سے معلوم ہوتاہے کہ وہ اپنی پارٹی قیادت سے ناراض تھے۔ انہوں نے لکھا تھا’’تحریک انصاف سوشل میڈیا ہزارہ نے مطالبات کی منظوری تک ہزارہ کے تمام رہنماوں اور تحریک انصاف کے تمام ونگز کا بائیکاٹ جاری رکھنے کا فیصلہ کیاہے‘‘

اُن کی شہادت کے فوری بعد اُن کے ایک ہم نام عبدالصادق کاکڑ نے اپنی ٹائم لائن پہ اُن کی تصویر کے ساتھ یہ نظم لکھ کر شائع کی۔

’’میں بھی صادق تُوصادق، نفرت سے بیزار بھی صادق۔۔۔۔۔۔۔۔۔الفت کا اظہار بھی صادق، بہتے لہو کا دھار بھی صادق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیرا میرا یار بھی صادق‘‘۔

اُن کی شہادت کے فوری بعد سینکڑوں فیس بک دوستوں نے اُن کی یاد میں اپنے تاثرات سے سماجی ویب سائیٹ پر آگاہی دی اور اپنے دکھ و غم کا برملا اظہار کیا۔ تحریک انصاف ہزارہ ڈویژن کے سوشل میڈیا صدر سعود یوسفزئی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے تمام ونگز سے ہمدردی کی اپیل کے ساتھ شہدا کے ورثاء کی مالی معاونت کا بھی مطالبہ کیا۔

شہید عبدالصادق کی نماز جنازہ داسو کوہستان کے مدنی مسجد میں ادا کی گئی جہاں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔


کوہستان سے تعلق رکھنے والے پشاور کے صحافی سجمل یودن نے شہید عبدالصادق پرٹی وی پیکج کا آغاز اس شعر سے کرکے دہشت گردوں کو سبق آموز پیغام دیا۔۔ ’’ا بھی ڈوبا نہیں ہوں میں ،میرا دشمن تو کیا جانے؟ میں تارا ہوں فلک پر جگماؤنگا اندھیرے میں ‘‘۔

شہید عبدالصادق کے بھائی اُن کی زندگی پر بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوئے اور کہنے لگے کہ تحریک انصاف اور حکومتی عدم توجہی و بے رُخی پہ افسوس ہے۔ حکومت اچھی رعایا کی مثال قائم کرکے سانحے کے تمام شہدا ء کی دلجوئی کرے۔ چونکہ ہماری امیدوں کے محور اب اس دُنیا میں نہ رہے ، شہداء کی اہلخانہ کی دلجوئی کیلئے اُن کے دیگر بھائیوں میں سے کسی کو ایک کو سرکاری ملازمت دی جائے ۔ قاری عبدالخالق نے کہا کہ شہیدبھائی نے دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے سینے پہ گولی کھاکر سینکڑوں جانیں بچائیں وہ بھاگے نہیں جس پہ فخر ہے۔اُن کا کہناتھا کہ تاحال صوبائی حکومت کی جانب سے اُن کے اہلخانہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

کوہستان کے مرکزی مقام داسو کے قریب کچے مکان میں اپنی ضعیف ماں کے ہمراہ کنبے کی شکل میں رہنے والے تمام چھ بھائی ہرآنے والے کو شہید کی زندگی کی روداد سناتے ہیں۔ نوجوان جگر گوشے کی شہادت کی ناگہانی خبر سن کر ماں تو سکتے میں گئی، ماں تو اب شہید لخت جگر کی زیر استعمال اشیاء کو چومنے رونے میں مصروف ہے مگر بھائی حیران و پریشان ہیں کہ وہ اپنی ماں کے لال اور نوبیاہتا دلہن کے خواب کا خون کس کے ہاتھ تلاش کریں ؟

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments