ضلع شگر میں بھی شٹرڈاؤں ہرٹا ل

شگر(نامہ نگار) گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع شگر میں بھی عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کی کال پر مکمل شٹرڈاؤں ہرٹا ل کی گئی۔ صبح سے تمام دکانیں ،بازار،ہوٹلز،مارکٹیں،اور کاروباری ،مراکز بند رہی۔ جبکہ ٹرانسپورٹروں کی جانب سے اپنے گاڑیوں کو بند رکھنے کی وجہ سے سڑکیں سنسان رہی۔

جبکہ حسینی چوک پر بازار کمیٹی شگر کی جانب سے دھرنا دیا گیا۔جہاں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بازار کمیٹی شگر کے صدر وزیر محمد نسیم ،نائب صدر محمد بشارت اور سیکریٹری اطلاعات محمد ظہیر عباس نے کہا کہ صوبائی حکومت ٹیکس کے معاملے پر عوام میں پھوٹ ڈالنے سے باز رہے۔گلگت بلتستان کے بچہ بچہ ٹیکس کے معاملے پر متحد ہے۔ جس کا عملی مظاہرہ ان ہڑتال اور مظاہروں سے واضح ہوگئے ہیں۔انہوں نے گلگت انتظامیہ کی جانب سے دکانداروں کو دی جانے والی دھمکیوں پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اور انتظا میہ اس طرح اوچھی ہٹھکندوں کے ذریعے دکانداروں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کو ڈرا نہیں سکتے ہیں۔لہذا وہ اپنے مذموم مقاصد سء باز رہے۔

مقررین نے صوبائی حکومت کی جانب سے ٹیکس ایڈاپشن ایکٹ 2012کو عوام دشمن پالیسی قرار دیتے ہوئے متنازعہ خطے میں ٹیکس کی نفاز کو غیر آئینی قراردیا۔ اور کہا کہ آئینی حقوق کی حصول تک گلگت بلتستان کے بچہ بچہ ٹیکس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونگے۔جب تک یہ ظالمانہ ایکٹ واپس نہیں لیتا ۔ہمار ااحتجاج جاری رہے گا۔

آپ کی رائے

comments