شگر: ایس پی شگر کی قیادت میں مدرسے میں آگ لگنے کی اصل وجوہات جاننے کیلئے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیا گیا

شگر(کرائم رپورٹر) شگر میں مسلک نوربخشیہ کی مدرسے میں رات کو لگنے والی آگ سے مدرسہ جل کر خاکستر ہوگئے۔اہ خانقاہ معلی سے متصل مدرسہ نوربخشیہ میں جمعہ کی صبح 3بجے کے قریب اچانک آگ لگ گئی۔ آگ نے مدرسہ کی بلڈنگ کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔

عین شائدین کے مطابق آگ مدرسے کی بالائی منزل میں لگی تھی جہاں تعمیرات کا کام چل ریا تھا۔ آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت آگ کو بجھانے کی کوشش کرتے رہے۔تاہم 4گھنٹے بعد اسکردو سے فائز بریگیڈ کی گاڑی نے پہنچ کر آگ پر مکمل قابو پالیا۔

آگ لگنے کے فورا بعد شگر پولیس ، اور انتظامیہ جائے وقوع پر پہنچ گئے۔ ڈپٹی کمشنر شگر ذاکر حسین اور ایس پی شگر سید الیاس نے امدادی کاموں کی نگرانی کی۔

یاد رہے کہ ضلع شگر میں اس سال کے دوران7 سے زیادہ آگ لگنے کے واقعات رونما ہوے ہیں۔ ارندو، الچوڑی، سلدی، تھگموں میں آ گ سے9 سے زائد گھر او رکئی دکان خاکستر ہو چکے ہیں۔

ایس پی شگر کی قیادت میں آگ لگنے کی اصل وجوہات جاننے کیلئے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیا ہے جوہر زاویے سے اس حادثے کی تحقیقات کرینگے اور اصل حقائق عوام کے سامنے لائیں گے۔

شگر انتظامیہ کی جانب سے مدرسے میں لگنے والی آگ کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی پر مسلک نوربخشیہ کے لوگوں نے احتجاج کرنے کا پروگرام منسوخ کردیا۔ شگر سنٹر میں مسلک نوربخشیہ کی مدرسے میں گذشتہ رات لگنے والی آگ کے بعد لوگوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تخریب کاری کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا ۔ اسی سلسلے میں بعد از نماز جمعہ احتجاج کی کال دی تھی۔ تاہم ڈپٹی کمشنر شگر ذاکرحسین ،ایس پی سید الیاس حسین ، سابق صوبائی وزیر راجہ اعظم خان،سابق ممبر ضلع کونسل ھاجی وزیر فداعلی نے ان کے عمائدین اور پیر نوربخشیہ شگر سید حسن شاہ اور دیگر مذہبی رہنماؤں کیساتھ طویل مذاکرات کی۔ جس کے نتیجے میں احتجاج کی کال واپس لی گئی۔

نوربخشیہ برادری سے اظہار یکجہتی کیلئے خانقاہ معلی پہنچ گئے جہاں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ شگر سید طہٰ الموسوی، امام جمعہ اہلسنت مولوی عبدالقیوم،پیر نوربخشیہ سید حسن شاہ،سید محمد عراقی،حاجی وزیر فداعلی،راجہ محمد اعظم خان،عمران ندیم ،ڈپٹی کمشنر شگر ذاکر حسین،ایس پی شگر سید الیاس حسین نے کہا کہ شگر ہمیشہ سے مذہبی لحاظ سے پرامن علاقہ رہا ہے۔ یہاں رہنے والے تمام مسالک کے افراد ہمیشہ امن اور بھائی چارگی کیساتھ رہ رہے ہیں۔ کسی مسلک کو دوسرے کو کبھی کوئی شکایات نہیں رہا۔ اس واقعے میں کوئی شفاف تحقیقات کیلئے ٹیم تشکیل دی گئی۔ جو اس واقعے مکمل شفاف تحقیقات کررہے ہیں۔اگر کسی قسم کی کوئی شرارت یا تخریب کاری ثابت ہوئی تو اسے عبرت ناک سزا دی جائے گی۔

اس موقع پر شیعہ نوربخشیہ اور سنی بھائی بھائی کا نعرہ لگایا گیا۔جبکہ ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments