انجمن تاجران اور ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ پمفلٹ میں حقائق کے بر خلاف ٹیکسز کا ذکر کیا گیا ہے، اورنگزیب ایڈووکیٹ وزیر قانون و پارلیمانی امور

گلگت (پ ر) وزیر قانون و پارلیمانی امور اورنگزیب ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کہا ہے کہ انجمن تاجران ،ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ پمفلیٹ میں صوبائی حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے عائد کردہ جتنے بھی ٹیکسز کا ذکر کیا گیا درحقیقت وہ گلگت بلتستان سیلف ایمپاورنمنٹ اینڈ گورننس آرڈر کے شڈول 4جوکہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی قانون سازی کی لسٹ ہے سے نقل کیا گیا ہیں۔ یہ ٹیکسز قانون ساز اسمبلی کے اختیار میں آتا ہے اور بحیشت وزیر قانون تاحال صوبائی حکومت کی جانب سے پمفلٹ کے مطابق جو بھی تفصیلات دی گئی ہے کسی بھی سبجیکٹ پہ قانون سازی تو دور کی بات ہے قانون سازی کے لئے ڈرافٹ بل پر بھی نہ کام ہو ا ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت کی جانب سے مستقبل میں ایسی قانون سازی کی نیت یا ارادہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران نے جاری پمفلٹ میں سریل نمبر ایک سے 14 میں جن ٹیکسز کا ذکر کیا گیا وہ گورننس آرڈر شیڈول فورتھ قانو ن سازی کی شق نمبرات میں 4,5,6,8,15,18,21,31,اور 44تا 47کو نقل کرکے تاجران اور عوام گلگت بلتستان کو منفی اور جھو ٹا پرو پیگنڈہ کیا گیا ہے جبکہ حقیقتا ان تمام قانون سازی کے اختیارات کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے کسی قسم کا قانو ن سازی کا بل نہ تو صوبائی کابینہ میں پیش ہوا ہے اور نہ ہی قانون سازی اسمبلی میں ان تمام ٹیکسز کے بابت کوئی بل پیش کیا گیا۔

جبکہ انجمن تاجران اور ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ پمفلٹ میں حقائق سے منفی ٹیکسز کا ذکر کیا گیا ہے اس کے سیریل نمبر 15میں لو کل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت جو چار جز لگے تھے وہ معطل ہوچکے ہیں ۔ جوکہ قانون ساز اسمبلی کی قانون سازی لسٹ سیریل نمبر 9کے تحت 2014میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ منظور کیا گیاتھا اس کو بھی وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے انجمن تاجران اور ایکشن کمیٹی سے ملاقات میں معطل کیا ہے۔

عوام کو ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کی جانب سے جاری کردہ پمفلٹ میں منفی اور حقائق سے ہٹ کے جو ٹیکسز کا ذکر کیا گیا ہے مندرجہ بالا وضاحت کے بعد گلگت بلتستان کے باشعور عوام خود اس کا فیصلہ کرے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments