شادی ایک عالم دین کی

محمد جاوید حیات

کائنات کی شہزادی خاتون جنت اور جنت کی خواتین کی سردار کے لئے فخر موجودات ﷺکے پاس رشتے آئے ۔۔محسن انسانیت ﷺ نے سکوت اختیار کیا پھر رشتہ پسند کیا ۔۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ بیٹی کے لئے مناسب رشتہ قبول کرنا اسلام میں ہے کائنات کی شہزادی کے رشتے کے موقع پر شیر خداؓ سے پوچھا گیا کہ ولیمے کے لئے کچھ ہے ۔۔جواب آیا کہ کچھ نہیں ہے ۔۔زرہ رہن رکھا گیا ۔۔ولیمے کا بندوبست ہوا ۔۔ہم اس کے پیروکار ہیں ہمیں اس بات پہ فخر ہے ۔۔یہ ہمارے ماڈل ہیں ۔۔ہمارے معاشرے میں جب رشتے ہوتے ہیں تو ہم یہ سب کچھ بھول جاتے ہیں کہ اس سمے ہمارے خدا کا کونسا حکم ہم پہ لاگو ہے ۔۔ہمارے بنی ﷺ کی کس سنت کا اتباع کرنا ہے ۔۔اس لئے ہمیں اس بے ہنگم شور اور بے ربط اجتماع میں وہ معیار ڈھونڈنا پڑتا ہے ۔۔

میرے محترم دوست اور بھائی کی شادی میں وہ معیار مجھے مل گیا ۔۔مولانا نثار احمد ایم فل سکالر ہیں اور دونوں علوم دین و دنیا سے خبر دار بھی ۔۔مرنجان مرنج ، ہنس مکھ ،زندہ دل ، صاحب وجاہت ،مہذب و محترم ،حلیم الطبع ،بذلہ سنج ،مونس ،صاف گو اور شگفتہ دہن ،با کردار ،اللہ کا کلام دل میں ۔۔نثار کی زات اور شخصیت کے اور حوالے بھی ہیں ۔۔ان کی شادی ایک عالمہ اور معلمہ سے طے پائی تھی۔۔مجھے پتہ نہیں کیوں یہ احساس ستانے لگا کہ اس شادی میں سنت رسول ﷺ کی پابندی ہوگی ۔۔خوشیاں اللہ کے دین کے مطابق ہونگی ۔۔معیار انسانیت جاگ اُٹھے گا ۔۔سنت نبوی ﷺ کی خوشبو ہر طرف پھیلے گی ۔۔دس دسمبر کو شادی کی تاریخ طے تھی ۔۔ہم سب مدعو تھے ۔۔دس بجے کاشانہ نثار چلے وہاں پہ مختصر نشست تھی معززیں علاقہ جمع تھے ۔۔علمائے کرام دوست احباب ساتھی رشتہ دار ۔۔ڈی ای او محکمہ تعلیم ا حسان الحق صاحب شمع محفل تھے اچھا لگا کہ ایک استاد کی خوشی میں محکمے کے سب سے بڑے آفیسر کا موجود ہونا اچھی روایت ہے ۔۔ گھنٹے بعد روانگی تھی ۔۔ہم مختصر قافلہ بنے ۔۔چند گاڑیاں چند گنے چنے معتبر لوگ ۔۔پروفیسر سیف الانام کے ساتھ میرا سفر ٹہرا ۔۔پروفیسر شاہد کے گھر جانا تھا ۔۔کوئی ہاؤ ہو نہیں کوئی شور شرابا نہیں ہر ایک کے چہرے پہ ہلکی سی مسرت ۔۔ایک سنت کا اتباع ۔ایک خوشی کی تکمیل ۔ایک فرض کا نباہ ۔۔خطیب شاہی مسجد مولانا خلیق الزمان ہما رے میزبان تھے ۔۔آپ کا بر خوردار مولانا خذیفہ خالیق ہمارے میزبان تھے ۔۔پروفیسر شاہد سفید ٹوپی میں چاند لگ رہا تھا ہمارے میزبان تھے ۔۔جب کمرے میں داخل ہوئے تو وہاں پہ پھر علم و کردار کے چاند تارے جمع تھے ۔۔یہ تھے چترال کے جید عالم دین مولانا حبیب اللہ صاحب ۔۔یہ تھے حضرت مولانا محمد یوسف صاحب ۔۔یہ تھے مولانا روم صاحب ۔۔یہ تھے اکاونٹنڈ قادر صاحب ۔۔یہ تھے پروفیسر سیف ۔۔ان کی خوبصورت باتوں ۔۔انداز ۔۔اور سنجیدگی سے ماحول معطر ہورہا تھا ۔۔

یہ شہزاد ندیم محکمہ تعلیم چترال کے ایک فعال اور قابل آفیسر جس کی شخصیت کی خوشبو اپنی جگہ ۔۔۔شہزاد ایک نوجوان ،ایک عمل رو ،ایک جدت طراز ،ایک طرہ شناس ،پرگو مگر خاموش سمندر ،سوچ کی لو۔۔ سمجھنے کی حس سے مالامال ،کراری طبیعت ،کبھی کلمو کلمو کہنے کو ضروری نہ سمجھے ۔۔جو درست وہی راست ۔۔شہزاد اپنی زات میں انجمن ہیں مجھے آفس سے باہر بھی بہت بھلے لگتے ہیں ۔۔ یہ تھے چترال میں پولو کی دنیا کے شاہنشاہ صوبیدار میجر مقبول احمد۔۔ یہ تھے ریٹایرڈ صوبیدار محمد زمان صاحب جو نثار صاحب کے والد گرامی ہیں ۔۔ یہ ہیں محمد وسیم سابق پرنسپل ہائی سکول بمبوریت۔۔ یہ عزیزالرحمان ۔۔یہ ہیں شفیق احمد بمبوریت ۔۔۔۔ یہ ہیں شانی کیمرے کی دنیا اس سے آباد رہتی ہے ۔۔ یہ ہیں مختار احمد۔۔کتنے اور تارے تھے جو جلمل چمکتے تھے ۔۔ ایسی محفلوں میں بحثیں ہوتی ہیں ۔۔تکرار کے بعد توتکار تک نوبت پہنچتی ہے ۔۔مگر یاں پہ سما ہی کچھ اور تھا ۔۔۔ یوں زعفران زار محفلیں کبھی کبھی جما کرتی ہیں ۔۔جس میں محبت اور احترام خوشبو بن کر پھیل جائے ۔۔مختصر سی نشست اور پر تکلف ظہرانے کے بعد روانگی ہوئی ۔۔برات میں وہی شائستگی اور سادگی ۔۔سادگی اسلام کی روح ہے ۔۔خوشی غمی دونوں اسلام کی شان کے مطابق ہوں تب آسانیاں ہیں ۔۔اسلام دین فطرت ہے ۔۔ہم لوگوں نے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی زندگی کو اپنے لئے عذاب بنا رکھا ہے ۔۔شادیوں میں دونوں خاندانوں کی خوشیاں شامل ہوتی ہیں ان خوشیوں میں اضافے کا نام شادی ہے کیوں کہ اس کو ’’خانہ آباد ی ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔۔آج ہم نے اسی خوشی کو اپنے لئے عذاب بنا رکھا ہے ۔۔جہیز کا عذاب ۔۔ولیمے کا عذاب ۔۔اونچ نیچ کا عذاب ۔۔زات پات کا عذاب ۔۔خاندان کا عذاب ۔۔انہی عذابوں میں کتنی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں ۔۔اگر عین اسلامی شادی ہو تو کبھی کسی کی شان اور مقام پہ فرق نہیں آئے گا ۔۔بلکہ اس میں اللہ کی مدد شامل ہوگی اور سنت رسول ﷺ کی پیروی سے دنیا و آخرت میں سرخروئی ہوگی ۔۔نثار کی شادی اسلامی تھی اس لئے مزہ آیا ۔۔یوں اور بھی سادہ ہونا چاہئے ۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments